உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جمعیت علما ہند کو طالبان سے حقوق انسانی کے احترام اور ہندوستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی امید

    جمعیت علما ہند کو طالبان سے حقوق انسانی کے احترام اور ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی امید

    جمعیت علما ہند کو طالبان سے حقوق انسانی کے احترام اور ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی امید

    جمعیۃ علما ہند مجلس عاملہ کے اجلاس میں ملک کے موجودہ حالات، افغانستان کی جدید سیاسی صورت حال، معاشرتی اصلاح، کسانوں کی تحریک اور ساتھ ہی دوسرے اہم ملی وسماجی ایشوز پر تفصیل سے غور وخوض ہوا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    نئی دہلی : آج مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند کے مفتی کفایت اللہ ہال میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محموداسعد مدنی کے زیر صدارت مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ملک کے موجودہ حالات، افغانستان کی جدید سیاسی صورت حال، معاشرتی اصلاح، کسانوں کی تحریک اور ساتھ ہی دوسرے اہم ملی وسماجی ایشوز پر تفصیل سے غور وخوض ہوا۔ جمعیۃ علماء ہند کی صدارت کے لیے سبھی اکیس ریاستوں کی مجالس عاملہ کی طرف سے متفقہ طور سے مولانا محمود اسعد مدنی کے نام کی تجویز آئی ہے ، جسے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹر ی مولانا حکیم الدین قاسمی نے مجلس عاملہ میں پیش کیا ۔ مجلس عاملہ نے منظور کرتے ہوئے اگلے ٹرم کی صدارت کے لیے ’مولانامحمود مدنی‘ کے نام پر مہر ثبت کی ۔ اس طرح مولانا مدنی نے تجاویز پر دستخط کرکے عہدہ صدارت کا چارج سنبھال لیا ۔

    مجلس عاملہ میں ملک میں طویل عرصے سے جاری کسانوں کی تحریک پرتفصیل سے تبادلہ خیال ہوا ۔ مولانا محمود مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ جمہوریت کی طاقت یہ ہے کہ ہر ایک اپنے مطالبات اور مسائل پر احتجاج کا حق رکھتاہے ، کسانوں کو بھی اپنے حق کے لیے تحریک چلانے کا بنیادی و ا ٓئینی حق حاصل ہے ، لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ موجودہ سرکار ایسی تحریکوں کو ایڈریس کرنے کب بجائے اسے کچلنے پر یقین رکھتی ہے ۔ حالاںکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان کا یہ بنیادی حق تسلیم کیا ہے، جس کے تحفظ کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہو تی ہے۔

    سبھی پہلوؤں پر غور و خوض کے بعد مجلس عاملہ نے اعلان کیا کہ کسانوں کی حسب سابق حمایت کی جائے گی ۔ مجلس عاملہ نے اصلاح معاشرہ کی زمینی تحریک کو موجودہ دور میں سب سے اہم فریضہ متصور کرتے ہوئے اس سلسلے میں شعبہ اصلاح معاشرہ کی طرف سے تحریر کردہ رہ نما اصول کو منظور ی دی اور سماج و برادری کے بااثر افراد کو جوڑ کر با معنی و بامقصد تحریک چلانے کو اولین ذمہ داری قرار دیا۔ واضح ہو کہ جمعیۃ علما ء ہند 1922 سے معاشرتی اصلاح کی تحریک چلارہی ہے، بالخصوص 1991 میں اس وقت کے صدر جمعیۃعلماء ہند حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی نے اسے ایک تحریک کی شکل دی تھی اور بیل گاڑیوں پر گاؤں گاؤں سفر کرکے سماج سدھار کا کام کیا تھا، ا ن کی اتباع میں ملک میں بہت ساری ایسی تحریکیں شروع ہوئیں، وہ اپنے اپنے انداز میں جاری ہیں۔

    مجلس عاملہ میں افعانستان میں رو نماہونے والی نئی سیاسی تبدیلی پر غور و خوض ہوا ۔ مجلس عاملہ نے ایک طویل عرصے تک عالمی طاقتوں کے ساتھ مقابلہ آرائی اور بے شمار قربانیوں کے بعد اپنے ملک کو بیرونی مداخلت سے پاک کرکے اقتدار تک پہنچنے والی جماعت ’طالبان‘ سے امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ اسلامی اقدار اور نبوی کردار کی روشنی میں حقوق انسانی کا احترام کرتے ہوئے ملک کے تمام طبقات کے سا تھ منصفانہ اور کریمانہ معاملہ کریں گے ۔ نیز خطے کے تمام ممالک بالخصوص ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو خوشگوار اور مستحکم بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو نے دیں گے۔

    واضح رہے کہ ماضی میں افغانستان کے ساتھ ہندوستان کے قریبی، تہذیبی روابط رہے ہیں او رنئے افغانستان کی تعمیر و ترقی میں ہندستان کا بہت اہم کردار ہے، جس کا جیتا جاگتا ثبوت افغانی پارلیمنٹ کی جدید عمار ت، ملک کے طول و عرض میں چلنے والے ترقیاتی منصوبے اور وسیع شاہ راہیں ہیں، ایسی صورت حال میں بہتر یہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھی جائیں تا کہ گزشتہ چالیس سال سے جنگ و خوف کے سایے میں زندگی بسر کرنے والے افغان عوام سکون کی سانس لے سکیں اور ہر طر ح کے بیرونی خطرات سے محفوظ رہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: