زندہ قومیں حالات کے رحم وکرم پر نہیں رہتیں ، اپنے کردار و عمل سے حالات کا رخ پھیر دیتی ہیں : مولانا ارشد مدنی

جمعیۃعلماء ہند کی پروقارعید ملن تقریب میں سیاسی پارٹیوں کے سربراہان، مختلف ممالک کے سفراء، انسانی حقوق اورملی تنظیموں کے ذمہ داران ودیگر سرکردہ شخصیات کی شرکت 

Jun 13, 2019 10:22 PM IST | Updated on: Jun 13, 2019 10:28 PM IST
زندہ قومیں حالات کے رحم وکرم پر نہیں رہتیں ، اپنے کردار و عمل سے حالات کا رخ پھیر دیتی ہیں : مولانا ارشد مدنی

زندہ قومیں حالات کے رحم وکرم پر نہیں رہتیں بلکہ اپنے کرداروعمل سے حالات کا رخ پھیر دیتی ہیں : مولانا ارشدمدنی

محبت اخوت اورآپسی بھائی چارہ ہی دنیا میں امن واتحاداورسکون کی بنیادہے، سچ تویہ ہے کوئی بھی معاشرہ باہمی محبت واخوت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا یہاں تک کہ ہمارے اپنے گھرمیں بھی اگرمحبت اورباہمی ربط نہ ہوتو اس گھرمیں ہمیشہ انتشارکی فضاء موجوررہے گی اوروہ گھر کبھی آباد نہیں کرسکتا، اگرچہ دنیامیں حکومتیں طاقت کی بنیادپر قائم کی جاتی ہیں مگریہ ناقابل تردید سچ ہے کہ حکومتوں کا کامیابی کے ساتھ چلنا اورنیک نامی کے ساتھ قائم رہنا، شہریوں کے مابین اتحاداور باہمی پیارومحبت کی بنیادپر ہی ممکن ہے ۔ ان خیالات کا اظہار مولانا سید ارشدمدنی نے جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے  نئی دہلی کے اشوکا ہوٹل میں منعقدہ عید ملن تقریب میں کیا ۔

انہوں نے کہاکہ جمعیۃعلماء ہند کا قیام نومبر1919میں ہوا تھا اس لئے اس تقریب کو میں اس لحاظ سے بہت اہم سمجھتاہوں کہ آپ اورہم اس جماعت کی دعوت پر مذہب سے اوپر اٹھ کر آج یہاں جمع ہوئے ہیں ، جس نے اپنے قیام کی ایک صدی مکمل کرلی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند کے اغراض ومقاصد کی دفعہ نمبر 5 میں کہا گیا ہے کہ جمعیۃعلماء ہند اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انڈین یونین کے مختلف فرقوں کے درمیان باہمی میل جول پیداکرے گی اور اس کو مضبوط کرنے کی ہر سطح پر مؤثرکوششیں بھی کرے گی ۔

Loading...

تقریب کے فورابعد صحافیوں کے ایک نمائندہ گروپ سے گفتگوکرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ میں یہ بات پورے یقین سے کہہ رہا ہوں کہ اگر ہم اب بھی اپنی سوچ کے تنگ دائرہ سے باہر آکر اور مذہب سے اوپر اٹھ کر ملک میں اتحادویکجہتی کے قیام کے لئے کام نہیں کریں گے  ، توآنے والے دنوں میں ہمیں اس سے کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے انتہائی پراعتمادلہجہ میں کہا کہ ہمیں حالات سے بدل ہونے کی ضرورت نہیں اگر عزم وحوصلہ مضبوط ہوتو ان اندھیروں میں بھی امید کی شمع روشن ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ زندہ قومیں حالات کے رحم وکرم پر نہیں رہتیں بلکہ اپنے کرداروعمل سے حالات کا رخ پھیر دیا کرتی ہیں ۔

عید ملن کی اس تقریب میں شریک ہونے والی اہم شخصیات میں سابق نائب صدرجمہوریہ ہند محمد حامد انصاری،جسٹس سہیل صدیقی، وجاہت حبیب اللہ، پرووائس چانسلر ہمدریونیورسٹی، کانگریس کے ایم پی پی ایل پونیہ، جامع مسجد کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری، سابق مرکزی وزیر کے رحمن خاں، کنوردانش علی ایم پی، ایس ٹی حسن ایم پی، شردیادو،  سی پی آئی (ایم) کے لیڈر ڈی راجہ،،یوپی اے چیئر پرسن سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمدپٹیل، اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت، آسام کے سابق وزیر رقیب الحسین، سی پی آئی جنرل سکریٹری اتل کمارانجان، عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ،دیپندر ہڈا، بھوپندرہڈاسابق وزیر اعلیٰ ہریانہ، ندیم جاوید چیئرمین اقلیتی شعبہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی،ممبر پارلیمنٹ راجیہ سبھا منوج جھا،سابق مرکزی وزیر شری پرکاش جیسوال، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ترجمان م افضل، آر ایل ڈی کے لیڈر اجیت سنگھ،جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی،آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد،مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، شبنم ہاشمی، گوہر رضا،سوامی اگنی ویش، اچاریہ پرمودکرشنن، حاجی سلامت اللہ،ممبر اسمبلی امانت اللہ خاں،سابق وزیر دہلی حکومت ہارون یوسف،سابق ممبر اسمبلی حسن احمد،وقف بورڈ کے سابق چیئرمین چودھری متین احمد، آصف محمد خان،ڈی پی ترپاٹھی اور متعدد ممالک کے سفراء سمیت متعدد مذہبی،سماجی، سیاسی، علمی شخصیات اور معروف صحافیوں نے شرکت کی۔

Loading...