உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم خواتین کی نیلامی والے Bulli Bai ایپ پر جاوید اختر برہم، پی ایم مودی کی خاموشی پر اُٹھائے سوال

    فرحان کے علاوہ سورا بھاسکر اور رچا چڈھا جیسی بالی ووڈ ہستیوں نے بھی اس ایشو پر اپنی آواز اٹھائی ہے اور ملزمین کے خلاف ایکشن کی مانگ کی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق، اس ایپ کو لے کر بنگلورو سے ممبئی پولیس سائبر کرائم نے 21 سالہ ایک لڑکے کو گرفتار کیا ہے۔

    فرحان کے علاوہ سورا بھاسکر اور رچا چڈھا جیسی بالی ووڈ ہستیوں نے بھی اس ایشو پر اپنی آواز اٹھائی ہے اور ملزمین کے خلاف ایکشن کی مانگ کی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق، اس ایپ کو لے کر بنگلورو سے ممبئی پولیس سائبر کرائم نے 21 سالہ ایک لڑکے کو گرفتار کیا ہے۔

    فرحان کے علاوہ سورا بھاسکر اور رچا چڈھا جیسی بالی ووڈ ہستیوں نے بھی اس ایشو پر اپنی آواز اٹھائی ہے اور ملزمین کے خلاف ایکشن کی مانگ کی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق، اس ایپ کو لے کر بنگلورو سے ممبئی پولیس سائبر کرائم نے 21 سالہ ایک لڑکے کو گرفتار کیا ہے۔

    • Share this:
      ممبئی: سینکڑوں مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کو لے کر معروف رائٹر جاوید اختر (Javed Akhtar) نے وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں۔ جاوید اختر نے پیر کو اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ مسلم خواتین کی ہراسانی پر وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی سے وہ ششدر ہیں۔ جاوید اختر نے مسلم خواتین کی تصویروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے مسلمانوں کے خلاف ہیٹ کرائم پھیلانے کی مذمت بھی کی ہے۔

      جاوید اختر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا۔ سو خواتین کی ایک آن لائن نیلامی کی جارہی ہے۔ مبینہ دھرم سنسد، فوج، پولیس اور لوگوں کو تقریباً 200 ملین ہندوستانیوں کے قتل عام کی صلاح دیتی ہے۔ میں اپنی اور خاص طور سے وزیراعظم نریندر مودی سمیت ہر ایک کی خاموشی سے حیران ہوں۔ کیا یہ سب کا ساتھ ہے؟


      ان ہستیوں نے بھی ملزمین کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا
      اہم ہستیوں سمیت سینکڑوں مسلم خواتین کو بلی بائی نامی ایپ پر نیلامی کے لئے نامزد کیا گیا، جس میں مسلم خواتین کی تصویروں کو بنا اجازت لیا گیا اور اُن سے چھیڑ چھاڑ بھی کی گئی۔ ایک سال سے بھی کم وقت میں ایسا دوسری مرتبہ ہوا ہے۔ جاوید اختر اکثر ملک کے مسائل پر اپنی بے باکی سے رائے رکھتے ہیں۔ اس ایپ ہی نہیں، بلکہ جاوید اختر نے پچھلے مہینے ہریدوار میں منعقد ایک دھرم سنسد پر بھی تبصرہ کیا، جس میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ طور پر کچھ شرکا کی جانب سے نفرت بھری تقاریر کی گئیں۔ اس معاملے میں 10 لوگوں کے خلاف دوسری ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے۔

      جاوید اختر ہی نہیں، بلکہ اُن کے بیٹے فرحان اختر نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں اس ایپ کی مذمت کی ہے۔ فرحان نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا۔ یہ بہت ہی شرمناک ہے۔ میری انتظامیہ سے درخواست ہے کہ ملزمین کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ دراصل، فرحان نے یہ ٹوئٹ تب کیا جب عصمت آرا نام کی ایک خاتون نے اس ایشو کو لے کر اپنی آواز اٹھائی۔ عصمت آرا کے ٹوئٹ پر ہی فرحان نے اپنا کمنٹ کیا تھا۔

      فرحان کے علاوہ سورا بھاسکر اور رچا چڈھا جیسی بالی ووڈ ہستیوں نے بھی اس ایشو پر اپنی آواز اٹھائی ہے اور ملزمین کے خلاف ایکشن کی مانگ کی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق، اس ایپ کو لے کر بنگلورو سے ممبئی پولیس سائبر کرائم نے 21 سالہ ایک لڑکے کو گرفتار کیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: