ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بہار اسمبلی انتخابات: جےڈی یو کا مسلم کارڈ، اقلیتی فلاحی منصوبہ کے نفاذکا دعویٰ کرکےمسلمانوں کو خوش کرنے کی مہم

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار لگاتار سوشاسن کے ساتھ حکومت کرنے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ اسمبلی انتخاب قریب ہے تو مسلمانوں کی فلاحی منصوبوں کو زمین پر اتارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

  • Share this:
بہار اسمبلی انتخابات: جےڈی یو کا مسلم کارڈ، اقلیتی فلاحی منصوبہ کے نفاذکا دعویٰ کرکےمسلمانوں کو خوش کرنے کی مہم
بہار اسمبلی انتخابات کو لیکر جےڈی یو کا مسلم کارڈ، اقلیتی فلاحی منصوبہ کے نفاذکا دعویٰ کرکےمسلمانوں کو خوش کرنے کی مہم

پٹنہ: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار لگاتار سشاسن کے ساتھ حکومت کرنے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ اسمبلی انتخابات قریب ہے تو مسلمانوں کی فلاحی منصوبوں کو زمین پر اتارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے حال کے دنوں میں مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسیٹی کی نو تعمیر شدہ عمارتوں کا آن لائن افتتاح کیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ 28 سال قبل قائم کی گئی مولانا مظہرالحق یونیورسیٹی آج بھی ایک عارضی دفتر سے اپنا کام چلا رہی ہے۔ 15 سالوں کی حکومت میں اب جاکر نتیش کمار یونیورسٹی کے لئے سنجیدہ ہوئے ہیں۔ پٹںہ کے میٹھاپور میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی نے مولانا مظہرالحق یونیورسیٹی کے لئے پانچ ایکڑ زمین دیا تھا۔


وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے یونیورسٹی کے لئے باقاعدہ عمارت کی تعمیر کرائی ہے۔ وہیں بہار کابینہ نے اقلیتی سیکنڈری اسکولوں کے تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کے لئے ساتویں پے اسکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ وقف ترقیاتی اسکیم کے تحت کئی اضلاع میں وقف بھون بنانے کی شروعات کی گئی ہے۔ جےڈی یو کے مطابق وزیر اعلیٰ اقلیتوں کے فلاح کے سلسلے میں سنجیدہ ہیں اور اس بار کے اسمبلی انتخاب میں ریاست کا مسلمان جے ڈی یو کو کام کے بنیاد پر منتخب کرےگا۔


دوسری جانب اپوزیشن نے اقلیتوں کے معاملے میں حکومت کو ہر محاذ پر ناکام بتایا ہے۔ آرجےڈی کے سنیئر لیڈر عبدالباری صدیقی کے مطابق موجودہ حکومت اقلیتی فلاحی اسکیموں کے نفاذ میں ناکام رہی ہے۔ وہیں آرجے ڈی کے دوسرے لیڈروں کے مطابق اقلیتی نوجوانوں کو قرض اسکیم کا بھی فائدہ دلا پانے میں حکومت پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے، اب انتخابات کا موسم آیا ہے تو جےڈی یو کو مسلمانوں کی یاد ستا رہی ہے۔ عبدالباری صدیقی نے یہ بھی کہا کہ فی الحال صوبہ میں کورونا اور سیلاب سے لاکھوں لوگ متاثر ہیں جبکہ حکومت کو صرف اسمبلی انتخابات کی فکر ہورہی ہے۔ اپوزیشن نے الیکشن کمیشن سے بھی اپیل کی ہے کہ انتخابات میں مزید تاخیرکرنے پرکمیشن غور کرے، لیکن یہ بات صاف ہے کہ اسمبلی انتخابات کو لے کر تمام سیاسی پارٹیوں کی تیاری شباب پر ہے۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 26, 2020 11:56 PM IST