ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جمعیۃ علماء ہند نے دہلی فساد متاثرین کے سرکاری وکیلوں پر جتایا اعتراض، مولانا ارشد مدنی نے کہی یہ بڑی بات

مولانا ارشد مدنی نے دہلی فسادات پر دائر دہلی پولیس کی چارج شیٹ کو یکطرفہ، متعصبانہ، اور خاص ذہنیت کی تکمیل پر مبنی قانون کی خلاف ورزری قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند متاثرین کو انصاف دلانے کے لئے ان شاء اللہ تمام ممکنہ قانونی طریقے اختیار کرے گی۔

  • Share this:
جمعیۃ علماء ہند نے دہلی فساد متاثرین کے سرکاری وکیلوں پر جتایا اعتراض، مولانا ارشد مدنی نے کہی یہ بڑی بات
جمیعۃ علماء ہند نے دہلی فساد متاثرین کے سرکاری وکیلوں پر اعتراض جتایا ہے۔ (تصویر:نیوز18- فائل فوٹو)۔

نئی دہلی: دہلی حکومت کے ذریعہ شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فساد کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لئے مقرر کئے گئے سرکاری وکیلوں کو لے کر تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے فساد متاثرین کے پیروکار بنائے گئے سینئر وکیل اور مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور بی جے پی کی خاتون ممبر پارلیمنٹ میناکشی لیکھی کے شوہر امن لیکھی  پر اعتراض کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام فساد متاثرین کا مقدمہ لڑے گی اور انہیں انصاف دلائے گی۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے دیئے گئے بیان میں مولانا ارشد مدنی  نے کہا کہ فساد متاثرین کے تمام مقدمات کی پیروی کیلئے دہلی حکومت نے جو وکیل مقرر کئے ہیں ان کے نام تشار مہتا، امن لیکھی اور منندر سنگھ ہیں یہ مقدمات دہلی کی ذیلی عدالتوں  میں چلیں گے، لیکن ان میں متاثرین کی پیروی تشار مہتا جیسے سینئر وکیل کریں گے۔


سالیسٹر جنرل تشار مہتا پر سوال


مولانا ارشد مدنی  نے کہا کہ تشار مہتا صرف سینئر وکیل ہی نہیں ہیں بلکہ وہ اس وقت مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل ہیں جو سپریم کورٹ میں حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دوسرے دو وکیل امن لیکھی اور منندر سنگھ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ہیں۔ امن لیکھی نئی دہلی کی (بی جے پی) ممبر پارلیمنٹ میناکشی لیکھی کے شوہر ہیں، میناکشی لیکھی پارلیمنٹ میں کپل مشرا کی حمایت کرچکی ہیں۔ ایسے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ یہ تینوں حکومت کے سینئر وکیل متاثرین کی کیا پیروی کریں گے، کیا ان سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ فساد زدگان کو انصاف دلوائیں گے؟ تشار مہتا کے بارے میں اتنا سمجھ لینا کافی ہوگا کہ 2002 کے گجرات فسادات میں انہوں نے مقامی عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ میں فسادات کے ملزموں کی نمائندگی کی تھی، ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے تشار مہتا کو فسادات کے مقدمات کی پیروی کیلئے سرکاری وکیل کیوں مقرر کیا؟


مولانا ارشد مدنی نے دہلی حکومت  کے مقرر کردہ وکیل تشار مہتا، امن لیکھی اور منندر سنگھ پر سوال اٹھائے ہیں۔ فائل فوٹو
مولانا ارشد مدنی نے دہلی حکومت  کے مقرر کردہ وکیل تشار مہتا، امن لیکھی اور منندر سنگھ پر سوال اٹھائے ہیں۔ فائل فوٹو


دہلی پولیس کی چارج شیٹ متعصابہ

ارشد مدنی نے دہلی فسادات پر دائر دہلی پولیس کی چارج شیٹ کو یکطرفہ، متعصبانہ، اور خاص ذہنیت کی تکمیل پر مبنی قانون کی خلاف ورزری قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند متاثرین کو انصاف دلانے کے لئے ان شاء اللہ تمام ممکنہ قانونی طریقے اختیار کرے گی۔ اس کے لئے وکلاء کی ٹیم تشکیل کردی گئی ہے۔ انہوں نے سی اے اے کے خلاف تحریک چلانے والوں کی اندھادھند گرفتاریاں اور دہلی فسادات میں ہورہی یکطرفہ کارروائیوں پر کہا کہ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ لاک ڈاؤن کے درمیان بھی خاص طور پر مسلم اقلیت کے خلاف اپنے خفیہ ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے ارباب سیاست کی طرف سے پولیس کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے رویہ پر سوال

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ افسوس کہ سابق بیوروکریٹ ہرش مندر جیسے انسانی حقوق کے کارکن اورشاہین باغ میں لنگرلگاکر کھانا تقسیم کرنے والے  ایک انسانیت نواز سکھ ڈی ایس بندرا کو بھی پولیس کے ذریعہ ملزم بنا یا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کہیں بھی ہو وہ فساد نہیں بلکہ پولیس ایکشن ہوتا ہے۔ دہلی میں بھی پولیس کا یہی کردار ہے اور تمام حکومتوں میں ایک چیز مشترک نظر آتی ہے کہ حملہ بھی مسلمانوں پر ہوتا ہے اور مسلمان مارے بھی جاتے ہیں اور انہیں کے مکانات و دوکان کو جلایا جاتا ہے اور سنگین مقدمات لگاکر گرفتار بھی کیا جاتا ہے۔ دہلی میں بھی پولیس اور سیکورٹی ایجنسیاں ملک سے غداری یو اے پی اے اور طرح طرح کے سنگین مقدمات کے تحت گرفتار کر رہی ہیں اور گرفتار کیے گئے مسلمانوں کے خلاف متعصب میڈیا ٹرائل چلاکر مسلمانوں کے خلاف ماحول بنارہا ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس فساد میں جن 53 لوگوں کی موت ہوئی تھی، ان میں مسلمانوں کی تعداد 38 بتائی جاتی ہے، جو پولس کے سایہ میں فسادیوں کے ہاتھوں انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل ہوئے، لیکن پولیس نے ان میں سے چند ہی لوگوں کے معاملے میں تحقیقات کی ہے اور باقی لوگوں کے قتل کی ذمہ داری نامعلوم فسادیوں کے سر ڈال دی گئی ہے۔ اس کے برعکس آئی بی افسر انکت شرما اور کانسٹبل رتن لال کی موت کے معاملے میں درجنوں مسلمانوں کو نامزد کر کے چارج شیٹ بنائی گئی ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے دہلی پولیس کی چارج شیٹ کو یکطرفہ اور متعصبانہ قرار دیا ہے۔ فائل فوٹو
مولانا ارشد مدنی نے دہلی پولیس کی چارج شیٹ کو یکطرفہ اور متعصبانہ قرار دیا ہے۔ فائل فوٹو


تقریباً 2650 لوگوں کی گرفتاریاں، مسلمانوں کی اکثریت

واضح رہے کہ ایک روزنامہ میں شائع کی رپورٹ کے مطابق اب تک تقریباً 2650 لوگوں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں، ان میں ہندو صرف 550 باقی 2100 مسلمان ہیں۔ مولانا مدنی نے پولیس کی یکطرفہ چارج شیٹ پر کہاکہ سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس فردجرم میں پولیس نے یہ بتانے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ اس نے تین دنوں تک جاری رہنے والے ان فسادات کو روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے تھے اور موقع واردات سے کتنے فسادیوں کوحراست میں لیا گیا تھا۔خود وزارت داخلہ کی طرف سے پارلیمنٹ میں بیان دیا گیا تھا کہ300 لوگ قتل وغارت گری کرنے پڑوسی ریاست اتر پردیش سے یہاں آئے تھے۔ پولیس نے اپنی فرد جرم میں نہ تو ان لوگوں کا کوئی ذکر کیا ہے اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ یہ کون لوگ تھے اور ان کا تعلق کس سیاسی پارٹی سے تھا۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر واقعی یہ فساد منصوبہ بند تھا اور اس کے لئے باقاعدہ مسلمانوں کی طرف سے سازش رچی گئی تھی تو پولیس کا خفیہ محکمہ اس سازش کا قبل از وقت پتہ لگانے میں ناکام کیوں رہا؟ مولانا نے کہا کہ یہ ایسا فساد تھا جس کی باقاعدہ تیاری دہلی کے صوبائی الیکشن سے پہلے ہی سے کی جارہی تھی، ان لوگوں کی پوری کوشش یہی تھی کہ فرقہ وارانہ ایجنڈے پر چل کر صوبائی حکومت کے کاموں کو ملیامیٹ کردیں۔ اسی لئے ملک کی وزارت داخلہ سے لے کر کپل مشرا تک سبھی ایک ہی زبان بول رہے تھے۔ جو اصل مجرم ہیں، انھیں ارباب سیاست کا تحفظ حاصل ہے اور جو قطعی بے قصور ہیں انھیں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔
First published: Jun 21, 2020 11:31 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading