உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu Kashmir Delimitation:او آئی سی کے بیان پر ہندوستان کا شدید ردعمل،کہا-’فرقہ وارانہ ایجنڈہ‘ نہ چلائیں

    OIC کے کشمیر والے بیان پر حکومت ہند نے پھر کیا شدید اعتراض۔ (فائل فوٹو : او آئی سی ٹوئٹر)

    OIC کے کشمیر والے بیان پر حکومت ہند نے پھر کیا شدید اعتراض۔ (فائل فوٹو : او آئی سی ٹوئٹر)

    Jammu Kashmir Delimitation: ہندوستان کا یہ سخت ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب او آئی سی نے جموں و کشمیر کی حد بندی پر نئی دہلی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حد بندی کمیشن پر او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے ایک بیان میں الزام لگایا کہ یہ کشمیری عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    • Share this:
      Jammu Kashmir Delimitation:ہندوستان نے جموں و کشمیر کی حد بندی سے متعلق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے بیان پر سخت اعتراض کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ او آئی سی کو کسی ایک ملک کے کہنے پر ہندوستان پر اپنا 'فرقہ وارانہ ایجنڈا' چلانے سے گریز کرنا چاہیے۔

      انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی حکومت ہند نے مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے حوالے سے او آئی سی کے بیانات کو واضح طور پر مسترد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔

      باغچی نے کہا، "ہم حیران ہیں کہ او آئی سی نے ایک بار پھر ہندوستان کے اندرونی معاملات پر غیر منقولہ تبصرہ کیا ہے۔"

      ہندوستان کا یہ سخت ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب او آئی سی نے جموں و کشمیر کی حد بندی پر نئی دہلی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حد بندی کمیشن پر او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے ایک بیان میں الزام لگایا کہ یہ کشمیری عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Amarnath Yatra کی نگرانی کریں گے ڈرون کیمرا، 12000 جوان ہوں گے تحفظ کیلئے تعینات

      کمیشن مارچ 2020 میں جموں و کشمیر میں حد بندی کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، جس نے ماضی میں اپنی حتمی رپورٹ دی تھی۔ رپورٹ میں جموں میں اسمبلی سیٹوں کو بڑھا کر چھ اور وادی کشمیر میں ایک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Gyanvapi Masjid: محبوبہ مفتی نے کہا: ہماری جن جن مسجدوں پر نظر ہے ان کی فہرست دیدو

      اس کے ساتھ ہی راجوری اور پونچھ کے علاقوں کو کشمیر کی اننت ناگ لوک سبھا سیٹ کے تحت لانے کی تجویز ہے۔ رپورٹ پر عمل درآمد ہونے کی صورت میں 90 رکنی اسمبلی میں جموں ڈویژن میں 43 اور کشمیر میں 47 نشستیں ہوں گی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: