مدنی کنبہ نے جمعیتہ علمائے ہند کو بی جے پی وآرایس ایس کے سامنے کردیا خود سپرد، کس نے لگایا یہ سنگین الزام

جمعیتہ علمائے ہند کی جانب سے کشمیرسے آرٹیکل 370 کی منسوخی اورمولانا محمود مدنی کی آرایس ایس سربراہ موہن بھگوات سے ملاقات کے بعد ملی حلقوں میں جمعیتہ علمائے ہند کو تنقید کا نشانہ بنایاجارہاہے۔

Sep 19, 2019 02:11 PM IST | Updated on: Sep 19, 2019 02:20 PM IST
مدنی کنبہ نے جمعیتہ علمائے ہند کو بی جے پی وآرایس ایس کے سامنے کردیا خود سپرد، کس نے لگایا یہ سنگین الزام

سنگین الزام:مدنی کنبہ نے جمعیتہ علمائے ہند کو بی جے پی وآرایس ایس کے سامنے کردیا خود سپرد۔(تصویر:نیوز18اردو)۔

جمعیتہ علمائے ہند کی جانب سے کشمیرسے آرٹیکل 370 کی منسوخی اورمولانا محمود مدنی کی آرایس ایس سربراہ موہن بھگوات سے ملاقات کے بعد ملی حلقوں میں جمعیتہ علمائے ہند کو تنقید کا نشانہ بنایاجارہاہے۔جمعیتہ علمائے ہند کے جنرل سکریٹری سید مولانا محمود مدنی کے ذریعہ مغل حکمراں اورنگ زیب کے متعلقہ آرایس ایس کی پالیسی کے بموجب و این سی آر و کشمیر مدعہ پر بی جے پی حکومت کی حمایت و تائید کرنا قابل مذمت ہے۔ مدنی کنبہ اپنے مفاد کیلئے اتنا نیچے گرسکتا جس کا تصورمسلمانوں نے نہیں کیا تھا۔ پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹرایوب سرجن نے جاری پریس ریلیز کے ذریعہ مذکورہ تاثرات کا اظہارکیا ۔

ڈاکٹرایوب سرجن نے کہا کہ دونوں جمعیتہ علمائے ہند کے سربراہ چاچا بھتیجے ایک ہی تھیلی کے چٹّے بٹّے ہیں ۔یہ کنبہ گزشتہ 1920 سے مسلمانوں کو گمراہ کر سیاسی پارٹیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلے انکی پالیسیوں پر گامزن ہیں جس کے سبب اپنے مفاد کیلئے مدنی کنبہ نے جمعیتہ علمائے ہند کو بی جے پی و آر ایس ایس کے سامنے خود سپرد کر کے اب انکی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں ۔جہاں تک مولانا محمود مدنی کا سوال ہے وہ ہمیشہ سیاسی پارٹیوں کے قریب رہے ہیں و ایک مرتبہ وہ راجیہ سبھا رکن بھی رہ چکے ہیں ۔

Loading...

ممکن ہے کہ راجیہ سبھا میں جانے کیلئے انہوں نے اتنے حساس مدعہ پر بی جے پی حکومت کی حمایت میں بیان دے کر ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو ایک ایسے اعلی مسلم چہرے کی ضرورت تھی جو دنیا کو دکھا سکے کہ مسلمان انکے ساتھ ہیں ۔اب جبکہ مولانا محمود مدنی نے حکومت کی پالیسیوں کی تائید کر دی تو ایسے میں بی جے پی کو بن مانگی مراد مل گئ ۔اب بی جے پی بین الاقامی سطح پر یہ تشہر کر سکتی ہے کہ ملک کی سب بڑی مسلم تنظیم جمعیتہ علمائے ہند انکے ساتھ ہے ۔

مولانا محمود مدنی کے بیان سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے مفاد کو بالائے طاق رکھ کر اپنے مفاد کو مزید ترجیح دیتے ہیں ۔انکے اورنگزیب ، این آر سی و کشمیر مدعہ پر دیئے گئے بیان سے مسلمان افسردہ ہے ۔مولانا مدنی نے جمعیت کو حکومت کے سامنے خود سپرد کر مسلمانوں کے ساتھ فریب کیا ہے جس کو مسلمان کبھی معاف نہیں کر سکتا ۔

Loading...