ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کورونا سے ہلاک ہونے والی لاشوں کی تدفین کرنے والے بہادروں کو جمعیۃ علماء نے اعزاز سے سرفراز کیا

کورونا کی خطرناک بیماری کے دوران اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھتے ہوئے بنگلورو کے مسلم نوجوانوں نے جمعیت علماء ہند کی سرپرستی میں انسانیت کی ایک عظیم خدمت انجام دی ہے۔ تقریبا 125 نوجوانوں نے شہر کے مختلف قبرستانوں میں کورونا کی لاشوں کی تدفین کا کام پورے ادب و احترام کے ساتھ انجام دیا ہے۔

  • Share this:
کورونا سے ہلاک ہونے والی لاشوں کی تدفین کرنے والے بہادروں کو جمعیۃ علماء نے اعزاز سے سرفراز کیا
کورونا لاشوں کی تدفین کرنے والے بہادروں کو جمعیت علماء نے پیش کیا سند و اعزاز

بنگلورو: کورونا کی خطرناک بیماری کے دوران اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھتے ہوئے بنگلورو کے مسلم نوجوانوں نے جمعیۃ علماء ہند کی سرپرستی میں انسانیت کی ایک عظیم خدمت انجام دی ہے۔ تقریباً 125 نوجوانوں نے شہر کے مختلف قبرستانوں میں کورونا کی لاشوں کی تدفین کا کام پورے ادب و احترام کے ساتھ انجام دیا ہے۔ نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو اور عیسائی طبقہ کی کئی لاشوں کو ان کے ان کے مذہب کی آخری رسومات کے مطابق آخری رسوم ادا کرنے کا کام بھی ان نوجوانوں نے انجام دیا ہے۔ بنگلورو میں خدمت خلق کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ کورونا کے ایسے بہادروں کو اعزاز پیش کرنے کیلئے بنگلورو کے شیواجی نگر کی لال مسجد میں ایک یادگار تقریب منعقد ہوئی۔


کورونا کے بہادروں کو اعزاز پیش کرنے کیلئے بنگلورو کے شیواجی نگر کی لال مسجد میں ایک یادگار تقریب منعقد ہوئی۔
کورونا کے بہادروں کو اعزاز پیش کرنے کیلئے بنگلورو کے شیواجی نگر کی لال مسجد میں ایک یادگار تقریب منعقد ہوئی۔


جمعیۃ علماء ہند کرناٹک کے تحت منعقدہ اس تقریب میں کورونا لاشوں کی تدفین اور آخری رسومات انجام دینے کیلئے دن اور رات خدمت کرنے والے نوجوانوں کو سند اور اعزاز سے نوازا گیا۔ تقریب میں جمعیۃ علماء ہند کے ریاستی صدر مولانا افتخار احمد قاسمی، مقامی ایم ایل اے رضوان ارشد اور دیگر نے شرکت کی۔ کورونا لاشوں کی تدفین کا کام انجام دینے والی ٹیموں کے نمائندوں نے اپنے اپنے تجربات بیان کئے۔ ٹیانری روڈ قبرستان ٹیم کی قیادت کرنے والے سید رسالت جاہ نے کہا کہ خوف و دہشت کے ماحول میں کورونا کی لاشوں کو دفنانے کا کام کسی چیلنج سے کم نہ تھا۔ اسپتال کی جانب سے جیسے ہی لاش حوالے کی جاتی، علماء کرام کے بتائے گئے طریقوں کے مطابق غسل تیمم، نماز جنازہ اور تدفین کا کام پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا گیا۔ جب چند اسپتالوں نے  غیر مسلم لاشوں کو حوالے کیا تو ٹیم کے ارکان نے علمائے کرام سے رائے مشورہ کیا اور پھر برادران وطن کی لاشوں کو ان کے مذہب کے آخری رسومات کے مطابق انجام دیا گیا۔


 جمعیۃ علماء ہند کرناٹک کے تحت منعقدہ اس تقریب میں کورونا لاشوں کی تدفین اور آخری رسومات انجام دینے کیلئے دن اور رات خدمت کرنے والے نوجوانوں کو سند اور اعزاز سے نوازا گیا۔

جمعیۃ علماء ہند کرناٹک کے تحت منعقدہ اس تقریب میں کورونا لاشوں کی تدفین اور آخری رسومات انجام دینے کیلئے دن اور رات خدمت کرنے والے نوجوانوں کو سند اور اعزاز سے نوازا گیا۔


سید رسالت جاہ نے کہا کہ اس کام کو جب ہندو اور عیسائی بھائی دیکھتے تو ڈھیر ساری دعائیں دینے لگ جاتے۔ قدوس صاحب قبرستان ٹیم کے نمائندے عبدالمحب نے کہا کہ Helping Hand نامی ٹیم تشکیل دیتے ہوئے کورونا لاشوں کی تدفین کا کام انجام دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رضاکاروں کی ٹیم میں کوئی نجی کمپنی کا ملازم ہے، تو کوئی تاجر کوئی کالج کا طالب علم، سبھوں نے ملکر اللہ کو راضی کرنے کیلئے یہ خدمت کی ہے۔ عبدالمحب نے کہا کہ کبھی کبھی اسپتال میں لاشوں کی صحیح طرح پیکنگ نہیں کی جاتی تھی، لیکن جب لاش انکے ہاتھوں میں آجاتی تو بڑے ادب کے ساتھ پورے احتیاط کے ساتھ تدفین کا کام انجام دیا گیا۔گوری پالیہ جامع مسجد کے صدر منور خان نے کہا کہ میسور روڈ قبرستان میں ابتداء میں جمعیت علماء ہند کے تحت تدفین کا کام انجام دیا گیا۔ لیکن جیسے جیسے لاشوں کی تعداد بڑھنے لگی مقامی ایم ایل اے ضمیر احمد خان نے رضاکاروں کی ایک ٹیم تشکیل دی اور یہ ٹیم پوری ذمہ داری کے ساتھ میسور روڈ قبرستان میں کورونا کے لاشوں کی تدفین کا کام انجام دے رہی ہے۔ منور خان نے کہا کہ جمعیت علماء ہند کے تحت میسور روڈ، گوری پالیہ میں کووڈ اور غیر کووڈ مریضوں کیلئے آکسیجن کی فراہمی اور دیگر طبی خدمات انجام دی جارہی ہیں۔  جمعیت علماء ہند کے ریاستی صدر مولانا افتخار احمد قاسمی نے کہا کہ سی اے اے، این آر سی کے خلاف جاری احتجاجوں میں جمعیت کے تحت رضاکاروں کی ایک بڑی ٹیم سرگرم تھی۔ جیسے ہی لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا یہ پوری ٹیم متاثرین کی مدد کیلئے آگے آئی، لاک ڈاؤن میں  کھانہ، راشن تقسیم کرنے کے کام انجام دیا۔ جب کورونا وبا سے اموات ہونی لگیں تو تقریبا 125 رضاکاروں پر مشتمل الگ الگ ٹیموں نے شہر کے مختلف قبرستانوں میں تدفین کا کام کرنا شروع کیا۔ ساتھ ہی ضرورت مندوں تک طبی امداد پہنچانے کا کام بھی انجام دیا گیا۔



مولانا افتخار احمد قاسمی نے کہا کہ ان رضاکاروں کی بے لوث اور انسانیت نواز خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے جمعیت علماء ہند نے انہیں دعاؤں کے ساتھ سند اور اعزاز پیش کیا ہے۔ شیواجی نگر کے ایم ایل اے رضوان ارشد نے کہا کہ کورونا بیماری کے دوران مسلمانوں کو بدنام کرنے کی خوب کوششیں کی گئیں۔ لیکن شہر کے مسلم نوجوانوں نے بلا لحاظ مذہب و ملت خدمات انجام دیتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کو بخوبی جواب دیا ہے۔ہوسکوٹے مسلم جماعت کے رکن ڈاکٹر سید مزمل نے کہا کہ گزشتہ پانچ مہینوں میں مسلم نوجوانوں کی خدمت قابل ستائش رہی ہے۔ ان نوجوانوں نے نہ صرف انسانیت بلکہ حکومت کی بھی مدد کی ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ مصیبت اور آفت کی گھڑی میں وہ راحت اور بچاؤ کے کاموں کیلئے تیار ہیں۔جمعہ مسجد ٹرسٹ بورڈ کے ٹرسٹی عثمان شریف نے کہا کہ فرقہ پرستی اور نفرت کے ماحول کو پیار و محبت، امن و اتحاد میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ مسلم رضاکاروں کی یہ خدمت ملک کے سیکولر ڈھانچہ کو مضبوط کرتی ہے۔ آپسی بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے۔ صحت مند اور خوشحال معاشرہ کو پروان چڑھاتی ہے۔

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 07, 2020 11:58 PM IST