جیون سمواد: جو ساتھ نہیں ہیں ( دوسری قسط)۔

کسی بھی رشتہ میں ہم ’’ سب کچھ ٹھیک ہے‘‘ مان کر نہیں چل سکتے۔ کسی بھی رشتہ کا کمتر اندازہ کرنے کہ’ یہ ہمیشہ ہمارے پاس رہے گا‘ ماننے کی غلطی نہیں کر سکتے۔ یہ خطرہ اٹھانے کی بلا وجہ ضرورت نہیں ہے۔

Aug 21, 2019 03:42 PM IST | Updated on: Aug 21, 2019 03:44 PM IST
جیون سمواد: جو ساتھ نہیں ہیں ( دوسری قسط)۔

پہلی قسط میں آپ نے پڑھا کہ ہم اپنے قریب ہی رہنے والوں سے دھیرے۔دھیرے انجانے ہی کیسے دور ہوجاتے ہیں۔ یہ عمل اتنا سست رفتار ہے کہ کئی مرتبہ ہمیں جب تک اس بات کا احساس ہوتا ہے، رشتوں کی کشتی ڈوب چکی ہوتی ہے۔ اس لئے زندگی کے تئیں شعوری نظریہ ضروری ہے۔ کسی بھی رشتہ میں ہم ’’ سب کچھ ٹھیک ہے‘‘ مان کر نہیں چل سکتے۔ کسی بھی رشتہ کا کمتر اندازہ کرنے کہ ’ یہ ہمیشہ ہمارے پاس رہے گا‘ ماننے کی غلطی نہیں کر سکتے۔ یہ خطرہ اٹھانے کی بلا وجہ ضرورت نہیں ہے۔

ہم سے جو کسی وجہ سے دور ہوئے، الگ ہو گئے اس میں ہی دونوں فریقوں کی طرف سے غلطی کی گئی ہو یہ بھی ہمیشہ نہیں ہوتا۔ کئی مرتبہ کسی ایک فریق کو اپنے صحیح ہونے کا بھرم اتنا غالب ہوتا ہے کہ دوسرے کو بھاؤ بھی نہیں دیا جاتا۔

آنکھوں میں دو طرح کی خامی ہوتی ہے۔ پہلا دور کی بصری کمی۔ اس میں دور کی چیزیں تو ٹھیک دکھائی دیتی ہیں لیکن قریب کی چیزوں کو دیکھنے میں مسئلہ ہوتا ہے۔ دوسرا، قریب کی بصری کمی۔ اس میں قریب کی چیزوں کو آسانی سے دیکھا جاتا ہے لیکن دور کی چیزیں واضح طور سے دکھائی نہیں دیتیں۔

Loading...

ہم یہاں جس پس منظر میں رشتوں کی بات کر رہے ہیں، اس میں دور کی بصری کمی تو جگ ظاہر ہے۔ جیسے اس میں دور کی چیزیں تو ٹھیک دکھائی دیتی ہیں ، لیکن قریب کی چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے میں دقت ہوتی ہے۔ ویسے ہی رشتوں کے معاملہ میں ہوتا ہے۔ ہم آسانی سے اپنے قریب اپنے رشتہ داروں کو ایک طویل وقت تک قریب ہونے کی وجہ سے متعدد مواقع پر ٹھیک سے سمجھ نہیں پاتے۔

اس کا سب سے بڑا غلط اثر یہ ہوتا ہے کہ جو دور ہیں، ان کے دور ہونے کا اندیشہ تو بنا رہتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی جو قریب ہیں انہیں ٹھیک سے نہیں سنبھال پانے کے سبب ان کے بھی دور ہو جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے ساتھ رہنے والوں کے تئیں چوکس رہیں۔ ان میں کبھی بھی اس بات کا پیغام نہ جائے کہ ہم ان کی خدمات کا کمتر اندازہ کر رہے ہیں۔

کوئی بھی شخص جو آپ کے ساتھ ہے وہ الگ الگ وجوہات سے ہے۔ اس لئے اس کے تئیں بھی ویسا ہی مستقل رویہ ضرروی ہے جیسا ان کے تئیں جو ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ آپ کو یہاں ایک تجربہ بتانے جا رہا ہوں۔

ہمارے ایک دوست اپنے چار بھائیوں میں سے ایک بھائی کے ساتھ بچپن سے رہے۔ والدین بھی ان کے ساتھ تھے۔ میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ اپنے باقی دو بھائیوں کیلئے ان کے من میں گہرا پیار تھا۔ ان دونوں کی دنیا کو آسانی سے دکھ جانے والی غلطیوں کے تئیں بھی یہ دوست خاموش رہا کرتے تھے۔ جس بھائی کے ساتھ رہتے تھے اس کی چھوٹی۔چھوٹی چیزیں بھی انہیں غیر آرام دہ بنا دیتی تھیں۔ جن کے ساتھ وہ بچپن سے رہے، شادی ہوئی۔ ان کے ساتھ تعلقات آخر میں ایسے موڑ پر آگئے جہاں صرف دعا سلام کی گنجائش ہوتی ہے۔ جبکہ باقی دو کے ساتھ ان کے تعلقات بہت حد تک ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھے۔

یہ ایک طرح کی دور کی بصری کمی ہے۔ رشتوں میں دور کی بصری کمی ہی زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس لئے آنکھوں کی طرح ہی رشتوں کا احتیاط سے خیال رکھنا ضروری ہے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

 

 

Loading...