ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر میں آکسیجن کے ساتھ ہی اقتصادی مدد کا بھی ہے مکمل انتظام

جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نہ صرف سدھے ہوئے سیاستداں ہیں بلکہ ٹرینڈ ٹیکنوکریٹ بھی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ملک کی دیگر ریاستیں کورونا کی پہلی لہر سے نمٹنے کے بعد آرام کے موڈ میں آگئی تھیں ، تو سنہا اپنے تکنیکی مشن پر آگے بڑھ رہے تھے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر میں آکسیجن کے ساتھ ہی اقتصادی مدد کا بھی ہے مکمل انتظام
جموں و کشمیر میں آکسیجن کے ساتھ ہی اقتصادی مدد کا بھی ہے مکمل انتظام

برجیش کمار سنگھ 


ملک کے دیگر حصوں کی طرح جموں و کشمیر کو بھی کورونا کے بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ لیکن وہاں کے کورونا متاثرین کیلئے صرف علاج ہی نہیں بلکہ عارضی مدد پہنچانے کا بھی بندوبست انتظامیہ نے کیا ہے ۔ اس میں نہ صرف بے روزگاروں کا خیال رکھا گیا ہے بلکہ ان یتیم بچوں اور سن رسیدہ افراد کے بارے میں سوچا گیا ہے ، جنہوں نے گھر کی دیکھ بھال کرنے والے کنبہ کے رکن کو کھویا ہے ۔ ملک میں جہاں ہر ضلع میں ایک آکسیجن پلانٹ کا خواب دیکھا جارہا ہے ، وہیں جموں و کشمیر میں 20 اضلاع میں 44 پلانٹ یعنی اوسطا ڈھائی گنا زیادہ کے قریب ۔ اس میں سے پہلے سے 17 جبکہ گزشتہ چھ ماہ میں 27 نئے پلانٹ لگے ہیں ۔


جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نہ صرف سدھے ہوئے سیاستداں ہیں بلکہ ٹرینڈ ٹیکنوکریٹ بھی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ملک کی دیگر ریاستیں کورونا کی پہلی لہر سے نمٹنے کے بعد آرام کے موڈ میں آگئی تھیں ، تو سنہا اپنے تکنیکی مشن پر آگے بڑھ رہے تھے ۔ کاشی ہندو یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ میں ایم ٹیک کرنے والے سنہا کو معلوم تھا کہ اگر کورونا نے اس مرکز کی زیر انتظام ریاست میں دوبارہ دستک دی تو حالات کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا ۔ ایک تو وادیوں اور پہاڑیوں سے گھری ہوئی ریاست ، دوسری جانب ناقابل رسائی راستے اور موسم کا چیلنج ۔


ایسے میں منوج سنہا نے کورونا کی دوسری لہر آنے سے پہلے ہی ریاست میں تمام اضلاع میں آکسیجن کا پروڈکشن کرنے والے پلانٹ لگانے شروع کردئے ، اس کی وجہ سے ریاست میں چھ مہینوں کے اندر 27 پلانٹ لگائے گئے ۔ ان سبھی کو متعلقہ اضلاع کے اسپتالوں سے نزدیک میں ہی لگایا گیا ۔ تاکہ آکسیجن کی سپلائی میں کوئی پریشانی نہ ہو ۔ اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں کل 44 آکسیجن پلانٹ ہوگئے ہیں ۔ چھ مہینے پہلے یہاں صرف 17 آکسیجن پلانٹ ہی تھے ۔ تصور کیجئے اگر اس ریاست میں بروقت پلانٹ نہیں لگے ہوتے تو کیا حالات پیدا ہوجاتے ۔ میدانی علاقوں والے یوپی ، دہلی ، پنجاب اور راجستھان میں آکسیجن کو پہنچانے میں زبردست پریشانیاں ہوئیں اور کہرام مچ گیا ، تو سری نگر میں کونسی آکسیجن ایکسپریس پہنچتی ۔ سنہا کی دور اندیشی کام آئی ، جس کی وجہ سے پورے جموں و کشمیر نے ایک دن کیلئے بھی آکسیجن کی پریشانی نہیں جھیلی ۔

 منوج سنہا نے کورونا کی دوسری لہر آنے سے پہلے ہی ریاست میں تمام اضلاع میں آکسیجن کا پروڈکشن کرنے والے پلانٹ لگانے شروع کردئے ، اس کی وجہ سے ریاست میں چھ مہینوں کے اندر 27 پلانٹ لگائے گئے ۔
منوج سنہا نے کورونا کی دوسری لہر آنے سے پہلے ہی ریاست میں تمام اضلاع میں آکسیجن کا پروڈکشن کرنے والے پلانٹ لگانے شروع کردئے ، اس کی وجہ سے ریاست میں چھ مہینوں کے اندر 27 پلانٹ لگائے گئے ۔


لیکن آکسیجن کی کمی نہیں ہونے کے باوجود کورونا وائرس اتنا خطرناک ہے کہ علاقہ میں اگر تاخیر ہوجائے ، اسپتال پہنچنے میں کوئی کوتاہی برت لے یا پھر جسم میں کوئی اور پریشانی ہو تو جان چلی جاتی ہے ۔ جموں و کشمیر بھی گزشتہ سال کورونا کی شروعات سے لے کر ابھی تک اس وبا کی وجہ سے کل 2782 افراد کی جان جاچکی ہے ۔ ان میں سے 1572 کشمیر ڈویزن میں تو 1210 جموں ڈویزن میں ۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے بڑے پیمانے پر وہ لوگ ہیں ، جو یا تو اپنے سن رسیدہ ماں باپ کا ایک واحد سہارا تھے یا پھر جن پر ان کے چھوٹے بچوں کی پرورش کی ذمہ داری تھی ۔ ایسے لوگوں کی موت کی وجہ سے وہ تمام کنبے بکھر رہے ہیں ، جنہوں نے اپنے کمانے والے سپوت کھوئے ہیں ۔

کورونا کی وجہ سے لاک ڈٓاون بھی کرنے کی نوبت آئی ہے ۔ جموں و کشمیر میں تو انکم کا بڑا ذریعہ ہی سیاحت رہا ہے ۔ ایسے میں سیاحوں کے نہیں آنے کے ساتھ ساتھ لاک ڈاون نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے ۔ لوگوں کیلئے گھر چلانے کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔

اسی کو دھیان میں رکھتے ہوئے جموں و کشمیر انتظامیہ نے کچھ ایسے فیصلے کئے ہیں جو پورے ملک کیلئے مثال بن سکتے ہیں ۔ مثلا جن سن رسیدہ افراد نے اپنے ایک واحد کمانے والے رکن کو کھویا ہے ، ان کیلئے زندگی بھر خصوصی پینشن کا انتظام کیا جارہا ہے ۔ اسی طرح سے وہ بچے جو کرونا کی وجہ سے یتیم ہوئے ، یعنی جن کے والدین کی موت ہوگئی ہے ، ان کیلئے بھی خصوصی وظیفہ کا بندوبست جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے کیا جارہا ہے ۔ یہی نہیں کورونا کی وجہ سے اپنے رکن کو کھونے والے کنبوں کیلئے خود روزگار کے وسائل بھی مہیا کرائے جارہے ہیں اور اس کیلئے ضروری اقتصادی مدد بھی کی جارہی ہے ۔

روزانہ مزدوری کرکے اپنا اور اپنے کبنہ کا پیٹ بھرنے والے لوگوں کیلئے بھی خصوصی بندوبست کئے گئے ہیں ۔ اگلے دو مہینے تک ایسے لوگ جو تعمیراتی کاموں سے لے کر پالکی ، پٹھو یا پھر خچر اور گھوڑوں پر لوگوں کو بیٹھا کر اپنی زندگی گزارتے تھے ، ان کیلئے اگلے دو مہینوں تک ہزار روپے فی ماہ کا بندوبست کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ وقت پر راشن کا بندوبست سے لر کر سبھی فلاحی اسکیموں ، مثلا پینشن سے لے کر منریگا تک کا فائدہ لوگوں کو کسی رکاوٹ کے بغیر مل سکے ، یہ بھی یقینی بنایا جارہا ہے ۔

ظاہر ہے کہ کورونا کے دور میں صحت کے ساتھ ہی لوگوں کو روزگار اور کنبہ کی پرورش کی فکر بھی ستا رہی ہے ۔ جموں و کشمیر انتظامیہ کے اعلانات اور اقتصادی پیکج سے ان لوگوں کو کافی راحت محسوس ہوگی ، جو طویل وقت سے دہشت گردی کا درد جھیلتے ہوئے آئے ہیں اور جنہیں آرٹیکل 370 کی آڑ میں ان کی قیادت کرنے والے حکمران طویل عرصہ تک کوئی فائدہ پہنچانے کی جگہ اپنی سیاست چمکاتے آئے ۔ ایسے میں نارمل انجینئرنگ سے لے کر سوشل انجینئرنگ تک کی اس ریاست میں کافی ضرورت ہے ، جس کو چالاک سیاستداں اور ٹرینڈ انجینئر منوج سنہا بخوبی جانتے ہیں اور اسی سوچ کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ فطری طور پر اس سے جموں و کشمیر کے لوگوں کی زندگی کورونا کے اس دور میں تھوڑی راحت بھری ہوسکتی ہے ، جس کی کوشش گورنر کے رول میں سنہا کررہے ہیں ۔

ڈسکلیمر : یہ رائٹر کے ذاتی خیالات ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 12, 2021 12:16 AM IST