உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شہریت قانون کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کا ملک گیر مظاہرہ، مولانا محمود مدنی نے کہا۔ دستور کو پامال کرنے والا ہے یہ قانون

    شہریت قانون کے خلاف جنترمنتر پر جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمود مدنی

    شہریت قانون کے خلاف جنترمنتر پر جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمود مدنی

    متنازع شہریت ترمیمی قانون 2019 کی لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظوری کے خلاف آج جمعیۃ علماء ہند کی مختلف یونٹوں کی جانب سے ملک گیر پیمانے پر تقریبا دو ہزار شہروں میں’احتجاجی مظاہرہ‘ منعقد ہوا جس کی قیادت جنتر منتر، نئی دہلی پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کی

    • Share this:
      نئی دہلی۔ متنازع شہریت ترمیمی قانون 2019 کی لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظوری کے خلاف آج جمعیۃ علماء ہند کی مختلف یونٹوں کی جانب سے ملک گیر پیمانے پر تقریبا دو ہزار شہروں میں’احتجاجی مظاہرہ‘ منعقد ہوا جس کی قیادت جنتر منتر، نئی دہلی پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کی ۔ اس موقع پر ملک کے تمام بڑے شہروں دہلی ، ممبئی ، جے پور، بنگلور، حیدرآباد، وجے واڑہ، نلگنڈہ ، ناگپور، مشرقی و مغربی گوداوری، کلکتہ ، بھوپال، احمدآباد، پونے، سورت، چندی گڑھ، بنارس، کانپور،دیوبند، لکھنو، گوالپاڑہ،اگرتلہ وغیرہ میں بھی ہزاروں مظاہرین نے پلے کارڈ اور نعروں کے ذریعہ اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ اس موقع پر لوگوں نے جو پلے کارڈ اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے ان پر چند نعرے کچھ اس طرح لکھے تھے ’’ دستور بچاؤ، شہریت قانون واپس لو، مذہبی تفریق منظور نہیں، کیب بٹوارے کی سازش ہے ،ایک ملک- ایک قوم ، ہم اس کمیونل لاء کی مذمت کرتے ہیں ، کیب بھارت کے خلاف سازش‘۔



      شہریت ترمیمی بل کوئز میں حصہ لیں ۔


       

      لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل ( سی اے بی ) پیر کو منظور ہوگیا ۔ اس کوئز میں حصہ لے کر اس متنازع بل کے بارے میں اپنی معلومات کا اندازہ لگائیں ۔




      شہریت ترمیمی بل کے تحت تبت کے پناہ گزینوں کوملے گی شہریت ؟






       کیا، احمدیہ پناہ گزینوں جوپاکستان میں مذہبی ظلم و ستم کا شکارہوکربھاگ کرآئے انہیں شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت ملے گی؟







      کیا، بنگلہ دیش ہندومہاجرجو 2015 میں غیرقانونی طورپرہندوستان میں داخل ہوا ہے اسے شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟





      بنگلہ دیش کے ایک بدھسٹ مہاجرجن کا نام آسام کے نیشنل رجسٹرآف سیٹیزنس سے نکال دیاگیاہے اور اس کے خلاف فارین ٹرابیونل میں کیس زیرالتواء ہے تو کیا اسے شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟




      میگھالیہ آئین کے چھٹویں شیڈول کے تحت آتاہے اور یہ شہریت ترمیمی بل کے حدود سے باہر ہے تو کیا شیلانگ کے پولیس بازار میں رہنے والے ہندوبنگلہ دیش مہاجر،شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کےلیے درخواست داخل کرسکتاہے؟





      کیا تریپورہ میں قیام پذیر بنگالی ہندو مہاجرین کو شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل سکتی ہے ؟





      ہندوستان منتقل ہونے والے ہندو، سکھ، بدھیسٹ، جین، پارسی اور عیسائی مہاجرین جوپاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش میں مذہبی ظلم وستم شکار ہوئے ہیں، انہیں شہریت ترمیمی بل کے تحت خود بخود شہریت مل جائیگی ؟




      کوئی بھی ہندو مہاجر شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کا دعویٰ کرسکتاہے؟






      بنگلہ دیش کے چکما، ہاجنگ کے پناہ گزین جو اروناچل پریش میں قیام پذیز ہیں اور انہیں اب تک شہریت نہیں ملی ہے تو کیا انہیں شہریت ترمیم بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟






      کیا سری لنگا سے آنے والے ہندو تامل مہاجرین شہریت ترمیم بل کے تحت ہندوستانی شہریت حاصل کرسکتے ہیں؟





      آسامی میں بات کرنے والے ہندو، جو جوہرہاٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں مناسب دستاویزات کی عدم موجودگی کے سبب نیشنل رجسٹرآف سیٹزنس میں شامل نہیں کیاگیاہے؟ کیا وہ شہریت ترمیمی بل کے شہریت کے لیے درخواست داخل کرسکتے ہیں؟

       








       


      یہاں جنتر منتر، نئی دہلی پر منعقد پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ یہ قانون ملک کے دستور کو پامال کرنے والا ہے۔ ہم اس کو مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ ملک کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ امن و امان قائم رکھیں، ہم بزدل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ایک زندہ قوم ہے اور زندہ قوموں کو پریشانی ہوتی ہے مگر وہ اس پریشانی سے نکلنے کی راہ بھی نکالتی ہے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ آج جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام پورے ملک میں تقریبا دو ہزار شہروں اور قصبات میں احتجاج ہو رہا ہے ۔ یہاں دہلی میں مختلف جگہوں پر پولس نے لوگوں کو روک رکھا ہے، مجھے یہاں آنے میں ایک گھنٹے لگ گئے ۔ ہم آپ سے صرف اتنا کہتے ہیں کہ باعزت زندگی گزارنے کے لیے حوصلہ کے ساتھ اور اعتماد کے ساتھ صبر و دانشمندی کا مظاہرہ ضروری ہے ۔
      اس موقع پر اپنے خطاب میں جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا نیاز احمد فاروقی نے کہا کہ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ بل پاس ہوگیا ہے، اب مظاہرے سے کوئی فائد ہ نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ  لڑائی تو اب شروع ہوئی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مسلمان کبھی فائدہ اور نقصان کا حساب کرکے حق کے لیے آواز بلند نہیں کرتا بلکہ وہ اس لیے ایسا کرتا ہے کیوں کہ اس کا ایمان اسے حق بولنے کا حکم دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین کی لڑائی وقتی نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل جد وجہد کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر ملک بھر میں احتجاج کے بعد ڈی ایم، ایس ڈی ایم کے ذریعہ صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک میمورنڈم بھی ارسال کیا گیا۔ د ہلی میں باضابطہ صدارتی محل پہنچ کر میمورنڈم دیا گیا۔
      First published: