جیون سمواد: دل کی صفائی کے لئے کائی سے نجات ضروری

ہم جب اندر ہی اندر کچھ سوچتے رہتے ہیں تو دل کے اندر کائی جمنا فطری ہے۔ اس کی آسان مثال ہماری گلی، محلے، گھر اور دفتر تک میں مل جائیں گے۔ ہم لوگوں کو ان کی خوبی، رویہ کی بنیاد پر نہیں چنتے بلکہ اپنی پسند کی بنیاد پر ان کا اندازہ لگاتے رہتے ہیں۔

Oct 01, 2019 06:39 PM IST | Updated on: Oct 01, 2019 06:42 PM IST
جیون سمواد: دل کی صفائی کے لئے کائی سے نجات ضروری

ہم اکثر ہی انجانے میں ایک دوسرے کو لے کر اپنی رائے بناتے رہتے ہیں۔ بغیر ملے، جانے۔ چھوٹی سی ملاقات کے بعد ۔ دوسروں کے تجربہ کو بنیاد بنا کر ہم دماغ میں خاص طرح کی شبیہ کی تعمیر کرتے رہتے ہیں۔ اس سے مخصوص شخص کے لئے  ضمیر میں تلخی کی کائی جمی رہتی ہے۔ کائی ویسے تو خطرناک نہیں ہوتی، لیکن اگر اس پر تھوڑی بھی بے احتیاطی سے پیر پڑ جائے تو سنگین چوٹ سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے دل کی صفائی کرتے رہنا ضروری ہے۔ ایسا نہیں کرنے پر جسم کے ساتھ دل کو بھی سنگین چوٹ لگنے کا خطرہ بنا رہتا ہے۔

ہم جب اندر ہی اندر کچھ سوچتے رہتے ہیں تو دل کے اندر کائی جمنا فطری ہے۔ اس کی آسان مثال ہماری گلی، محلے، گھر اور دفتر تک میں مل جائی گی۔ ہم لوگوں کو ان کی خوبی، رویہ کی بنیاد پر نہیں چنتے بلکہ اپنی پسند کی بنیاد پر ان کا اندازہ لگاتے رہتے ہیں۔ شبیہ کی یہ تعمیر ہمارے لئے خطرناک ہے کیونکہ جب ہم ایسے لوگوں سے ملتے ہیں تو ان کے سامنے ہم کچھ کہتے نہیں۔ بلکہ باہر تو ہم ان کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔ جب کہ دل میں سب کچھ اس کے الٹا چل رہا ہے۔ اس لئے اندر گھٹن اور غبار بڑھتا جاتا ہے کیونکہ ایسی باتیں آپ دوسروں سے شئیر نہیں کرتے۔ ان کا کوئی ٹھوس جواب آپ کے پاس نہیں ہوتا۔

میری زندگی میں کم سے کم تین لوگ ایسے آئے جنہوں نے کئی برس بعد مجھ سے کہا کہ وہ میرے بارے میں کچھ خاص طرح کی سوچ رکھتے تھے۔ اس کا سبب ان کے ساتھ میرا سلوک نہ ہو کر میرے بارے میں دوسروں سے سنی باتیں تھیں۔ انجانے میں وہ طویل عرصہ تک میرے پاس رہتے ہوئے بھی دور رہے۔ ہمارے درمیان یکطرفہ ہمدردی اور پیار رہا۔ مجھے اس بات کا احساس تقریبا پانچ سے سات برس بعد ہوا کیونکہ میرے دل میں ان کے لئے کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ ویسے میرے لئے بھی یہ آسان نہیں تھا۔ اسے قبول کرنے میں وقت لگا۔ اس کے بعد جتنا ممکن تھا، میں نے ان کے تئیں اپنے نقطہ نظر کو متاثر نہیں ہونے دینے کا فیصلہ کیا۔ ان کے اور اپنے درمیان رکاوٹ بننے والی باتوں کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ یہ عمل اس لئے مشکل ہے کیونکہ اس پر سمواد کو ہم اتنا زیادہ ٹالتے ہیں کہ وہ دھیرے دھیرے واضح ہونے کی جگہ جمنے لگتا ہے۔ جنگل میں دلدل کیسے بنتے ہیں۔

Loading...

دل کے اندر رشتوں کے اجالے، ہمدردی کی کمی ’ دلدل‘ بناتی جاتی ہے۔ ہم اپنے ہی اندر دھنستے جاتے ہیں۔ دل کی صفائی کے لئے کائی سے نجات ضروری ہے۔

دل میں اگر کسی کے تئیں کچھ ایسا ہے جو ہمیشہ آپ کے لئے پریشانی اور غصہ کا سبب بنتا ہے تو اسے ٹالیں نہیں۔ اس سے باہر آنے کی کوشش کیجئے۔ دل کو ہمیشہ جذبات سے نہیں، بلکہ کبھی کبھی سائنسی نظریہ سے بھی چلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اپنا نظریہ اور رویہ واضح اور بہتی ندی کی طرح رکھیں۔ بہتی ندی کا پانی بالکل صاف اور ذائقہ دار ہوتا ہے۔ بحران وہیں سے شروع ہوتا ہے جب پانی بہنا بند ہو جائے۔ زندگی کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...