جیون سمواد: اکیلے بچے کی ڈائری

ہماری کالونی میں ہونے والے ہر پروگرام میں بھاری بھیڑ کے درمیان بھی میں نے اسے اکثر ہی بچوں کے بیچ اکیلے کھیلتے ہوئے دیکھا ہے۔ کچھ دن پہلے اس نے میری بیٹی سے کہا ’’ اگلے سال وہ ہاسٹل چلی جائے گی۔ اسے ہاسٹل کی زندگی بہت اچھی لگتی ہے‘‘۔

Aug 29, 2019 04:02 PM IST | Updated on: Aug 29, 2019 04:44 PM IST
جیون سمواد: اکیلے بچے کی ڈائری

اکثر اسے اکیلے ہی گھومتے دیکھا ہے۔ بچوں کو اس طرح کم ہی ٹہلتے دیکھا ہے۔ دس سال کی بچی کالونی میں اکثر ہی اکیلے آتی جاتی نظر آتی ہے۔ وہ اسکول میں بچوں کی ہم سبق ہے۔ اس لئے سادہ تعارف ہے۔ ماں۔ باپ بچوں کے لئے سب سے محفوظ پناہ گاہ ہوتے ہیں۔ سب سے اچھے ماں باپ وہ ہوتے ہیں جن کے پاس تھوڑا وقت بھی ہوتا ہے۔ تھوڑے سے اضافی وقت سے زندگی کو بہت سارا پیار دیا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ، ہم ایسا کرنا چاہتے ہوں۔ ہماری کالونی میں ہونے والے ہر پروگرام میں بھاری بھیڑ کے درمیان بھی میں نے اسے اکثر ہی بچوں کے بیچ اکیلے کھیلتے ہوئے دیکھا ہے۔ کچھ دن پہلے اس نے میری بیٹی سے کہا ’’ اگلے سال وہ ہاسٹل چلی جائے گی۔ اسے ہاسٹل کی زندگی بہت اچھی لگتی ہے‘‘۔

میری بیٹی نے مجھ سے کہا ’’ آپ تو کہتے ہیں کہ ہاسٹل میں بچوں کی ٹھیک سے دیکھ بھال نہیں کی جاتی۔ لیکن میری دوست وہاں جانے کے لئے تیار ہو رہی ہے۔ اسے ہاسٹل کے بارے میں ساری اچھی باتیں پتہ ہیں‘‘۔ ہم بڑوں کا یہ معاملہ ہوتا ہے کہ ہمیں دنیا جیسی سمجھ میں آتی ہے ، بچوں کو ویسے ہی سمجھانے لگتے ہیں۔ ممکن ہے، اس بچی کو گھر سے باہر بھیجنے کی تیاری میں ماں باپ نے اسے یہ سمجھایا ہو۔

Loading...

کسی بچے کو کہاں اور کیسے پڑھانا ہے یہ ماں باپ کا فریضہ ہے۔ لیکن ایسے ماں باپ کے لئے جو اپنے بچے کا دھیان آسان طریقہ سے رکھنے میں اہل ہوں، ان کے لئے بچے کو اپنے سے دور رکھ کر پڑھانا اس کے ساتھ ناانصافی جیسا ہے۔ یہ کچھ ایسا ہی ہے کہ آپ اپنے گھر میں خوب صورت پھول اگائیں ، پھر اسے بڑا کرنے کی ذمہ داری پڑوسی کو دے دیں۔ وقت کے لحاظ سے آپ اپنے پڑوسی کو اس کے بدلے میں کچھ رقم بھی دیتے ہوں، اس سے یہ تو نہیں ہو گا کہ پڑوسی آپ کے جیسے جذبہ سے ہی پودوں کا خیال رکھے۔

پیسے کو ہم ضرورت سے بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ دولت صرف سہولیات کی توسیع کر سکتی ہے ، اس کا معیار، اس سے پیدا پیار انسان کے علاوہ کسی سے ممکن نہیں ہے۔ہم جس بچی کی بات کر رہے ہیں وہ بہت ہی سادہ لیکن اندر سے کچھ پریشان سی ہے۔ اس کے سوال بنیادی ہیں لیکن جواب سارے ہمارے ’ منصوبہ‘ کے مطابق۔ اگر ہمارے پاس وقت نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کو آپ دوسروں پر تھوپ دیں۔کچھ خاص حالات میں بچے کو باہر رکھنے کا فیصلہ صحیح ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا استعمال صرف اس لئے کہ بڑوں کو اپنے خوابوں سے فرصت نہیں، مناسب نہیں کہا جا سکتا۔

بچوں کو باہر کی اس مشکل دنیا کے بھروسے نہیں چھوڑا جا سکتا جس پر خود آپ کو بھروسہ نہیں ہے۔ بچوں کو باہر کی اس مشکل دنیا کے بھروسے نہیں چھوڑا جا سکتا جس پر خود آپ کو بھروسہ نہیں ہے۔

بچوں کو باہر کی اس مشکل دنیا کے بھروسے نہیں چھوڑا جا سکتا جس پر خود آپ کو بھروسہ نہیں ہے۔ کچھ قارئین کو یہ خیال شاید مناسب معلوم نہ ہو، بچے کو دور رکھنے کے حمایتی ہو سکتے ہیں لیکن اس بات سے وہ بھی متفق ہوں گے کہ بچے کو جو پیار آپ سے مل سکتا ہے ، آپ کے ساتھ مل سکتا ہے وہ آپ سے دور رہ کر ممکن نہیں۔

ایک سماج کے طور پر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم فلم، ناٹک سے کچھ سیکھتے نہیں ہیں۔ بچوں کے ساتھ ’ تارے زمین پر‘ دیکھ آتے ہیں، اس کے گیت گنگناتے ہیں۔ کچھ دن اس کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ اس کے بعد اپنے بچے کو ہاسٹل بھیجنے کی تیاری کرنے لگتے ہیں۔

ڈئیر زندگی، جیون سمواد میں ہم مسلسل اس بات کو دہراتے رہتے ہیں کہ ’ بچے ہم سے ہیں، ہمارے لئے نہیں‘۔ بچوں کے تئیں ذمہ داری ہماری ہے، کیونکہ ہم نے انہیں اپنی خوشی کے لئے چنا ہے۔ بچے کو ہم نے چنا ہے، بچے نے ہمیں نہیں۔ جہاں تک ہو سکے بچوں کو بہت زیادہ پیار دیجئے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...