سرینگر:190سے زائد اسکولوں کے تالے کھلے، کشمیر میں مجموعی طور پرحالات قابومیں

Aug 19, 2019 09:09 AM IST | Updated on: Aug 19, 2019 01:54 PM IST
سرینگر:190سے زائد اسکولوں کے تالے کھلے، کشمیر میں مجموعی طور پرحالات قابومیں

کشمیر میں مجموعی طور پر حالات قابو میں۔(تصویر:پی ٹی آئی)۔

وادی کشمیر میں آج سے پرائمری اسکول کھلیں گے۔ چودہ دنوں کے بعد وادی میں اسکول کھل رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں پرنسپل سکریٹری نے پریس کانفرنس میں اسکولوں کو کھولنے کی بات کہی تھی۔ وادی کشمیر میں مجموعی طور پر حالات قابو میں ہیں ۔ وادی کے کئی علاقوں میں پابندیوں میں نرمی بھی برتی گئی ہے۔

جموں وکشمیر میں آرٹیکل 370کی منسوخی کے بعد ریاست میں عائد پابندیاں آہستہ آہستہ ہٹا دی جارہی ہیں۔ موبائل انٹرنیٹ،اسکول اور دیگر پابندیوں میں اب چھوٹ دی جارہی ہے۔ تقریبا 14 دن بعد سری نگر میں آج 190 پرائمری اسکول کھل جائیں گے۔ پچھلے کئی دنوں سے گھروں میں قید بچوں کو ایک بار پھر اسکولوں کی رونق بننے کا موقع ملے گا۔ تاہم سینئر کلاسوں کے اسکولوں کو ابھی تک کھولنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ، کسی بھی ناخوشگوار واقعات سے نمٹنے کے لئے سکیورٹی فورسز کو 24 گھنٹے ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔

Loading...

جموں و کشمیر کے پرنسپل سکریٹری روہت کنسل نے اتوار کے روزکہا کہ سری نگر میں صرف 190 پرائمری اسکول دوبارہ کھولے جا رہے ہیں۔ سری نگر کے جن علاقوں میں اسکول کھولیئے جائیں گے ان میں لزان ، سانگری ، پنتچاؤک ،راجباغ، جواہرنگر، نوگام، گیگریبل، دھارا، تھیڈ، باتملواورشالٹینگ شامل ہیں۔ کنسل نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے پیش نظر، اسکول بند رہنے وجہ سے اس ماہ کے آخر میں ضمنی کلاسز کا انعقاد کیا جائے گا۔ ایک بار جب اہم شہروں میں صورتحال معمول پرآجائیگی تودوسرے اضلاع کے اسکول بھی کھول دیئے جائیں گے۔

بچوں کے لئے مکمل سکیورٹی

روہت کنسل نے بتایا کہ سری نگر کے ڈپٹی کمشنرشاہد اقبال چودھری نے سنیچر کے روز محکمہ تعلیم کے عہدیداروں اوراسکولوں کے سربراہان سے ملاقات کی۔ اس میٹنگ میں ضلع میں اسکول کھولنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسکولوں کی حفاظت ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور سکیورٹی کو مستحکم کرنے کے لئے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔

وادی میں حالات قابو میں ہیں

کنسل نے کہا کہ وادی کشمیرمیں، پابندیوں کونرمی دی جارہی ہے۔ مقامی حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اسی دوران ، سری نگر کے ڈی سی نے کہا کہ اب صورتحال کافی حد تک قابو میں ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ جلد سے جلد ہی جموں و کشمیرعام زندگی پڑی پرلوٹیں اور وادی کے بازاروں میں دوبارہ رونقیں دکھائے دیں۔

لینڈ لائن فون خدمات بھی بحال کردی گئیں

ریاست میں عام زندگی کو ہموار بنانے کے مقصد کے ساتھ اتوار کے روز لینڈ لائن فون خدمات بھی بحال کردی گئیں۔ پرنسپل سکریٹری روہت کنسل نے بتایا کہ 35 پولیس اسٹینشوں کے حددو میں پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔ جبکہ 27 ٹیلیفون ایکسچینجز سے مربوط 50،000 سے زیادہ لینڈ لائن فونز کو آپریشنل کردیا گیا ہے۔ جلد ہی کچھ اور پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔

موبائل انٹرنیٹ خدمات ایک بار پھر بند

آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد اتوار کو جموں میں افواہوں کو پھیل نے کے پیش نظر5 اضلاع میں شروع کی گئی 2 جی موبائل انٹرنیٹ خدمات پر ایک بار پھر پابندی عائد کردی گئی۔ سنیچر کی صبح ٹیلیفون اورانٹرنیٹ سروس بحال کردی گئی تھی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ یہ فیصلہ افواہوں کو پھیلنے سے روکنے اور امن برقرار رکھنے کے لئے لیا گیا ہے۔

Loading...