ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جیون سمواد: دماغ کا بوجھ اتارتے رہئے

ہمیں اس بات کا سب سے زیادہ خیال رکھنا ہو گا کہ دماغ پر کم سے کم بوجھ رہے۔ دماغ بھاری ہونے پر زندگی میں کچھ بھی ہلکا نہیں ہو سکتا۔

  • Share this:
جیون سمواد: دماغ کا بوجھ اتارتے رہئے
ہمیں اس بات کا سب سے زیادہ خیال رکھنا ہو گا کہ دماغ پر کم سے کم بوجھ رہے۔ دماغ بھاری ہونے پر زندگی میں کچھ بھی ہلکا نہیں ہو سکتا۔

زندگی کے تجربے پر ہم ایک کوہ پیما سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے بہت خوبصورت بات کہی۔ جیسے جیسے وہ پہاڑ کے اوپر چڑھتے جاتے ہیں، صرف انہی چیزوں کو ساتھ رکھتے ہیں جو بہت ضروری ہوتی ہیں۔ فالتو چیزوں کے ساتھ اوپر چڑھنا ممکن نہیں ہے۔ میرے خیال میں یہ پہاڑ پر چڑھنے کے ساتھ ہی زندگی کے لئے بھی اتنی ہی ضروری بات ہے۔ ہمیں اس بات کا سب سے زیادہ خیال رکھنا ہو گا کہ دماغ پر کم سے کم بوجھ رہے۔ دماغ بھاری ہونے پر زندگی میں کچھ بھی ہلکا نہیں ہو سکتا۔


زندگی پہاڑ پر چڑھنے جیسا ہی ہے۔ اگر آپ نے اضافی بوجھ سے نجات کی صلاحیت حاصل کر لی ہے تو اونچائی پر چڑھتے وقت آپ کو کم سے کم مشکل آئے گی۔ یہ مثال آپ کو تھوڑی سی مشکل لگ سکتی ہے لیکن کبھی تھوڑا ٹھہر کر سوچئے گا کہ ہندوستان میں کس پیشے سے جڑے لوگوں کی عمر سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ آپ پائیں گے کہ سیاست دانوں کی اوسط عمر زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ چیلنج سے بھرے پیشے میں رہتے ہوئے وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے کہیں زیادہ صحت مند بنے رہتے ہیں۔ ان کے اندر زندگی کے نظم کی صلاحیت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ وہ ضروری چیزوں کو وقت پر پورا کرنے اور بیکار کی چیزوں سے دور رہنے میں ماہر ہوتے ہیں۔

ہمیں زندگی کے تئیں معمول رہنا ہے۔ جہاں سے جو اچھا مل رہا ہے، حاصل کیجئے اور آگے بڑھ جائیے۔ اٹکے رہنے سے زندگی نہیں چلتی۔ زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے۔ بادلوں کے گھر لینے کے بعد بھی سورج ٹھہر ٹھہر کر بیٹھتا نہیں۔ رکتا نہیں۔ زندگی کا دم گھٹنے نہیں دینا ہے۔

دماغ کے بوجھ کے تئیں محتاط رہئے۔ جس طرح گھر میں تھوڑا۔ تھوڑا کر کے کباڑ اکھٹا ہوتا ہے ویسے ہی دماغ میں بھی بیکار چیزیں اگتی رہتی ہیں۔ دماغ کا خیال گھر کی طرح رکھئے۔

جو لوگ آپ کو پسند نہیں ہیں ان سے دور ہو جائیے۔ دوری بنا لیجئے۔ بہت مجبوری میں نباہ کرنا بھی پڑے تو بھی محفوظ دوری ممکن ہے۔ لیکن اپنے اندر کسی طرح کی کڑواہٹ زندگی کے تئیں مت آنے دیجئے۔ گھر بدل جائے گا، نئے پڑوسی مل جائیں گے۔ لیکن دماغ میں بیٹھی مایوسی کو آنتوں کی کوٹھی سے نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آنتوں کی مثال اس لئے دی گئی کیونکہ تناؤ کے بارے میں نئی جانکاری یہ ہے کہ یہ ہندوستان میں بہت تیزی سے ہمارے دماغ، جسم خاص طور پر آنتوں کو متاثر کر رہا ہے۔

اس بارے میں اگلے مضمون میں تفصیل سے ہم سمواد کریں گے۔ اس وقت فی الحال اتنا ہی کہ دماغ کو خوش بنائے رکھئے۔ تناؤ کا مقابلہ کرنے میں اپنے پر بھروسہ رکھنے کے ساتھ ہی یہی خوبی آپ کی سنجیونی کا کام کرے گی۔
میری اپیل صرف اتنی ہے کہ اپنے دماغ کے بوجھ کا مسلسل حساب کرتے رہیں۔ ہم اکثر اس پر پڑنے والے دباؤ، تناؤ کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ ہم یہ سوچ کر چلتے ہیں کہ ہم کسی بھی صورت حال کا سامنا کر سکتے ہیں لیکن اس صورت حال کے لئے اپنے دماغ کو تیار نہیں کرتے۔ ہمیشہ دھیان رہے کہ جسمانی تیاری کے مقابلے میں دماغی تیاری کہیں زیادہ ضروری ہے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com


Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔
(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

First published: Dec 09, 2019 04:45 PM IST