جیون سمواد: پیار صرف ماں باپ کا فریضہ نہیں ہے

ہم پیار کی چادر ہر دن چھوٹی اور میلی کرتے جا رہے ہیں۔ اس کا دائرہ اتنا چھوٹا ہو چلا ہے کہ اس میں اب اپنے علاوہ کسی اور کے لئے جگہ مشکل ہے۔

Sep 04, 2019 05:13 PM IST | Updated on: Sep 04, 2019 05:21 PM IST
جیون سمواد: پیار صرف ماں باپ کا فریضہ نہیں ہے

ہم کو ایک دوسرے سے جوڑنے والا پیار اس وقت شدید بحران سے دوچار ہے۔ ایک دوسرے کے تئیں گہرا عدم اعتماد، اپنے تئیں خودپسندی، اس سیلفی دور میں پیار اور ہمدردی کے لئے سب سے زیادہ بڑی رکاوٹ کھڑی کر رہے ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے اتنے زیادہ جڑے ہوئے ہیں کہ اگر کسی ایک کی زندگی میں پیار کی تھوڑی سی بھی کمی ہوتی ہے تو دوسرے کی زندگی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ ہمارا دل مسلسل چھوٹا ہوتا جا رہا ہے۔ مشترکہ خاندان اب کتابوں میں پڑھائی جا رہی وہ روایت ہے جو ختم ہونے کی کگار پر ہے۔

ہر چیز کے لئے دلیل گڑھنے کی عادت ہمیں بازار نے اتنی زیادہ سکھا دی ہے کہ ہمارے تحت الشعور میں فائدہ، اپنے مفاد کے علاوہ کوئی دوسرا خیال آتا ہی نہیں۔ ہم پیار کی چادر ہر دن چھوٹی اور میلی کرتے جا رہے ہیں۔ اس کا دائرہ اتنا چھوٹا ہو چلا ہے کہ اس میں اب اپنے علاوہ کسی اور کے لئے جگہ مشکل ہے۔

Loading...

مدھیہ پردیش کے ریوا سے ایک تجربہ اننپورنا ترپاٹھی نے بھیجا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ’’ ان کے پڑوس میں ایک بزرگ جوڑے رہتے تھے۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔ تقریبا دس سال سے دونوں بیٹے بنگلورو میں رہتے ہیں۔ اپنے ماں۔ باپ کی بار بار اپیل کے بعد بھی دونوں اتنے برسوں میں کبھی ان سے ملنے کے لئے یہاں آنے کا وقت نہیں نکال سکے۔ تب بھی نہیں، جب ان کی ماں انتہائی سنگین طور پر بیمار تھیں۔ ڈاکٹروں کے منع کرنے کے بعد، باپ کی مسلسل اپیل کے بعد بھی بچے بالآخر نہیں آئے۔ ایک دن ان کے باپ نے اطلاع دی تھی کہ تمہاری ماں نہیں رہی۔

کسی طرح چھوٹا بیٹا ایک دن بعد پہنچا۔ باپ نے اس سے پوچھا اکیلے آئے ہو، بھائی کیوں نہیں آیا۔ بیٹے نے جواب دیا کہ اس نے کہا ہے کہ بار بار چھٹی نہیں ملتی۔ ماں کے نہیں رہنے پر تم چلے جاؤ، میں اپنی چھٹیاں باپ کے لئے بچا لیتا ہوں۔ اس کا جواب سن کر باپ کی آنکھوں سے صرف آنسو نکلے۔ ایک لفظ بھی بول نہ سکے۔ بیوی کے سبھی رسوم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی ساری جائیداد یتیم خانہ کو ٹرسٹ بنا کر دے دی۔ یہ بھی گزارش کی کہ اگر انہیں کچھ ہو جائے تو وہی لوگ ان کے سارے رسوم پورے کریں، بچوں کو اس کی اطلاع نہ دی جائے۔

ان کے ایسا کرنے کے بعد دونوں بیٹوں نے فون سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اپنی جائیداد کو اس طرح سے ضائع نہ کریں۔ باپ نے صرف اتنا ہی کہا کہ وہ تو بہت پہلے ہی ضائع ہو چکی ہے۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ جو رشتہ دار ان کے بچوں کو ان تک لانے میں نااہل رہے وہی اب ان کو سمجھانے میں جٹے ہیں کہ جائیداد پر تو بچوں کا ہی حق ہے۔

شکریہ اننپورنا جی! پیار صرف ماں باپ کا فریضہ نہیں ہے۔ کنبہ، احباب، رشتے دار اور ہم سے کسی بھی طور پر جڑے ہوئے شخص کا پہلا فریضہ اور پھر حق ہے۔ جن بزرگ کا یہاں تذکرہ ہوا میں ان کے فیصلے سے پوری طرح سے متفق ہوں۔

اگر بچے اپنی زندگی کو چننے کے لئے آزاد ہیں۔ اپنا سکون چننے کے لئے آزاد ہیں تو صرف کسی کے یہاں جنم لینے سے وہ اس کی جائیداد کے حقدار نہیں ہو جاتے۔

ماں۔ باپ کے تئیں اپنے فریضہ کو حکومت اور سماج کے بھروسے چھوڑنے والے اپنے بچوں سے کیا حاصل کریں گے، اس کا اپنے آپ میں تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہم ببول کے پیڑ لگا کر آم کے پھل حاصل نہیں کر سکتے، میرا اس بات میں بہت زیادہ یقین ہے۔ آپ کے ردعمل کے انتظار میں۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

 

Loading...