உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu Kashmir:جموں-کشمیر میں 5.3 شدت کے زلزلے کے جھٹکے، افغانستان کے ہندوکش پہاڑوں میں تھا مرکز

    جموں و کشمیر میں زلزلے کے جھٹکے۔

    جموں و کشمیر میں زلزلے کے جھٹکے۔

    نیشنل سینٹر فار سسمولوجی کے مطابق، زلزلے کی گہرائی 81 کلومیٹر تھی۔ زلزلہ افغانستان کے فیض آباد سے 177 کلو میٹر جنوب مشرق کی جانب تھا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے جموں کشمیر میں ابھی تک جان مال کے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

    • Share this:
      سرینگر: جموں و کشمیر میں جمعہ کو ری ایکٹر اسکیل پر 5.3 شدت کا زلزلہ کا جھٹکا (Earthquake in Jammu Kashmir) محسوس کیا گیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ رات 9:43 بجے آئے اس زلزلے کا مرکز افغانستان کے ہندوکوش پہاڑیوں میں تھا۔ نیشنل سینٹر فار سسمولوجی کے مطابق، زلزلے کی گہرائی 81 کلومیٹر تھی۔ زلزلہ افغانستان کے فیض آباد سے 177 کلو میٹر جنوب مشرق کی جانب تھا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے جموں کشمیر میں ابھی تک جان مال کے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

      زلزلے کے یہ جھٹکے پاکستان کے کئی شہروں میں بھی محسوس کیے گئے۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات نے بتایا کہ 5.6 شدت کے لزلہ کے جھٹکے خیبر پختونخواہ، پشاور، مان شیرہ، اور دیگر شہروں میں بھی محسوس کیے گئے۔ عہدیداروں نے یہ بھی بتایا کہ کسی شہر سے جان و مال کے نقصان کی کوئی خبر ہیں آئی ہے۔


      اس سے پہلے جمعہ کو انڈونیشیا کے مرکزی جزیرے جاوا میں زبردست زلزلہ آیا تھا، جس سے دارالحکومت جکارتہ میں عمارتیں ہل گئیں لیکن کسی گمبھیر جانی و مالی نقصان کی خبر نہیں ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس لززلے کی وجہ سےسونامی کا خطرہ بھی نہیں ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے انسٹی ٹیوٹ کے مطابق زلزلے کی شدت 6.6 تھی اور اس کا مرکز بحر ہند میں 37 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا، جو صوبہ بانٹین کے ساحلی شہر لبوان سے 88 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔

      دارالحکومت جکارتا میں لوگوں نے محسوس کیے جھٹکے
      انڈونیشیا کے محکمہ موسمیات اور جیوفزکس ایجنسی نے کہا کہ سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ویسے تو اس جزیرہ نما ملک میں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں لیکن ملک کے دارالحکومت میں عام طور پر یہ محسوس نہیں کیے جاتے ہیں۔ تقریباً ایک کروڑ کی آبادی والے اس شہ رمین اونچی عمارتوں کے رہائشیوں کو کچھ سیکنڈ کے لئے جھٹکے محسوس ہوئے۔ جکارتہ میں ایک اپارٹمنٹ کے 19 ویں فلور پر رہنے والے لیلا انصاری نے کہا، ’’زلزلہ خوفناک تھا۔۔۔ میرے کمرے میں سب چیزیں ہل رہی تھیں۔ ہم ڈر کی وجہ سے سیڑھی سے نیچے چلے گئے۔‘‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: