جیون سمواد: دکھ سنبھالنے کا فن

ایسے لوگ بڑی تعداد میں آپ کی طرف ایسی چیزیں اچھالتے رہتے ہیں جن سے آپ کے دماغ پر منفی اثر پڑتا ہے۔ دماغ کو ان کے سائے سے بچانے کے لئے اپنے دماغ کی دیواروں پر یہ بورڈ آویزاں کرا دیجئے کہ مجھے میری اجازت کے بغیر کوئی دکھی نہیں کر سکتا۔

Sep 02, 2019 02:34 PM IST | Updated on: Sep 02, 2019 02:40 PM IST
جیون سمواد: دکھ سنبھالنے کا فن

مجھے انہوں نے کچھ پیغامات بھیجے جو بیحد غصے سے بھرے ہوئے تھے۔ کچھ پیغامات کے بعد انہوں نے بتایا کہ وہ زندگی سے بہت زیادہ پریشان ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کبھی بھی خودکشی کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ میرا تعارف ان سے بہت زیادہ غیررسمی اور محدود تھا۔ ایسے میں کچھ بھی کہہ پانا تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔

میں نے انہیں جو لکھ کر بھیجا وہ اس طرح تھا

Loading...

جسے آپ زندہ رہ کر بدل نہیں سکتے، اسے زندگی دے کر بدلا نہیں جا سکتا۔ آپ کے زندہ رہنے سے جنہیں فرق نہیں پڑتا، انہیں مرنے سے بھی فرق نہیں پڑے گا۔ اس لئے ان باتوں پر ’ مرنا‘ ملتوی کیجئے۔

کسی کو بھی خود کو دکھی کرنے کی اجازت نہیں دینا۔ ایسے لوگ بڑی تعداد میں آپ کی طرف ایسی چیزیں اچھالتے رہتے ہیں جن سے آپ کے دماغ پر منفی اثر پڑتا ہے۔ دماغ کو ان کے سائے سے بچانے کے لئے اپنے دماغ کی دیواروں پر یہ بورڈ آویزاں کرا دیجئے کہ مجھے میری اجازت کے بغیر کوئی دکھی نہیں کر سکتا۔ کسی کو بھی سکون دینے کے مقابلہ میں دکھ دینا زیادہ آسان ہے۔

ہفتہ کے روز ان کا فون آیا۔ انہوں نے بتایا’’ میں اس وقت ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کر رہی ہوں۔ زندگی کے مشکل وقت میں ڈئیر زندگی: جیون سمواد سے بہت مدد ملی۔ میں نے خود کو سنبھال لیا ہے۔ اب اپنی زندگی اپنے بچوں اور خود کے لئے وقف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنے کو دکھی کرنے کی اجازت دوسروں کو نہیں دینا کا خیال کافی مددگار ثابت ہوا ہے‘‘۔

کوئی کتنا بھی قیمتی کیوں نہ ہو، لیکن آپ سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔ اسے یہ کبھی بھی اجازت نہیں دی جانی چاہئے کہ وہ آپ کی ساری زندگی پر گرہن لگا کر چلا جائے۔ اسے ہی دوسروں کو اپنی زندگی میں دکھ پھیلانے کی اجازت کے ضابطہ کے طور پر ہمیں نافذ کرنا ہے۔

میں ایک چھوٹی سے بات اپنی ہی زندگی سے شئیر کرتا ہوں۔ میرے ایک دوست نے سوشل میڈیا پر کچھ ایسا لکھا جس کی امید نہیں تھی۔ پہلے مجھے بھی اچھا نہیں لگا۔ لیکن جب اس ’ دکھی نہیں کرنے کی اجازت‘ والے ضابطہ سے اسے سمجھا تو سب کچھ صاف ہو گیا۔ کسی دوسرے کی بیوقوفی اور عدم رواداری کو اپنی زندگی سے دور رکھنا آسان نہیں ہے۔ مشکل ہے، لیکن تھوڑی سی مشق اور از خود غوروفکر سے دکھ کو سنبھالنے کا فن سیکھا جا سکتا ہے۔

کچھ وقت پہلے میں زندگی کے تئیں گہری تعظیم رکھنے والے ایک گروپ سے ملا۔ جس نے وپاسنا پروگرام میں حصہ لیا تھا۔ مجھے یہ کہتے ہوئے بیحد اطمینان ہو رہا ہے کہ انہوں نے زندگی کی توانائی سے جڑی جن چیزوں پر سب سے زیادہ زور دیا، اس کالم میں ہم مسلسل ایسا ہی سمواد کر رہے ہیں۔

ہمیں زندگی کو آسان، لچکدار اور پر امن بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ سبھی چیزیں ہمارے ساتھ ہی ملک اور سماج کی صورت حال سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ اس لئے دوسروں کو اپنی زندگی کی باگ ڈور کبھی نہیں سونپنی چاہئے۔

ہم میں سے ہر ایک کی زندگی امکان، امید اور پیار سے بھرپور ہے۔ یہ ہمدردی بنائے رکھتے ہوئے دکھ کے فن کو اگر سیکھ لیا جائے تو زندگی سے ’ ڈپریشن اور خودکشی‘ کا بحران کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...