ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جمعیۃ علماء ہند نے شہریت ترمیمی بل کو بتایا آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے خلاف، عدالت میں کرے گی چیلنج

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند اس لئے اس بل کو عدالت میں چیلنج کرے گی کیوں کہ قانون سازیہ نے ایمانداری سے اپنا کام نہیں کیا ہے۔ اس لئے اب عدلیہ ہی اس پر کوئی بہتر فیصلہ کرسکتی ہے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu

نئی دہلی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے شہریت ترمیمی بل 2019 کے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں منظور ہونے کو بدبختانہ اور آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے خلاف قرار دیتے ہوئےاسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی بات کہی ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ لوک سبھا سے منظوری کے بعد ہماری پوری کوشش تھی کہ یہ بل راجیہ سبھا سے نہ پاس ہو، اس کے لئے ہم نے مختلف پارٹیوں کے ذمہ داران سے نہ صرف رابطہ قائم کیا بلکہ انہیں اس بات پر قائل بھی کیا کہ اس خطرناک بل کے ملک پر کس حد تک مضراثرات مرتب ہوں گے مگر افسوس خود کو سیکولرکہنے والی کچھ پارٹیوں نے غیر ذمہ دارانہ رویہ کا ثبوت دیا اور یہ بل راجیہ سبھا سے بھی پاس ہوگیا۔

مولانا نے کہا کہ اس بل سے آئین کی دفعہ 14اور 15کی صریحاً خلاف ورزی ہوتی ہے جن میں اس بات کی کھلی ہدایت ہے کہ ملک میں کسی بھی شہری کے ساتھ رنگ ونسل اور مذہب کی بنیاد پر کسی طرح کی تفریق نہیں کی جائے گی اور ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک ہو گا۔  مولانا مدنی نے کہا کہ اس بل کا مکمل مسودہ مذہبی امتیاز اور تعصب کی بنیاد پر تیارہوا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے جو مظلوم اقلیتیں بھاگ کر ہندستان آئیں گی، انہیں نہ صرف پناہ بلکہ شہریت بھی دی جائے گی  جب کہ مسلم شہریوں کو اس سے الگ رکھا گیا ہے جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعہ مذہبی بنیاد پر ملک کے شہریوں کے درمیان ایک لکیر کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے۔




وزیر داخلہ امت شاہ لوک سبھا میں


مولانا مدنی نے کہا کہ وہیں اس بل کی وجہ سے ملک کی سلامتی اور سیکورٹی کو بھی سخت خطرہ لاحق ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ دستاویزات کے بغیر جن لوگوں کو شہریت دینے کا راستہ ہموار کیا جارہا ہے ہوسکتا ہے ان میں سے کچھ لوگ ملک دشمن عناصر کے ایجنٹ بن کر ملک کی تباہی وبربادی کا ذریعہ بن جائیں۔ انہوں نے اگے کہا کہ یہ بل قانونی خامیوں سے بھرا ہوا ہے اور آئین کے جو رہنما اصول ہیں ان سے متصادم ہے۔ آئین میں یہ اہم نکتہ موجود ہے کہ قوانین میں ترمیم کرتے وقت آئین کی روح یا اس کے بنیادی ڈھانچہ سے کسی طرح کی چھیڑچھاڑ نہیں کی جائے گی جبکہ اس بل میں مذہبی بنیاد پر تعصب اور امیتاز کی راہ اختیارکرکے آئین کے بنیادی ڈھانچہ پر ضرب لگانے کی دانستہ کوشش ہوئی ہے۔ مولانا نے کہا کہ آئین کی دفعہ 13میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر کوئی عمل بنیادی حقوق سے ٹکراتا ہے تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی یعنی اگرآئین میں کسی طرح کی ترمیم ہوتی ہے یا قانون سازی کی جاتی ہے اور وہ بنیادی حقوق سے متصادم ہوتا ہے تو اس کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ شہریت ترمیمی بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر بھی کاری ضرب لگاتا ہے۔



شہریت ترمیمی بل کوئز میں حصہ لیں ۔


 

لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل ( سی اے بی ) پیر کو منظور ہوگیا ۔ اس کوئز میں حصہ لے کر اس متنازع بل کے بارے میں اپنی معلومات کا اندازہ لگائیں ۔




شہریت ترمیمی بل کے تحت تبت کے پناہ گزینوں کوملے گی شہریت ؟






 کیا، احمدیہ پناہ گزینوں جوپاکستان میں مذہبی ظلم و ستم کا شکارہوکربھاگ کرآئے انہیں شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت ملے گی؟







کیا، بنگلہ دیش ہندومہاجرجو 2015 میں غیرقانونی طورپرہندوستان میں داخل ہوا ہے اسے شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟





بنگلہ دیش کے ایک بدھسٹ مہاجرجن کا نام آسام کے نیشنل رجسٹرآف سیٹیزنس سے نکال دیاگیاہے اور اس کے خلاف فارین ٹرابیونل میں کیس زیرالتواء ہے تو کیا اسے شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟




میگھالیہ آئین کے چھٹویں شیڈول کے تحت آتاہے اور یہ شہریت ترمیمی بل کے حدود سے باہر ہے تو کیا شیلانگ کے پولیس بازار میں رہنے والے ہندوبنگلہ دیش مہاجر،شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کےلیے درخواست داخل کرسکتاہے؟





کیا پاکستان سے غیرقانونی طورپر آکرناگا لینڈ کے دیما پور میں رہنے والا مہاجر شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کے لیے درخواست داخل نہیں کرسکتاہے کیوں کہ ناگا لینڈ میں انرلائن پرمٹ کا نفاذ ہے جو شہریت ترمیمی بل کے حدود سے باہر ہے؟







کیا تریپورہ میں قیام پذیر بنگالی ہندو مہاجرین کو شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل سکتی ہے ؟





ہندوستان منتقل ہونے والے ہندو، سکھ، بدھیسٹ، جین، پارسی اور عیسائی مہاجرین جوپاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش میں مذہبی ظلم وستم شکار ہوئے ہیں، انہیں شہریت ترمیمی بل کے تحت خود بخود شہریت مل جائیگی ؟




کوئی بھی ہندو مہاجر شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کا دعویٰ کرسکتاہے؟






بنگلہ دیش کے چکما، ہاجنگ کے پناہ گزین جو اروناچل پریش میں قیام پذیز ہیں اور انہیں اب تک شہریت نہیں ملی ہے تو کیا انہیں شہریت ترمیم بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟






کیا سری لنگا سے آنے والے ہندو تامل مہاجرین شہریت ترمیم بل کے تحت ہندوستانی شہریت حاصل کرسکتے ہیں؟





آسامی میں بات کرنے والے ہندو، جو جوہرہاٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں مناسب دستاویزات کی عدم موجودگی کے سبب نیشنل رجسٹرآف سیٹزنس میں شامل نہیں کیاگیاہے؟ کیا وہ شہریت ترمیمی بل کے شہریت کے لیے درخواست داخل کرسکتے ہیں؟








 

 


مولانا مدنی نے مزید کہا کہ اس بل کے اثرات ابھی بھلے ہی نظرنہ آئیں لیکن جب پورے ملک میں این آرسی لاگو ہوگی اس وقت یہ بل ان لاکھوں لاکھ مسلم شہریوں کیلئے ایک قیامت بن جائے گا جو کسی وجہ سے اپنی شہریت ثابت نہیں کرپائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دلیل بالکل غلط ہے کہ شہریت بل کا این آرسی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ بل این آرسی کو ذہن میں رکھ کرہی لایا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کے لئے این آرسی کے عمل کو مشکل تربنا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل اس لئے بھی خطرناک ہے کہ اس سے ملک میں صدیوں سے موجود مذہبی اور تہذیبی اتحاد کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ یہ ہندو۔ مسلم کا مسئلہ ہرگزنہیں ہے بلکہ انسانی حقوق اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک بل ہے جس کے پیچھے خالص سیاسی مقاصد کارفرماہیں۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند اس لئے اس بل کو عدالت میں چیلنج کرے گی کیوں کہ قانون سازیہ نے ایمانداری سے اپنا کام نہیں کیا ہے۔ اس لئے اب عدلیہ ہی اس پر کوئی بہتر فیصلہ کرسکتی ہے۔ اس سلسلے میں وکلاء سے مشورہ کیا جاچکا ہے اور پٹیشن کا مسودہ تیار ہورہا ہے۔
First published: Dec 12, 2019 01:55 PM IST