جیون سمواد: خودکشی کا متعدی بیماری کی شکل اختیار کرنا

خودکشی ہمارے سماج میں پہلے کبھی کبھار سنائی دینے والی خبر تھی۔ تاہم، پچھلے دس برسوں میں خودکشی کی شرح میں جس قدر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے وہ ہمارے لئے متعدد خطروں کی پیشگی وارننگ ہے۔

Aug 19, 2019 04:09 PM IST | Updated on: Aug 19, 2019 04:09 PM IST
جیون سمواد: خودکشی کا متعدی بیماری کی شکل اختیار کرنا

ہمارے درمیان سب سے تیزی سے بڑھتی بیماری کا نام ، زندگی کے تئیں گہری مایوسی ہے۔ یہ مایوسی جب دل کے ساحل کو چھوڑ کر روح تک پہنچنے لگتی ہے تو یہ دھیرے دھیرے زندگی پر بھاری پڑنے لگتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں ہمارے اخبار مشہور صنعتکار وی جی سدھارتھ اور کرکٹر وی بی چندر شیکھر سے لے کر ملک بھر میں ایسی کئی ہستیوں کی زندگی کے تئیں منفی سوچ کے گواہ رہے۔ خودکشی ہمارے سماج میں پہلے کبھی کبھار سنائی دینے والی خبر تھی۔ تاہم، پچھلے دس برسوں میں خودکشی کی شرح میں جس قدر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے وہ ہمارے لئے متعدد خطروں کی پیشگی وارننگ ہے۔

سماج میں مثال ’ اوپر ‘ سے نیچے کی طرف یاترا کرتے ہیں۔ نیچے سے ’ اوپر‘ کی طرف نہیں۔ اس لئے ایسے اشخاص کا زندگی کے خاتمہ کو چننے کا فیصلہ اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے جو کہیں نہ کہیں ہمارے تحت الشعور میں گہری چھاپ چھوڑنے والے ہیں۔ زندگی میں دل کے رول کو جب تک ہم سائنسی نقطہ نظر سے اہمیت نہیں دیں گے ، خودکشی کی گتھی انسان پر بھاری پڑتی رہے گی۔

Loading...

کسی نے کیا حاصل کیا ہے، اس سے اس کی ذہنی سطح کا ٹھیک ٹھاک اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے۔ جیسے پودے کو باڑ کی ضرورت ہوتی ہے بڑے درخت کو نہیں۔ لیکن لکڑی کی کٹائی کرنے والوں سے تو درخت کو بھی خطرہ ہے۔ ایسی ہی ہماری عمر کچھ بھی ہو، دل کے گہرے تناؤ سے بحران ہمیشہ ہے۔ دودھ کو کتنی ہی اچھی طرح کیوں نہ پکایا جائے، ذرا سی کھٹاس اس کے مزاج کو بدل دیتی ہے۔ دودھ اسے برداشت نہیں کر پاتا، ’ پھٹ‘ جاتا ہے۔

ممکن ہے کہ یہ دلیل آپ کو اہمیت کی حامل نہ لگے، لیکن پھر بھی صبر رکھیں۔ ہمیں زندگی کے تناؤ کو بہت چھوٹی چھوٹی چیزوں میں اتر کر سمجھنا ہے۔ چھوٹی چھوٹی بوندیں ہی ندی میں سیلاب کی وجہ بنتی ہیں، ہمیشہ بادل پھٹنے سے سیلاب نہیں آتا۔ زندگی کا سکون دل کے ان جذبات میں چھپا ہے جسے ہم مسلسل نظرانداز کرتے رہتے ہیں۔

یہ بات ڈئیر زندگی، جیون سمواد کے قارئین سے مل رہے ردعمل اور مخلتف شہروں میں ہونے والے سمواد کی بنیاد پر کہی جا رہی ہے۔ پچھلی ایک۔ ڈیڑھ دہائی میں ہندوستان کے مختلف شہروں میں لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے، زندگی کے مختلف پہلوؤں پر ان سے بات کرنے اور مسلسل تحقیق و مطالعہ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیتے ہیں کہ خودکشی دل کے اندر بیٹھی اس گہری برف کی پرت کی طرح ہے جس کی ایک جھلک ہی باہر دکھائی دیتی ہے۔ آپ کو ٹائٹینک یاد ہے نا۔ عظیم جہاز اس لئے ڈوبا کیونکہ سمندر کے کوکھ میں بیٹھے برف کے پہاڑ کو وہ ٹیلا سمجھ بیٹھا۔ اس کے حجم کا صحیح اندازہ اس وقت کے سب سے تجربہ کار ماہر، انجینئر بھی نہیں لگا سکے تھے۔

ان دنوں تناؤ کے بیج کسی بھی دل کی مٹی پر پیدا ہو سکتے ہیں۔ جس تیزی سے یہ واقعات بڑھ رہے ہیں، ان کے متعدی ہونے کا اشارہ ہے۔ اس لئے صرف اپنوں کی ہی فکر مت کیجئے، ان کے ساتھ ان کے گہرے اترنے کے لئے پیار اور ہمدردی کا بھی مظاہرہ کیجئے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

 

 

Loading...