سرینگر:42 ویں دن بھی دفعہ 144نافذ،دکانیں اورتجارتی مراکزبند

سرینگر میں دفعہ 144، 42 روز بھی نافذ ہے۔ حالانکہ بیشتر مقامات سے بندشیں ہٹا لی گئی ہیں۔ حساس مقامات پرنظم و نسق کی برقراری کے لیے سکیورٹی کے خاص بندوبست کیے گئے ہیں۔ دکانیں اور تجارتی مراکز بند ہیں۔ ۔موبائل اورانٹرنیٹ خدمات معطل ہیں۔ نجی گاڑیاں سڑکوں پر نظرآرہی ہیں لیکن پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔ حکومت کی جانب سے حالات پر بدستور نظر رکھی جا رہی ہے۔

Sep 15, 2019 11:46 AM IST | Updated on: Sep 15, 2019 04:23 PM IST
سرینگر:42 ویں دن بھی دفعہ 144نافذ،دکانیں اورتجارتی مراکزبند

سرینگر:42 ویں دن بھی دفعہ 144نافذ،دکانیں اورتجارتی مراکزبند۔(تصویر:نیوز18)۔

سرینگر میں دفعہ 144، 42 روز بھی نافذ ہے۔ حالانکہ بیشتر مقامات سے بندشیں ہٹا لی گئی ہیں۔ حساس مقامات پرنظم و نسق کی برقراری کے لیے سکیورٹی کے خاص بندوبست کیے گئے ہیں۔ دکانیں اور تجارتی مراکز بند ہیں۔ ۔موبائل اورانٹرنیٹ خدمات معطل ہیں۔ نجی گاڑیاں سڑکوں پر نظرآرہی ہیں لیکن پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔ حکومت کی جانب سے حالات پر بدستور نظر رکھی جا رہی ہے۔

وادی بھر میں ہفتہ کو مسلسل 42 ویں دن بھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت معطل رہی۔ تاہم سری نگر کے سول لائنز و بالائی شہر اور مختلف اضلاع کو سری نگر کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں پر بڑی تعداد میں نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ سری نگر میں کچھ سڑکوں پر آٹو رکھشا بھی چلتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

وادی کے تقریباً تمام تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کی سرگرمیاں معطل ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری دفاتر، بنکوں اور نجی دفاتر میں جاری ہڑتال اورمواصلاتی بندش کی وجہ سے معمول کا کام کاج متاثر ہے۔قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں معمول کی زندگی 5 اگست کو اس وقت معطل ہوئی جب مرکزی حکومت نے ریاست کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 ہٹادی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام والے علاقے بنانے کا اعلان کردیا۔

Loading...

انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وادی کی صورتحال تیزی کے ساتھ بہتری کی جانب گامزن ہے تاہم اس کے برعکس ا سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسیں بھی سڑکوں سے غائب ہیں۔ ان میں سے کچھ درجن بسوں کو سیول سکریٹریٹ ملازمین اور سری نگر کے دو تین ہسپتالوں کے عملے کو لانے اور لے جانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ ایس آر ٹی سی کی کوئی بھی گاڑی عام شہریوں کے لئے دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

کشمیر میں مواصلاتی خدمات پر پابندی کے بیچ بی ایس این ایل نئے سم کارڈوں کی فروخت میں مصروف

وادی کشمیر میں مواصلاتی خدمات پر گزشتہ 42 روز سے جاری پابندی کے بیچ سرکاری مواصلاتی کمپنی بھارت سنچار نگم لمیٹڈ نے نئے سم کارڈوں کی فروخت کا عمل شروع کردیا ہے۔ کمپنی نے مبینہ طور پراب تک ہزاروں کی تعداد میں نئے سم کارڈ فروخت کرکے لاکھوں روپے کما لئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گاہکوں کو جو سم کارڈ فراہم کئے جاتے ہیں وہ کب چالو ہوں گے نہ بی ایس این ایل حکام اور نہ ہی گاہکوں کو اس کی کوئی علمیت ہے۔ فی کس سم کارڈ کے عوض گاہکوں کو بلنگ کونٹرپر 700 روپئے ادا کرنے پڑتے ہیں۔

یو این آئی اردو کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق وادی بھر میں افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ انتظامیہ بی ایس این ایل کی لینڈ لائن سروسز کی بحالی کے بعد اس کی موبائل فون سروسز بحال کرنے والی ہے۔ اسی افواہ کے چلتے سری نگر اور ضلعی ہیڈکوارٹروں میں لوگوں نے بی ایس این ایل دفاتر کا رخ کرنا شروع کردیا ہے جہاں سے وہ بھاری قیمتیں ادا کرنے کے بعد غیر متحرک سم کارڈ حاصل کررہے ہیں۔

جمعرات تک جہاں گاہکوں کو پانچ سو روپے کے عوض بی ایس این ایل سم کارڈ ملتا تھا وہاں اب جمعہ کے روز سے اس میں اضافہ کرکے سات سو روپے کیا گیا ہے۔ گاہکوں سے یہ سات سو روپے سیکورٹی ڈیپازٹ کے نام پر لیا جاتا ہے۔

سری نگر کے جواہر نگر علاقہ سے تعلق رکھنے والے محمد شفیع نامی ایک شہری نے ایکسچینج روڑ پر واقع بی ایس این ایل دفتر کے باہر یو این آئی اردو کو بتایا کہ وہ سم کارڈ خریدنے کے لئے آئے تھے لیکن اس کے چالو ہونے کی کوئی گارنٹی نہ ملنے کی وجہ سے خالی ہاتھ واپس لوٹ رہے ہیں۔انہوں نے کہا: 'ہر طرف افواہ ہے کہ انتظامیہ بہت جلد بی ایس این ایل موبائل فون سروسزبحال کرے گی۔ میں بھی یہ سن کر بی ایس این ایل دفتر چلا آیا۔ نجی مواصلاتی کمپنیاں سم کارڈ مفت میں دیتی ہیں لیکن یہاں 700 روپئے ادا کرنے کے لئے کہا جارہا ہے۔ سم کارڈ کب چالو ہوگا اس کے بارے میں کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ میں نے خالی ہاتھ واپس لوٹنا ہی مناسب سمجھا'۔

Loading...