بابری مسجد معاملہ: رام چبوترہ سمیت یہ جگہ چھوڑنے کےلئے راضی ہوگیا تھا مسلم فریق: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ثالثی پینل سےکہا تھا کہ مسلم فریق رام  چبوترہ، سیتا رسوئی اورصحن (آنگن) کے حصے پراپنا دعویٰ چھوڑنےکوتیارہےاورتین گنبدوں کے نیچے کی جگہ مانگ رہا ہے۔

Nov 06, 2019 05:07 PM IST | Updated on: Nov 06, 2019 08:02 PM IST
بابری مسجد معاملہ: رام چبوترہ سمیت یہ جگہ چھوڑنے کےلئے راضی ہوگیا تھا مسلم فریق: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی

نئی دہلی: ملک کی مشہورمسلم تنظیم جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا سید ارشد مدنی نے بدھ کو یہاں دعویٰ کیا کہ انہوں نے ثالثی پینل سے کہا تھا کہ بابری مسجد رام جنم بھومی معاملے میں مسلم فریق رام چبوترہ، سیتا رسوئی اورصحن (آنگن) کے حصے پراپنا دعویٰ چھوڑنے کوتیار ہے اورتین گنبدوں کے نیچے کی جگہ مانگ رہا ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے بدھ کوپریس کانفرنس میں کہا کہ 'ثالثی کی کوشش 12-11 مرتبہ ناکام ہوچکی تھی، لیکن جب سپریم کورٹ نےثالثی کے لئے کہا تو میں ثالثی کے لئے متفق ہوگیا'۔  مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ 'ثالثی کا مطلب ہے کہ سبھی فریق اپنے اپنے رخ میں تھوڑی نرمی لائیں۔ اگرکوئی پیچھے نہیں ہٹتا ہے توثالثی نہیں ہوگی'۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد میں ایک حصہ گنبد کے نیچے کا ہےاوراس کا صحن ہے، جہاں رام چبوترہ اورسیتا رسوئی ہے۔

بابری مسجد رام جنم بھومی معاملے پرعدالت کے فیصلےکوتسلیم کرنے اورملک میں امن و امان قائم رکھنےکےعہد کا اعادہ کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ معاملہ ایک ناسور کی شکل اختیارکرگیا ہے، جس کا حل کیا جانا ملک کی سالمیت اوریکجہتی کےلئےضروری ہے۔ انہوں نےکہا کہ بابری مسجد کا مسئلہ آزادی کے قبل اورآزادی کے بعد ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہےاورجمعیۃ علماء ہند نے سڑکوں کا مسئلہ بنانےکے بجائے قانونی طریقےسے حل کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ یہ لڑائی کافی لمبی ہوگئی اوریہ معاملہ سپریم کورٹ میں آیا اوراپنے دلائل مضبوط طریقے سےرکھنے کیلئے ہم نے بہترین وکلاء کی خدمات حاصل کیں۔

Loading...

انہوں نےکہا کہ ہم نے بہترین دلائل اورثبوت سپریم کورٹ میں رکھے ہیں۔ اب سپریم کورٹ کا جوبھی فیصلہ آئے گا، ہمیں تسلیم ہوگا۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدرنےکہا کہ بابری مسجد کا مقدمہ محض ایک اراضی کی لڑائی کا نہیں ہےبلکہ یہ مقدمہ ملک میں دستوراورقانون کی بالادستی کا مقدمہ ہےاورہرانصاف پسندیہ چاہتا ہےکہ ثبوت و شواہد اورقانون کے مطابق اس مقدمےکا فیصلہ ہونہ کہ آستھا کی بنیاد پر۔ انہوں نےکہا کہ سپریم کورٹ بھی کہہ چکا ہے کہ یہ مقدمہ صرف اورصرف حق ملکیت کا ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے مسلم تنظیموں سمیت تمام ہندوتنظیموں اورہندوستانیوں سےاپیل کی کہ وہ اس فیصلہ کودل سےتسلیم کریں اورملک میں امن وامان کوبرقراررکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن وامان قائم ہے، توملک قائم ہےاگرامن و امان برباد ہوگا توملک برباد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امن اورسپریم کورٹ کے فیصلےکو تسلیم کرنےکے سلسلے میں ہم تنہا نہیں ہیں بلکہ تمام مسلم جماعتیں، آرایس ایس اورحکومت اس موقف پرقائم ہیں کہ فیصلہ جوبھی آئےہم امن و امان برقراررکھیں گے۔ مولانا ارشد مدنی نےکہا کہ مسجد کےبارے میں ہمارا موقف ہےکہ بابری مسجد ایک مسجد تھی قیامت تک مسجد رہے گی، کسی فرد یا جماعت کوحق نہیں ہےکہ کسی متبادل کی امید میں مسجد سے دستبردار ہوجائے۔ انہوں نےکہا کہ مسلمانوں کا یہ نظریہ پوری طرح حقائق و شواہد پرمبنی ہےکہ مسجد کسی مندرکومنہدم کر کےنہیں بنائی گئی۔

نیوزایجنسی یواین آئی اردو کے ان پٹ کے ساتھ

Loading...