جیون سمواد: ماضی کو احتیاط سے سنبھالنے کی ضرورت

ہم اکثر دوسروں کے تئیں سخت اور اپنے تئیں نرم ہوتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس ہمیں اپنے تئیں سخت اور دوسروں کے تئیں نرم ہونے کی ضرورت ہے۔

Sep 09, 2019 04:51 PM IST | Updated on: Sep 09, 2019 04:55 PM IST
جیون سمواد: ماضی کو احتیاط سے سنبھالنے کی ضرورت

ہم کس بات سے سب سے زیادہ الجھے رہتے ہیں۔ خود کو احتیاط سے ٹٹولنے پر جواب ملتا ہے، ماضی۔ اپنے حال سے ذرا سا بھی غیر مطمئن ہوتے ہی ہم ماضی کے گلیاروں میں ٹہلنے لگتے ہیں۔ ماضی کے دھاگے کئی بار دل سے ایسے الجھ جاتے ہیں کہ زندگی کی مسکان پھیکی پڑنے لگتی ہے۔ اس لئے ماضی کو احتیاط سے سنھبالنے کی ضرورت ہے۔ ماضی کی جگالی سے ہم صرف اپنے دکھ کو ہی تازہ کرتے رہتے ہیں۔ پرانے زخم کو بار بار سہلانے سے ہمیں لگتا ہے کہ وہ ٹھیک ہو رہا ہے۔ جبکہ ایسا نہ ہو کر وہ ہرا ہی بنا رہتا ہے۔ الٹے ہم پرانے زخم سے حال کو زخمی کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے ہمیں اپنے ماضی کا ٹھیک طرح سے انتظام ضروری ہے۔ آئیے، سمجھتے ہیں کہ اسے کیسے کیا جائے۔

ہمیں ماضی کی اس پائپ لائن کو حال سے پوری طرح سے کاٹنے کی ضرورت ہے جو آج کی زندگی میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہو۔ یہ آسان نہیں ہے لیکن تھوڑی مشق سے اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ماضی کے صفحات کو جو اکثر ہوا کے جھونکوں سے پلٹ کر حال میں دخل اندازی کرنے لگتے ہیں، پختگی کے ساتھ زندگی سے دور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خود کے تئیں ایمانداری، پختگی اور اپنے بنائے ہوئے اقدار پر جمے رہنے سے اسے آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

Loading...

ہم اکثر دوسروں کے تئیں سخت اور اپنے تئیں نرم ہوتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس ہمیں اپنے تئیں سخت اور دوسروں کے تئیں نرم ہونے کی ضرورت ہے۔ جن رشتوں میں پیار اور قربت کی گہرائی رہی ہو، ان سے ماضی کا نجات بہت مشکل ہوتا ہے۔ جیسے لہروں کے بھنور میں اچھے اچھے کشتی بان گھبرانے لگتے ہیں، ویسے ہی ایسے رشتوں میں ماضی بار بار ہمارے روشن حال پر اماوسیا کا اندھیرا پھینکنے میں جٹا رہتا ہے۔

اپنے ماضی سے ہمیں صرف یہ سیکھنا ہے کہ ان غلطیوں کو نہ دہرایا جائے جن سے ہمیں تکلیف ملی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے دل کو اندیشہ اور عدم اعتماد سے بھر لیں۔ بلکہ صرف اتنا ہے کہ اپنے فیصلوں کے تئیں کہیں زیادہ محتاط اور خود اعتماد ہی بنا جائے۔

اپنے فیصلے خود کرنا اور ان کے جیسے بھی نتائج ہوں، ان کے لئے صرف خود کو ذمہ دار ماننا ماضی سے نجات کی سمت میں اہم ترین پہل ہے۔ جو ہو گیا، اسے بدلا تو نہیں جا سکتا، لیکن اس کی یاد میں ہم حال کی خوشگوار امید کو ابدی دور تک انتظار کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اس لئے، خود پر بھروسہ، جس پر اٹوٹ یقین ہے، اس کے ساتھ سے ہمیں حال کے آنگن میں خود کو جھونک دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اگلے مضامین میں بھی ماضی سے نجات پر سمواد کرتے رہیں گے۔ آپ کے ردعمل کا انتظار ہے۔

 Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...