جیون سمواد: شہر، گاؤں اور تناؤ

کتنی خوبصورت بات ہے کہ جب تک گاؤں بھرے، پورے تھے، اسپتال، بیماری کم تھی۔ بچپن مشکل میں گزرتا تھا لیکن پانچ ۔ دس سال کے بعد باقی زندگی صحت مند تھی۔

Oct 22, 2019 04:02 PM IST | Updated on: Oct 22, 2019 04:04 PM IST
جیون سمواد: شہر، گاؤں اور تناؤ

ہماری مشکل چیزوں کو برداشت کرنے کی اہلیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ مشق سے زیادہ فطری بات ہے، کچھ لوگ ’ وقت‘ کے حساب سے خود کو ڈھال لیتے ہیں۔ ’ برداشت کرنا‘ ان کی فطرت میں ہوتا ہے۔ دوسری طرف بڑی تعداد میں ایسے لوگ مل رہے ہیں جو خوشی کے اپنے مطابق رہنے سے ہی جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ شہروں کے پرانے، بڑے ہونے کے ساتھ ہی وہاں رہنے والوں کی ذہنی صلاحیت میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ بالآخر، ہم سب آئے تو گاؤں سے ہی ہیں۔ ہندوستان میں ایسے لوگوں کو کھوج پانا مشکل ہے جن کا گاؤں سے تعلق کبھی نہ رہا ہو۔ دھیرے دھیرے کم ہوتا گیا، لیکن گاؤں سے ان کی وابستگی نہ رہی ہو، یہ بڑا مشکل ہے۔

کتنی خوبصورت بات ہے کہ جب تک گاؤں بھرے، پورے تھے، اسپتال، بیماری کم تھی۔ بچپن مشکل میں گزرتا تھا لیکن پانچ ۔ دس سال کے بعد باقی زندگی صحت مند تھی۔

زندگی کے تناؤ تب بھی کم نہیں تھے۔ روٹی، کپڑا اور مکان جیسی بنیادی چیزیں آج کے مقابلے کہیں زیادہ مشکل طریقے سے ملتی تھیں۔ اس کے بعد بھی گاؤں انسان کو سکھ دکھ برداشت کرنے کی صلاحیت، جدوجہد کی دھوپ سہنے کی صلاحیت بخوبی سکھاتے ہیں۔

Loading...

دھیرے۔ دھیرے گاؤں خالی ہوتے گئے۔ شہر نے نوکری کے مواقع دئیے۔ نئے طرح کا سماج، گھر دئیے۔ اتنا کچھ دینے کے بعد بدلے میں کچھ لینا تو بنتا ہی تھا۔ شہر نے صحت، عمر مانگ لی۔

مجھے لگتا ہے کہ ہمارا کمزور ہوتا بدن، دماغ، ایک طرح کا ٹیکس ہے جو ہم شہر کو اس کی سہولت کے بدلے میں دیتے ہیں۔ ہماری برداشت کرنے کی صلاحیت، مل جل کر رہنے کی عادت کو شہر مسلسل گھٹا رہے ہیں۔ ہم بات بات پر چیخنے چلانے لگتے ہیں۔ بڑے چھوٹے کا احترام، اس کا فرق ہم بھولتے جا رہے ہیں۔

شوہر۔ بیوی کے رشتوں میں تناؤ نئی چیز نہیں ہے۔ ماں۔ باپ اور بچوں کے اختلافات نئے نہیں ہیں۔ اس کے طریقے بدل گئے ہیں۔ لیکن تناؤ ہمیشہ تھا۔ تناؤ ہمیشہ سے تھا۔

اب شہر میں اپنی جڑوں سے کٹے دل کو ایک دوسرے کے تکبر اور جلن کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکیلے دل کے لئے یہ سب سہنا آسان نہیں ہے۔ اس لئے تو دل ٹوٹ رہا ہے۔ شہر انسان کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ یہی ان کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔

گاؤں ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہی نہیں سکھاتے، بلکہ وہ فطرت کے ساتھ رشتوں کی پاٹھ شالا بھی ہیں۔ گاؤں کی زندگی صرف لینے کی نہیں ہے اس میں گاؤں کو کچھ نہ کچھ دینے کا احساس ہے۔ پلاسٹک سے پہلے وہاں کوڑے کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ پانی کا بحران، اس  سائنس کے وہاں پہنچنے کے بعد آیا ہے جس نے انہیں اب تک سب سے زیادہ تکلیف دی ہے۔ ہم انسان دھیرے دھیرے شارٹ کٹ کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔

کتنے ہی لوگوں کے ساتھ ہم یوں ہی بغیر کسی ’ مطلب‘ کے ملتے ہیں۔ ہم نے آس پاس ہمیشہ مطلب کھوجنے والی دنیا رچ لی جس کا سب سے بڑا نقصان ہم خود اٹھا رہے ہیں۔ تناؤ سے بچنے، زندگی کو سکھ۔ دکھ برداشت کرنے کی سمت میں گاؤں ابھی بھی پاٹھ شالا ہیں، بس ہمیں سیکھنے کی خواہش رکھنی ہو گی۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...