உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جمعیت علماء ہند نے مرکزی وزیر داخلہ اور اترپردیش کے وزیر اعلی کو لکھا خط ، جانئے کیا ہے معاملہ

    جمعیت علماء ہند نے مرکزی وزیر داخلہ اور اترپردیش کے وزیر اعلی کو لکھا خط ، جانئے کیا ہے معاملہ

    جمعیت علماء ہند نے مرکزی وزیر داخلہ اور اترپردیش کے وزیر اعلی کو لکھا خط ، جانئے کیا ہے معاملہ

    مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ملک میں بڑھتے ہیٹ کرائم کے واقعات کا سلسلہ رکنا چاہئے ۔ یہ عالمی سطح پر ملک کی بدنامی اور اس کے جمہوری اقدار کی تنزلی کا سبب بنتا جارہا ہے ۔

    • Share this:
    کانپور کے موسی نگر میں ایک خاندان کی خود سوزی پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے جمعیت علما ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے وزیر داخلہ حکومت ہند اور اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ بالخصوص اس معاملہ میں مبینہ طور پر ملوث بی جے پی لیڈراور خاطی پولس افسران کے خلاف ایکشن لیا جائے اور زخمیوں کے لیے معقول علاج و معالجہ کا نظم کیا جائے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ملک میں بڑھتے ہیٹ کرائم کے واقعات کا سلسلہ رکنا چاہئے ۔ یہ عالمی سطح پر ملک کی بدنامی اور اس کے جمہوری اقدار کی تنزلی کا سبب بنتا جارہا ہے ۔

    دریں اثنا جمعیت علماء اترپردیش کے ایک وفد نے لکھنو میڈیکل کالج میں زیر علاج محمد گلفام کی عیادت کی اور مکمل صورت حال دریافت کرنے کے بعد فوری طور پر 10 ہزار روپے کے مالی تعاون کے ساتھ آئندہ ہر طرح کی قانونی مدد کی یقین دہانی کرائی ۔

    حالاںکہ وبائی بیماری کی وجہ سے ہاسپٹل انتظامیہ نے گلفام سے دور سے ہی ملنے کی اجازت دی تھی ۔ تاہم اس کے بھائی بدرالدین نے بتایا کہ موسی نگر کانپور دیہات میں تقریبا ڈھائی بیگھہ زمین قبرستان کے نام درج ہے ۔ اسی سے متصل بی جے پی لیڈر وجے سونی کی زمین ہے ، جس پہ وہ اپنی تعمیر کرا رہے ہیں ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپنی زمین پہ تعمیر کے بہانے وجے سونی نے قبرستان کے کچھ حصہ پر قبضہ کرلیا اور اس پر دوکانوں کی تعمیر کرا ڈالی ۔

    محمد گلفام (جو پیشے سے پھیری والے ہیں) نے اس کی مخالفت کی اور علاقہ کے تھانہ، ایس ڈی ایم سے لے کر کورٹ تک کا چکر لگا ڈالا ، لیکن کہیں سنوائی نہ ہوسکی۔ بار بار شکایت درج کرانے ، کاغذات کا اندراج کرانے اور ہر طرح کی قانونی کوششوں کے بعد تھک ہار کر اس نے علاقہ کی پولیس انتظامیہ کو وارننگ دی کہ اگر قبرستان کی زمین پر ناجائز قبضہ کو نہیں رکوایا گیا تو وہ اہل خانہ سمیت خود کشی کر لیں گے ۔ اس کے باوجود انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی ۔

    بالآخر ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد محمد گلفام نے اہلیہ  اجمیرن و چھ چھوٹے بچے (مہ جبین 12 سال ، محمد عاطف 10 سال ، مسیحا 7 سال، معینہ 5 سال ، چاند تارا 3 سال ، ستارہ ڈیڑھ سال) سمیت مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا لیا جس میں معینہ اور چاند تارا کی موت ہوگئی اور محمد گلفام ، اہلیہ و دیگر چار بچوں کا لکھنؤ میڈیکل کالج میں علاج چل رہا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: