ممبئی : مدارس کے سفراء اب زکوٰۃ لینے کے لیے نہیں کرپائیں گے دھوکہ دہی

زکوٰۃ دینے سے پہلے آپ کوخود تحقیق کرنی چاہیے ۔ تاکہ آپ کی زکوٰۃ کی رقم مستحق افراد تک پہنچ سکے۔

May 14, 2019 02:08 PM IST | Updated on: May 14, 2019 02:12 PM IST
ممبئی : مدارس کے سفراء اب زکوٰۃ لینے کے لیے نہیں کرپائیں گے دھوکہ دہی

رمضان کے مبارک مہینے میں مسلمان زکوٰۃ کی ادائیگی کرتا ہے۔ تاہم زکوٰۃ دینے سے پہلے آپ کوخود تحقیق کرنی چاہیے ۔ تاکہ آپ کی زکوٰۃ کی رقم مستحق افراد تک پہنچ سکے۔ تاہم اسی کے ساتھ رمضان المبارک اوربقرعید کے موقع پرسماج میں زکوٰۃ مافیا کا کاروباربھی عروج پرپہنچ جاتاہے۔ کئی افراد فرضی مدارس کے نام پر چندے جمع کرنے کے لیے صرف چند ہزار روپئے خرچ کرکے ایک بل بک کی اشاعت کرواتے ہیں اورمساجد میں جاکرعام لوگوں سے زکوٰۃ کے نام پرمدارس کا مالی تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ تاہم کسی بھی مدارس کو چندہ یا زکوٰۃ دینے سے قبل آپ اپنے طورپرتحقیق کرلیں۔ مدرسہ کے ناظم کون ہیں؟ مدرسہ کہاں ہے؟ مدرسہ میں کتنے طلبا زیرتعلیم ہیں؟ مدرسے میں طلبا کو کن چیزوں کی ضرورت ہے؟ جیسے امور کا جائزہ لینے کے بعد ہی آپ زکوٰۃ دیں

جمعیت العلماء مہاراشٹرنے ممبئی میں ایک انوکھی پہل کی ہے۔ممبئی کے صاحب ثروت مسلمان بڑی تعداد میں زکوٰۃ نکالتے ہیں۔ زکوٰۃ کی حصولیابی کیلئے شمالی ہند کے مدارس کے سفیر بڑی تعداد میں ممبئی کا رخ کرتے ہیں ۔ مدارس اسلامیہ کے سفیروں کے ذریعے ہونے والے فراڈ اور دھوکہ دہی کی روک تھام کیلئے جمعیت العلماء مہاراشٹر تحقیق کے بعد تصدیق نامہ فراہم کرتی ہے۔ ہمارے نمائندے محی الدین نے اس کا جائزہ لیا-

Loading...

Loading...