مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا، پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں ہیں فاروق عبداللہ

مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ فاروق عبداللہ کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔ بتا دیں کہ اس ایکٹ کے تحت بغیر سماعت کے دو سال تک کسی کو بھی حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔

Sep 16, 2019 11:53 AM IST | Updated on: Sep 16, 2019 11:53 AM IST
مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا، پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں ہیں فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ: فائل فوٹو

جموں۔کشمیر میں آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد لگائی گئی پابندیوں کے خلاف عرضی پر سپریم کورٹ میں پیر کو اہم سماعت ہو رہی ہے۔ اس دوران مرکزی حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ ریاست کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کو حراست میں رکھا گیا ہے۔ مرکز نے بتایا کہ فاروق عبداللہ کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔ بتا دیں کہ اس ایکٹ کے تحت بغیر سماعت کے دو سال تک کسی کو بھی حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔

دراصل ایم ڈی ایم کے کے لیڈر وائیکو کی طرف سے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کیا عبداللہ کسی طرح کی حراست میں ہیں؟ اس پر وائیکو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ’’ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ فاروق عبداللہ کسی بھی طرح کی حراست میں نہیں ہیں لیکن ہمیں ان کا پتہ ٹھکانا معلوم نہیں ہے‘‘۔ اس پر عدالت نے مرکز اور جموں کشمیر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 30 ستمبر تک جواب طلب کیا ہے۔

Loading...

 

Loading...