کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس: 101 گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل

ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ عدالت میں اب تک 101 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جاچکے ہیں اور ان کے بیانات پر جرح کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے۔

Nov 15, 2018 02:39 PM IST | Updated on: Nov 15, 2018 02:39 PM IST
کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس: 101 گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل

علامتی تصویر

کٹھوعہ کے رسانہ نامی گاﺅں میں رواں برس جنوری کے اوائل میں پیش آئے دل دہلانے والے آٹھ سالہ کمسن بچی کے عصمت دری اور قتل واقعہ کے ملزمان کا 'ان کیمرہ' اور روزانہ بنیادوں پر ٹرائل ڈسٹرک اینڈ سیشنز جج پٹھان کوٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ کی عدالت میں جاری ہے۔ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ عدالت میں اب تک 101 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جاچکے ہیں اور ان کے بیانات پر جرح کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ چند روز سے معاملے کی تحقیقات کرنے والی جموں وکشمیر کرائم برانچ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے اراکین کے بیانات قلمبند کرنے اور ان پر جرح کا عمل جاری ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ کرائم برانچ کی خصوصی ٹیم میں شامل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (کرائم برانچ) نثار حسین اور سب انسپکٹر عرفان وانی کے بیانات قلمبند کئے گئے ہیں اور ان پر جرح کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کیس کے گواہان کی تعداد 355 ہے۔

ملزمان کے وکیل اے کے ساونی نے کہا کہ کیس کے 355 گواہان میں سے 101 گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل کی جاچکی ہے۔انہوں نے کہا 'تحقیقاتی ٹیم کے عہدیداروں کے بیانات پر جرح جاری ہے۔ ایس آئی عرفان وانی اور ڈی ایس پی نثار احمد کے بیانات پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔ اب تک 101 گواہان کے بیانات پر جرح ہوچکی ہے'۔

انہوں نے کہا 'یہ پبلک پراسیکیوٹر کی مرضی ہے کہ وہ کس گواہ کو پیش کریں گے اور کس گواہ کو پیش نہیں کریں گے۔ کیس کے گواہان کی تعداد 355 ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ مزید گواہ پیش کریں گے۔ جو وہ ثابت کرنا چاہتے تھے، انہوں نے وہ ثابت کرلیا۔ ہم بھی اپنی جگہ خوش ہے کہ اگر جلدی ختم ہوجاتا ہے تو اچھا ہے۔ ہم جتنی محنت کرسکتے تھے، ہم نے کرلی'

Loading...

Loading...