جموں وکشمیرمیں کشیدگی پرجے ڈی یوکی دوٹوک، اپنا رخ واضح کرے بی جے پی، 370 کوہٹانے پرہم ساتھ نہیں

جے ڈی یوکا کہنا کہ جیسے بی جے پی کواپنے سیاسی اسٹینڈ پرفخرہے، وہ اپنے روٹ سے چپکی ہوئی ہے۔ ویسے ہی جے ڈی یوبھی اپنےاسٹینڈ پرقائم ہے۔ ہم دفعہ 370 کو ہٹانےکے حق میں نہیں ہیں۔

Aug 03, 2019 09:29 PM IST | Updated on: Aug 03, 2019 09:34 PM IST
جموں وکشمیرمیں کشیدگی پرجے ڈی یوکی دوٹوک، اپنا رخ واضح کرے بی جے پی، 370 کوہٹانے پرہم ساتھ نہیں

جےڈی یونے بی جے پی کے خلاف سخت رخ اپنا لیا ہے۔

بہارمیں بی جے پی کےساتھ مل کرحکومت چلانے والی جےڈی یونےایک بارپھراسے سخت تیوردکھا دیئے ہیں۔ جموں وکشمیرمیں چل رہی کشیدگی پرجےڈی یوکے جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نےکہا کہ حکومت نے جوایڈوائزری جاری ہے، اس سے وادی میں خوف کا ماحول ہے۔ حکومت کےذریعہ امرناتھ یاترا کوروکا جارہا ہے۔ سیاحوں کوواپس آنےکےلئےکہا گیا ہے۔ ایسے میں حکومت کوواضح کرنا چاہئےکہ اس کےارادے کیا ہیں؟

کے سی تیاگی نےمزید کہا کہ جس طرح سے جموں وکشمیرمیں پٹرول پمپ اوراے ٹی ایم پر لائنیں لگا رہی ہیں۔ اس سےلوگوں میں خوف کا ماحول بنا ہوا ہے۔ جیسے بی جے پی کواپنے سیاسی اسٹینڈ پرفخرہے، وہ اپنے روٹ سے چپکی ہوئی ہے۔ ویسے ہی جے ڈی یوبھی اپنے اسٹینڈ پرقائم ہے۔ ہم دفعہ 370 کوہٹانےکےحق میں نہیں ہیں۔ اگرحکومت اس پرقدم آگےبڑھا سکتی ہےتوہم اپنی بات کہیں گےکہ سبھی لوگوں کواعتماد میں لےکرآگے بڑھیں۔

Loading...

سیاسی جماعتیں کررہے ہیں سوال

دراصل جموں وکشمیرمیں فوج کی بڑھتی ہلچل سے سبھی حیران ہیں۔ سیاسی جماعتیں حکومت سےسوال کررہے ہیں۔ افراتفری کا ماحول بنا ہوا ہے۔ گورنراورفوج کی طرف سے کچھ بیان آئے ہیں، لیکن پختہ طورپرکچھ بھی سامنے نہیں آپایا ہے، جس کے بعد یہ کہا جا سکےکہ اسی وجہ سے وادی میں فوج کی اتنی بھاری تعیناتی کی جارہی ہے۔

مرکزی حکومت ختم کرسکتی ہے آرٹیکل 35 اے اور دفعہ 370 

سب سے زیادہ اسی بات کا امکان ظاہرکیا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہےکہ جموں وکشمیرکواسپیشل اسٹیٹیس دینے والےآرٹیکل 35 اے اور370 کومرکزی حکومت ختم کرسکتی ہے۔ ایسا کرنے سے پہلےحکومت وادی میں زبردست سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کررہی ہےتاکہ مخالفت ہونےپراس سےآسانی سےنمٹا جاسکے۔ حالانکہ یہ معاملہ عدالت میں زیرالتوا ہے۔ لیکن بی جے پی نے دفعہ 35 اے اور370 کے مدعے کو2014 کے ساتھ 2019 کےاپنے انتخابی منشورمیں برقرار رکھا ہے۔

Loading...