உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi News: جمعیت علماء ہندکےسدبھاؤناپروگرام میں ملک بچانےکی تحریک پرمتفق ہوئے مذہبی رہنما

    جمعیت علماء ہندکاسدبھاؤناپروگرام

    جمعیت علماء ہندکاسدبھاؤناپروگرام

    Hindu-Muslim Unity:جمعیۃ علماء ہندکےصدرمولانا محمود مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ یہی بھارت کی آتماہے جس کی وجہ ہم سب یہاں جمع ہو ئے ہیں۔ آج جو حالات ہیں ، اس کا نقصان کسی ایک کمیونٹی کو نہیں بلکہ دیش کو ہوگا ۔ ایک طرف ہمارا خواب یہ ہے کہ بھارت وشو گرو بنے ، دوسری طرف ایک طاقت ہے جو بھارت کی وراثت اور اس کی شناخت کو لگاتار خراب کررہی ہے ۔

    • Share this:
    Delhi News:جمعیت علماء ہند کی جانب سے ملک کی موجود ہ حالات میں بہتری لانے کے مقصد سے سدبھاؤنا پروگرام کا اہتمام کیاگیا۔ اس موقع پر مذہبی رہنماؤں نے ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور ملک کو بچانے کے لیے ایک متحدہ تحریک چلانے پر اتفاق کیاہے۔ اپنے خصوصی خطاب میں سرودھرم سنسد کے نیشنل کنوینر گوسوامی سشیل جی مہاراج نے کہا کہ آج ہندوستان ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں اس طرح کے پروگرام کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے ۔آج کل ٹی وی پر جو بحث ہورہی ہے ، اس پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے سماج میں زہر گھو ل دیا ہے ، جس سے دیش میں فرقہ پرستی کا ماحول خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے ۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ جو لوگ دیش کو توڑنا چاہتے ہیں ، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو ں گے ، یہ بھارت سب کا ہے اور ہمیشہ سب کا رہے گا ۔ اس ملک کے لیے سبھی نے قربانی دی ہے ،جس کی علامت سوسالہ جماعت جمعیۃ علماء ہند ہے ،اس لیے کوئی کسی کی راشٹریہ بھکتی سے سوال نہیں اٹھا سکتا۔انھوں نے کہ ہم سرودھرم سنسد کی طرف سے جمعیۃ کی تحریک کی پرزور حمایت کرتے ہیں ۔

    جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ یہی بھارت کی آتما ہے جس کی وجہ ہم سب یہاں جمع ہو ئے ہیں۔ آج جو حالات ہیں ، اس کا نقصان کسی ایک کمیونٹی کو نہیں بلکہ دیش کو ہوگا ۔ ایک طرف ہمارا خواب یہ ہے کہ بھارت وشو گرو بنے ، دوسری طرف ایک طاقت ہے جو بھارت کی وراثت اور اس کی شناخت کو لگاتا ر خراب کررہی ہے ۔انھوں نے ہمارے ملک میں نااہلوں کے بیانات کو شہ سرخی بنائی جاتی ہے مگر جو انصاف اور دوستی کی بات کرتے ہیں ، ان کو کنارہ کیا جارہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ محبت سے دیا جاسکتا ہے،حال میں جو واقعات ہو ئے ، اس میں نفرت کا جواب نفرت کی دیے جانے کی کوشش کی گئی جو انتہائی افسوسناک ہے۔ نہ اسلام اور نہ انسانیت میں اس کی کوئی گنجائش ہے

     سدبھاؤنا پروگرام کا اہتمام ۔(تصویر:خرم علی شہزاد)۔
    سدبھاؤنا پروگرام کا اہتمام ۔(تصویر:خرم علی شہزاد)۔


    اجلاس کی صدارت مولانا محمود مدنی صدر جمعیۃ علماء ہندنے کی۔ اس اجلاس میں خاص طور سے بھارتیہ سرو دھرم سنسد کے نیشنل کنوینر سوشیل جی مہاراج، اہمسا وشو بھارتی کے صدر اچاریہ لوکیش منی،روی داس سماج کے مشہور مذہبی رہ نما سوامی ویر سنگھ ہتکاری مہاراج ،بودھ دھرم گرواچاریہ یشی پھون ٹوسک ، پادری موریش پارکر وغیرہ شریک ہوئے اور سبھوں نے مشترکہ طورپر متحدہ تحریک  چلانے پر اتفاق کیا۔

    یہ پڑھیں

    بودھ دھرم گرواچاریہ یشی پھون ٹوسک نے کہا کہ سبھی دھرم گرو مل کر مذہبی منافرت ختم کرسکتے ہیں ۔انسانیت کا احترام کا دائرہ وسیع ہو نا چاہیے، بھارت ہی میں زیادہ تر مذاہب کا وجود ہوا ہے، اس لیے ہم سب ایک ہیں ۔انھوں نے کہا کہ گرچہ ہماری پہچان الگ الگ ہے ، لیکن یہاں دوام کسی کو نہیں ہے ، آخرت میں صرف نیکی ہی کام آئے گی ۔ڈاکٹر آر وجیا سروستھی پرووائس چانسلر ایس ایم ٹی یو نے سبھی دھرموں کے سلام سے اپنی بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تعارف کے لیے یہ کہنا کافی ہے کہ میں انسان ہوں ، آج اس منچ پر وحدت کا منظر ہے ،محبت سب سے بڑی چیز ہے ، اس لیے پیار بانٹنا چاہیے۔انھوں نے عدم تشد د پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سوچ بدلو دیش بدلے گا ۔

    پروگرام کے آغاز میں جمعیۃ علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ میرے دل میں اس کی بہت قدر ہے کہ آپ نے بہت ہی کٹھن وقت میں دلوں کو جوڑنے کا سنکلپ لیا ہے ،جو اتناآسان نہیں ہے۔ لیکن کوئی سنکلپ، پانے کی امید سے نہیں لیا جاتا بلکہ خود کو مٹانے کی امید سے لیا جاتا ہے۔ ہم سب اپنی ماتر بھومی ، اس دھرتی اور وطن کے لیے ہر طرح سے خود کو مٹنے کے لیے تیار ہیں
    Published by:Mirzaghani Baig
    First published: