உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جمیعۃ علماء ہند ارشدمدنی گروپ چلائے گی اب کوچنگ سینٹر، 100 امیدواروں کو مفت کوچنگ سے بنایا جائے گا ڈاکٹر انجینئر

    جمیعۃ علماء ہند ارشدمدنی گروپ چلائے گی اب کوچنگ سینٹر، 100 امیدواروں کو مفت کوچنگ سے بنایا جائے گا ڈاکٹر انجینئر

    جمیعۃ علماء ہند ارشدمدنی گروپ چلائے گی اب کوچنگ سینٹر، 100 امیدواروں کو مفت کوچنگ سے بنایا جائے گا ڈاکٹر انجینئر

    مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ اس کوچنگ سینٹرکے قیام کا مقصد ذہین، مگر مالی اعتبارسے کمزور طلباء کو مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے تیارکرنا ہے، اس کے لئے دسویں، گیارہویں اور بارہویں پاس طلباء کا انتخاب ٹسٹ کے ذریعہ ہوگا۔ یہ ایڈمیشن کم اسکالرشپ ٹسٹ ہوگا اور جن بچوں کا انتخاب ہوگا انہیں 100 فیصد تک اسکالر شپ مہیا کرائی جائے گی اور فی الحال انہیں آئی آئی ٹی، جی ای ای اور نیٹ جیسے مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے مفت کوچنگ دی جائے گی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    نئی دہلی: قوم کو پسماندگی، مایوسی اور احساس کمتری سے باہر نکالنے کا واحد راستہ تعلیم ہے، انسانی تاریخ شاہد ہے دنیا میں انہیں قوموں کو ترقی اور سرخروئی حاصل ہوئی ہے، جو تعلیم تافتہ تھیں اور جن قوموں نے خودکو تعلیم سے الگ رکھا تباہی اور پسپائی ان کا مقدربن گئی، ان خیال کا اظہار آج جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا سید ارشدمدنی نے نئی دہلی میں مالی اعتبارسے کمزور طلباء کے لئے ’’مدنی۔ 100‘‘کے نام سے ایک مفت کوچنگ سینٹرکا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ قابل ذکر ہے کہ یہ مفت کوچنگ سینٹرمولانا حسین احمد مدنی چیئرٹیبل ٹرسٹ دیوبند اور ہندگرو اکیڈمی دہلی کے باہمی تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔

    100 فیصد تک مہیا کرائی جائے گی اسکالر شپ

    مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ اس کوچنگ سینٹرکے قیام کا مقصد ذہین، مگر مالی اعتبارسے کمزور طلباء کو مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے تیارکرنا ہے، اس کے لئے دسویں، گیارہویں اور بارہویں پاس طلباء کا انتخاب ٹسٹ کے ذریعہ ہوگا۔ یہ ایڈمیشن کم اسکالرشپ ٹسٹ ہوگا اور جن بچوں کا انتخاب ہوگا انہیں 100 فیصد تک اسکالر شپ مہیا کرائی جائے گی اور فی الحال انہیں آئی آئی ٹی، جی ای ای اور نیٹ جیسے مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے مفت کوچنگ دی جائے گی۔ مولانا ارشد مدنی نے یہ وضاحت بھی کی کہ جمعیۃ علماء ہند مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔ چنانچہ یہ جو سینٹر قائم کیا جارہا ہے اس میں بھی اس روایت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایسے غیر مسلم بچوں کو بھی کوچنگ فراہم کی جائے گی، جو مالی اعتبار سے کمزور ہوں، لیکن باصلاحیت ہوں۔

     مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ اس کوچنگ سینٹرکے قیام کا مقصد ذہین، مگر مالی اعتبارسے کمزور طلباء کو مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے تیارکرنا ہے، اس کے لئے دسویں، گیارہویں اور بارہویں پاس طلباء کا انتخاب ٹسٹ کے ذریعہ ہوگا۔

    مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ اس کوچنگ سینٹرکے قیام کا مقصد ذہین، مگر مالی اعتبارسے کمزور طلباء کو مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے تیارکرنا ہے، اس کے لئے دسویں، گیارہویں اور بارہویں پاس طلباء کا انتخاب ٹسٹ کے ذریعہ ہوگا۔


    جمعیۃ علماء ہند نے دنیاوی یا عصری تعلیم کی کبھی مخالفت نہیں کی

    جمعیۃ علماء ہند کے صدر ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے دنیاوی یا عصری تعلیم کی کبھی مخالفت نہیں کی۔ البتہ اس کا شروع سے یہ ماننا رہا ہے کہ قوم کے جو بچے دنیاوی تعلیم حاصل کرنے چاہتے ہیں، ان میں دینی تعلیم ضرور ہونی چاہئے کہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ اسلام کیا ہے اور اس کی تعلیمات کیا ہیں۔  انہوں نے مزید کہا کہ اب روایتی  تعلیم کا کوئی مستقبل نہیں رہا اور ہمارے جو بچے دنیاوی تعلیم حاصل کررہے ہیں، اگر ان میں موجود قدرتی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرکے انہیں مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے تیار نہیں کیا جائے گا، تو وہ دوسری  قوم کے بچوں سے بہت پیچھے رہ جائیں گے، ایک ایسے دورمیں کہ جب نوکریوں کے مواقع محدود ہوکر رہ گئے ہیں، مسابقتی تعلیم کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے اور اسی بنیادی نکتہ کو ذہن میں رکھ کر اس کوچنگ سینٹرکا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وطن عزیز میں اب جس طرح کی مذہبی ونظریاتی محاذ آرائی شروع ہوئی ہے اس کا مقابلہ سوائے تعلیم کے کسی دوسرے ہتھیارسے نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے میں ہم سب کی یہ اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو بنیادی دینی تعلیم کے ساتھ عصری اعلیٰ تعلیم دلواکر اس لائق بنادیں کہ وہ اپنی ذہانت وصلاحیت سے کامیابی وکامرانی کی وہ منزلیں سرکرلیں، جن تک ہماری رسائی مشکل تربنادی گئی ہے۔

    تعلیمی پسماندگی پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت

    مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہم تعلیم میں دوسروں سے پیچھے کیوں رہ گئے؟ اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے دانستہ تعلیم سے کنارہ کشی نہیں کی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ بڑے بڑے مدارس کیوں قائم کرتے؟ تلخ سچائی یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے آنے والی فرقہ پرست طاقتوں نے ہمیں منصوبہ بند طریقہ سے تعلیمی پسماندگی کا شکار بنائے رکھا۔ مولانا مدنی نے وضاحت کی کہ ہمارے بچوں میں ذہانت اورصلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے اصل چیز انہیں بروئے کار لاکر ان کی رہنمائی کرنا ہے، پھر یہ بھی ہے کہ مسلمان اقتصادی طورپر کمزور ہے، اس لئے ہمارے بہت سے ذہین اور باصلاحیت بچے اعلیٰ تعلیم نہیں حاصل کرپاتے اور درمیان میں ہی تعلیم ترک کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کوچنگ سینٹرکے قیام کے پس پشت بنیادی مقصدیہی ہے کہ اس کے ذریعہ مالی طورپر کمزورمگر ذہین طلبا کو نہ صرف مفت کوچنگ فراہم کی جائے بلکہ انہیں مقابلہ جاتی امتحانات میں حصہ لینے کے لئے ذہنی طورپر تیارکیا جائے۔

     مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہم تعلیم میں دوسروں سے پیچھے کیوں رہ گئے؟ اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے دانستہ تعلیم سے کنارہ کشی نہیں کی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ بڑے بڑے مدارس کیوں قائم کرتے؟

    مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہم تعلیم میں دوسروں سے پیچھے کیوں رہ گئے؟ اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے دانستہ تعلیم سے کنارہ کشی نہیں کی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ بڑے بڑے مدارس کیوں قائم کرتے؟


    مذہبی شناخت کے ساتھ حاصل کریں دینی اور دنیاوی تعلیم

    جمعیۃ علماء ہند کے صدر ارشد مدنی نے کہا کہ اب ہمیں ایسے اسکول اور کالجوں کی اشد ضرورت ہے، جہاں ہمارے بچے اپنی مذہبی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے دینی اور دنیاوی دونوں تعلیم حاصل کرسکیں، بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس جانب قوم کے متمول اور بااثرافراد زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ اپیل کی کہ جن کو اللہ نے وسائل دے رکھے ہیں، وہ اپنے اپنے علاقوں میں ایسے اسکول اورکالج قائم کریں جو ایک ماڈل ہوں اور جہاں ہمارے بچے کسی امتیاز اور تفریق کے بغیر تعلیم حاصل کرسکیں۔ ہمارا ماننا یہ ہے کہ یہ قوم کی ایک بڑی خدمت بھی ہے اور ایک بہترین کاروبار بھی۔ جمعیۃ علماء ہند اس سلسلے میں بہت پہلے سے کام کر رہی ہے۔ مولانا حسین احمد مدنی چیرٹیبل ٹرسٹ کی جانب سے دیوبند میں ایسے اسکول و کالج قائم ہیں، جہاں طلبا و طالبات کو الگ الگ دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دی جارہی ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے مزید کہا کہ جمعیۃعلماء ہند ہر محاذپر کامیابی کے ساتھ کام کررہی ہے، چنانچہ ایک طرف جہاں وہ مکاتب اور مدارس قائم کررہی ہے۔ وہیں اب اس نے ایسی تعلیم پر زوردینا شروع کردیا ہے، جو ہر سطح پر ملک و قوم کی خدمت کرسکیں۔ اس سے مراد تکنیکی اور مسابقتی تعلیم ہے مفت کوچنگ سینٹرکا آغاز اس سمت میں ایک بڑی پہل ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہ پہل کامیاب ہوتی ہے تو آگے چل کر ہماری دیرینہ خواہش سول سروسز کے لیے کوچنگ سینٹر قائم کرنے کی ہے۔ واضح رہے کہ جمعیۃعلماء ہند 2012  سے میرٹ کی بنیادپر منتخب ہونے والے غریب طلبا کو اسکالرشپ فراہم کررہی ہے، اس سال 656 طلباء کو اسکالرشپ فراہم کی گئی ہے، جن میں ہندو طلبابھی شامل ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: