ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جمیعت علما ہند کی ریاستی حکومتوں اور وزات صحت کی گائیڈلائن کے مطابق نماز ادا کرنے کی اپیل

مولانا ارشد مدنی نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پر مسلمان زیادہ تعداد میں نماز ادا کرسکتے ہیں ، وہاں پر احتیاط اور سماجی دوری کے ساتھ عبادت کریں ۔ لیکن جہاں پر گائیڈ لائن کے تحت زیادہ لوگ عبادت نہیں کر سکتے ہیں ، وہاں پر وہاں پر بھی مسلمانوں کو ہدایات پر عمل کرنا چاہئے اور گائیڈ لائن کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے۔

  • Share this:
جمیعت علما ہند کی ریاستی حکومتوں اور وزات صحت کی گائیڈلائن کے مطابق نماز ادا کرنے کی اپیل
مولانا ارشد مدنی ۔ فائل فوٹو ۔

نئی دہلی : الگ الگ ریاستی حکومتوں کے ذریعہ مذہبی مقامات اور مسجدوں میں نماز کو لے کر جاری کی گئی گائیڈ لائن پر طرح طرح کے سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔ خاص طور سے اتر پردیش میں نمازیوں کی تعداد محدود کو بڑھائے جانے کو لے کر مطالبات بھی کئے جا رہے ہیں ۔ لیکن اس تمام بحث کے درمیان جمعیت علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مسلمانوں سے وزارت صحت اور ریاستی حکومتوں کی گائیڈ لائن پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے ۔ مولانا ارشد مدنی نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پر مسلمان زیادہ تعداد میں نماز ادا کرسکتے ہیں ، وہاں پر احتیاط اور سماجی دوری کے ساتھ عبادت کریں ۔ لیکن جہاں پر گائیڈ لائن کے تحت زیادہ  لوگ عبادت نہیں کر سکتے ہیں ، وہاں پر وہاں پر بھی مسلمانوں کو ہدایات پر عمل کرنا چاہئے اور گائیڈ لائن کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے۔


دراصل آج عبادت گاہوں کو کھولے جانے کے بعد جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا کہ مرکز نے اس کا اختیار صوبوں کو دیدیا تھا کہ وہ اپنے یہاں کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس کیلئے شرائط طے کریں ۔ چنانچہ صوبائی حکومتوں نے اس سلسلہ میں الگ الگ موقف اختیارکرتے ہوئے الگ الگ شرائط کے ساتھ مسجدوں میں نماز اداکرنے کی اجازت دیدی ہے ۔


انہوں نے کہا کہ کورونا جیسی مہلک وباکے تعلق سے پہلے ہی دن سے جمعیۃعلما ہند کی طرف سے لوگوں کو احتیاط اوربچاؤ اختیارکرنے کی اپیلیں جاری کی جاتی رہی ہیں اور ان پر لوگوں نے عمل کیا ہے ۔ چنانچہ مسجدوں میں نماز کی ادائیگی کو لیکر بھی جمعیۃ علما ہند کا یہی کہنا ہے کہ مسلمان اپنی اپنی صوبائی حکومتوں کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے وزارت صحت کی گائیڈ لائن کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں اور اس پر سختی سے عمل پیراہوں ۔


انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب چونکہ ایک حد مقررہوگئی ہے ، تو ایک مسجد میں کئی جماعتیں بھی ہوسکتی ہیں ۔ اس کی صورت یہ ہے کہ ایک مرتبہ جہاں جماعت ہوگئی ، اس کے دائیں بائیں کی جگہ چھوڑکر جماعت کرلی جائے ۔ دوسری جماعت کی جگہ دائیں بائیں چھوڑکر تیسری اور چوتھی بھی ہوسکتی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایسا ممکن نہ ہوتو پھر مسلمان جس طرح پہلے گھروں میں نماز اداکرتے تھے ، موجودہ حالات میں اسی طرح گھروں میں ہی نماز اداکریں ، کیونکہ کورونا کا خطرہ ٹلانہیں ہے بلکہ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ وبا ایک خطرناک رخ اختیارکرتی جارہی ہے ۔ متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہلاکتوں میں بھی روزبروزاضافہ ہورہا ہے ، ایسے میں احتیاط اورتحفظ ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔ اس وباسے ہم خودبھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔

مولانا مدنی نے مزید کہا کہ اس وبائی بیماری میں بھی کہ جب ملک کے شہری زندگی اور موت کی جنگ میں مصروف ہیں ، منافرت کا کھیل بدستورجاری ہے ۔ نت نئے بہانوں سے مسلمانوں کو نشانہ پر لینے کی دانستہ کوششیں ہورہی ہیں ، اس لئے ایسے ماحول میں بہت محتاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ ہماری یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ہم ایسا کچھ بھی نہ کریں کہ اس کو بنیاد بنا کر میڈیا ایک مرتبہ پھران کے خلاف منفی تشہیر شروع کردے ۔ اس پورے لاک ڈاؤن میں مسلمانوں نے اپنے کرداروعمل سے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک محب وطن شہری ہے اوراگر کوئی مصیبت کی گھڑی آجائے تو وہ اپنی زندگیاں بھی داو پر لگاکر ملک اور قوم کی خدمت کرنے کا عزم رکھتے ہیں ۔
First published: Jun 08, 2020 09:24 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading