ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کاشی ۔ متھرا تنازعہ: ہندو تنظیم کے بعد جمعیتہ علماء ہند نے بھی کھٹکھٹایا سپریم کورٹ کا دروازہ

جمعیتہ علماء ہند نے وکیل اعجاز مقبول کے ذریعے عرضی دائر کرکے ہندو پجاریوں کی عرضی کی مخالفت کی ہے۔ جمعیۃ کی برائے دعوی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت ہندو پجاریوں کی تنظیم’وشوبھدر پجاری پروہت مہاسنگھ‘ کی درخواست پر نوٹس جاری نہ کرے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 14, 2020 03:19 PM IST
  • Share this:
کاشی ۔ متھرا تنازعہ: ہندو تنظیم کے بعد جمعیتہ علماء ہند نے بھی کھٹکھٹایا سپریم کورٹ کا دروازہ
کاشی ۔ متھرا تنازعہ: ہندو تنظیم کے بعد جمعیتہ علماء ہند نے بھی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

نئی دہلی: کاشی۔متھرا جیسے تنازعات پر ایک ہندو پجاری تنظیم کی طرف سے سپریم کورٹ میں متعلقہ قانون کو چیلنج کیئے جانے کے بعد ایک مسلم تنظیم نے بھی اس میں مداخلت کی عرضی دائر کی ہے۔ جمعیتہ علماء ہند نے وکیل اعجاز مقبول کے ذریعے عرضی دائر کرکے ہندو پجاریوں کی عرضی کی مخالفت کی ہے۔ جمعیۃ کی برائے دعوی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت ہندو پجاریوں کی تنظیم’وشوبھدر پجاری پروہت مہاسنگھ‘ کی درخواست پر نوٹس جاری نہ کرے۔

جمعیتہ علماء ہند کا خیال ہے کہ ہندو پجاری تنظیم کی درخواست پر نوٹس جاری کرنے سے غلط پیغام جائے گا۔ خاص طور سے اجودھیا تنازعہ کے بعد اب مسلم کمیونٹی کے لوگوں کے ذہنوں میں اپنی عبادت گاہوں کے سلسلے میں خوف پیدا ہوگا، جس سے ملک کا سیکولر معاشرہ تباہ ہو جائے گا۔ جمعیۃ علماء ہند نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اسے متعلقہ معاملے میں فریق بنایا جائے۔


جمعیۃ علماء ہند نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اسے متعلقہ معاملے میں فریق بنایا جائے۔
جمعیۃ علماء ہند نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اسے متعلقہ معاملے میں فریق بنایا جائے۔



غور طلب ہے کہ وشوبھدر پجاری پروہت مہا سنگھ نے پوجاستھل (خصوصی التزام) ایکٹ، 1991 کی آئینی قانونی حیثیت کو سپریم کورٹ میں گزشتہ جمعہ کو چیلنج کیا۔ یہ مرکزی قانون 18 ستمبر، 1991 کو منظور کیا گیا تھا۔ یہ قانون کہتا ہے کہ 15 اگست 1947 کو ملک کی آزادی کے وقت مذہبی مقامات کی جو شکل تھی، اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، ایودھیا تنازعہ کو اس سے باہر رکھا گیا تھا، کیونکہ اس پر قانونی تنازعہ پہلے سے چل رہا تھا۔
درخواست گزار نے کاشی وشوناتھ اور متھرا مندر تنازعہ کو لے کر قانونی عمل دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس ایکٹ کو کبھی چیلنج نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی عدالت نے عدالتی طریقے سے اس پر غور کیا۔ ایودھیا تنازعہ پر فیصلے میں بھی سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے اس پر صرف تبصرہ کیا تھا۔
First published: Jun 14, 2020 03:19 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading