உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی میں مسلمانوں نے پیش کی مثال، مندر بچانے کے لئے پہنچے ہائی کورٹ، پھر ایسے جیتی قانونی لڑائی

    دہلی میں مسلمانوں نے پیش کی مثال، مندر بچانے کے لئے پہنچے ہائی کورٹ، پھر ایسے جیتی قانونی لڑائی

    دہلی میں مسلمانوں نے پیش کی مثال، مندر بچانے کے لئے پہنچے ہائی کورٹ، پھر ایسے جیتی قانونی لڑائی

    Muslims Save Temple: راجدھانی دہلی کے مسلمانوں نے جامعہ نگر کے نور نگر واقع ایک مندر کی حفاظت کے لئے دہلی ہائی کورٹ میں قانونی لڑائی لڑ کر مثال پیش کی ہے۔ دراصل کچھ وقت پہلے زمین پر قبضہ کرنے کے ارادے سے مندر کی دیکھ بھال کرنے والے نے برابر میں واقع دھرمشالہ کے ایک حصے کو توڑ دیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: راجدھانی دہلی کے مسلمانوں (Muslims Save Temple) نے جامعہ نگر کے نور نگر واقع ایک مندر کی حفاظت کے لئے دہلی ہائی کورٹ (Delhi High Court) میں قانونی لڑائی لڑ کر مثال پیش کی ہے۔ دراصل کچھ وقت پہلے زمین پر قبضہ کرنے کے ارادے سے مندر کی دیکھ بھال کرنے والے نے برابر میں واقع دھرمشالہ کے ایک حصے کو توڑ دیا تھا۔ جبکہ جامعہ نگر وارڈ 206 کے صدر سید فیض العظیم (عرشی) کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سنجیو سچدیوا کی بینچ نے کہا کہ لے آوٹ پلان کے حساب سے مذکورہ مقام پر مندر ہے اور اس پر انکروچمنٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

      اس کے علاوہ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی حکومت، پولیس کمشنر، ساوتھ دہلی میونسپل کارپوریشن اور جامعہ نگر کے تھانہ انچارج کو حکم دیا، ’وہ یقینی بنائیں کہ مستقبل میں مندر احاطے میں کوئی غیر قانونی انکروچمنٹ نہیں ہوگا۔ وہیں لا اینڈ آرڈر کی بھی کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ وہیں دہلی پولیس اور ساوتھ ایم سی ڈی نے عدالت کو مندر پر کسی بھی طرح کا قبضے نہیں ہونے دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

      جانیں کیا ہے پورا معاملہ

      اس معاملے میں سید فیضل عظیم (عرشی) کے وکیل نتن سلوجا کی طرف سے عدالت میں کہا گیا کہ مندر کی دھرمشالہ کو راتوں رات منہدم کرکے زمین کو برابر کردیا گیا، تاکہ بلڈروں کے ذریعہ اس پر قبضہ کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ دھرمشالہ کو توڑنے سے متعلق تصاویر پیش کی گئی ہیں۔ وہیں دہلی حکومت کے شہری ترقیات کی ویب سائٹ پر دستیاب لے آوٹ پلان کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں نور نگر ایکسٹینشن جامعہ نگر میں مذکورہ مقام پر مندر ہے۔

      وہیں سید فیضل عظیم (عرشی) کی طرف سے دائر عرضی میں کہا گیا تھا کہ جامعہ نگر کے نور نگر واقع مندر کی دھرمشالہ زمین ماکھن لال ولد جوہری لال کی تھی۔ جبکہ اس مندر کو 1970 میں ماکھن لال نے تعمیر کروائی تھی۔ مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کے باوجود بھی یہاں 50 سال سے لوگ پوجا کرنے آتے تھے۔ اس علاقے میں صرف 40 سے 50 ہندو فیملی ہی اب رہتے ہیں۔ جبکہ مندر کی دیکھ بھال کرنے والے نے پہلے دھرمشالہ اور پھر مندر کو بھی منہدم کردیا، تاکہ وہ رہائشی کامپلیکس بنا سکے۔ عرشی نے اسی سال 20 ستمبر کو پولیس اور ساوتھ ایم سی ڈی کو بھی شکایت دی تھی، لیکن جب وہاں سے کارروائی نہیں ہوئی اور مدد نہیں ملی تو ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: