உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شہریت ترمیمی قانون : مظاہرہ کررہے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ پر پولیس نے برسائی لاٹھیاں ، کئی طلبہ زخمی

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دروازے پر پولیس اہلکار تعینات کردئے گئے ہیں ۔ تصویر : پی ٹی آئی / نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دروازے پر پولیس اہلکار تعینات کردئے گئے ہیں ۔ تصویر : پی ٹی آئی / نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے جامعہ نگر میں شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کیا ۔ اس دوران طلبہ اور پولیس میں جھڑپ ہوگئی ۔

    • Share this:
      جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی جمعہ کو طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپ کا میدان بن گیا ، جہاں طلبہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی طرف جانا چاہ رہے تھے ۔ پولیس اور طلبہ کے درمیان ہوئی جھڑپ کے 50 طلبہ کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب مظاہرین کو یونیورسٹی کے دروازہ پر روک دیا گیا ۔ مظاہرہن کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے چھوڑے ۔ اس جھڑپ میں درجنوں طلبہ زخمی بھی ہوگئے ہیں ۔

      پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ جامعہ کے طلبہ پارلیمنٹ تک جانے کی کوشش کر رہے تھے ، لیکن طالب علموں کو یونیورسٹی کے احاطے کے باہر ہی روکنے کی کوشش کی گئی ۔ لیکن طلبہ مشتعل ہو گئے۔اس دوران طلبہ نے پولیس پر پتھر پھینکے۔ احتجاج کررہے طلبہ نے بیريكیڈ توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی ۔ اس پرتشدد جھڑپ میں 12 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ، جن میں سے دو کو آئی سی یو میں رکھا گیا ہے ، جہاں ان کی حالت مستحکم ہے۔

      طلبہ کا دعوی : 50 سے زائد طلبہ ہوئے زخمی

      وہیں دوسری طرف طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں روکنے کے لئے پولیس نے پہلے پانی کی بوچھار کی اور پھر آنسو گیس کے گولے چھوڑے ۔ اس کے بعد پولیس نے طالب علموں پر لاٹھی چارج کیا ، جس میں 50 سے زائد طلبہ زخمی ہوئے ہیں ۔ زخمیوں کو ہولی فیملی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

      شہریت ترمیمی بل کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کا احتجاج ، پولیس سے جھڑپ ، 26 زخمی

      طلبہ کا جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان

      طلبہ کا کہنا ہے کہ آئین کو بچانے کے لئے ان کی جدوجہد مسلسل جاری رہے گی۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جامعہ گرلز ہاسٹل کی طالبات نے گزشتہ شام احتجاج کیا تھا ۔ بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات آج یونیورسٹی کے مرکزی دروازے پر جمع ہو کر پارلیمنٹ کی جانب روانہ ہوئے ، تب ہی مرکزی دروازے سے کچھ دوری پرپولیس کے ساتھ ان کی جھڑپیں ہوئیں ۔



      سنٹرل یونیورسٹی ٹیچر ایسوسی ایشن نے لاٹھی چارج کی مذمت کی

      اس دوران سنٹرل یونیورسٹی ٹیچر ایسوسی ایشن نے جامعہ کے طلبہ پر لاٹھی چارج کی سخت مذمت کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر راجیو رے اورسکریٹری ڈی کے لوبيال نے کہا کہ پولیس نے پرامن مظاہرہ کر رہے طلبہ پر لاٹھی چارج کرکے انہیں زخمی کیا ۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالب علموں کے ساتھ بھی پولیس نے ایسا ہی کیا ۔ جمہوریت میں سب کو احتجاج کا حق ہے۔

      نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ 

       
      First published: