جیون سمواد: زندگی جینے کے لئے ان ضروری باتوں کا رکھیں خیال

ہمارے بچپن میں جدوجہد کی قیمت کہیں زیادہ گہری تھی۔ اب ہم خود، اپنے بچوں کو ایسے ماحول کی طرف لے جا رہے ہیں جہاں ’ گلیمر‘ سب سے بڑی بات ہے۔

Oct 21, 2019 06:39 PM IST | Updated on: Oct 21, 2019 06:39 PM IST
جیون سمواد: زندگی جینے کے لئے ان ضروری باتوں کا رکھیں خیال

سننے میں یہ بات ذرا عجیب لگ سکتی ہے لیکن یہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی تبدیلی ہے کہ ہم زندگی کے تئیں یقین سے دور ہو رہے ہیں۔ زندگی کا معاشی حالات سے اتنا گہرا تعلق نہیں ہے جتنا ہم مان بیٹھے ہیں۔ اگر ہم اپنے والد، دادا کے ساتھ معیاری وقت گزار سکیں تو ہم اس بات کو گہرائی سے سمجھ سکیں گے۔

میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہ موقع ملا۔ والد ان حالات سے آگے بڑھے جہاں اچھے اچھے خواب امید کھو بیٹھتے ہیں۔ اس لئے میرے یقین کی وجہ ٹھوس ہے۔ مشکل حالات میں ہم نے دیکھا ہے کہ دماغ پر قابو پانا سب سے اہم ہے۔

ہمارے بچپن میں جدوجہد کی قیمت کہیں زیادہ گہری تھی۔ اب ہم خود، اپنے بچوں کو ایسے ماحول کی طرف لے جا رہے ہیں جہاں ’ گلیمر‘ سب سے بڑی بات ہے۔ ہفتہ کو جیون سمواد کے ایک چھوٹے سے اجلاس میں دہلی کی ایک ماں نے بہت اہم نجی واقعہ کو شئیر کیا۔
Loading...

نئی دہلی، بنگلہ صاحب گرودوارے کے پاس رہنے والا ایک کنبہ تقریبا 30 سال پہلے گہرے بحران کی زد میں آیا۔ کنبہ کے سربراہ کی ایک حادثہ میں موت ہو گئی۔ ماں پر پانچ بچوں کی پرورش و پرداخت کی ذمہ داری تھی۔ رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے ایک یقینی مدت کے بعد مدد ملنی بند ہو گئی۔ کنبہ کی حالت ایسی تھی کہ دو وقت کی روٹی جٹا پانا مشکل کام تھا۔ کچھ مہینوں تک کھانے پینے کا انتظام آس پاس کے لوگ کرتے رہے ، لیکن دھیرے دھیرے سبھی نے اپنے ہاتھ کھینچنے شروع کر دئیے۔ اس وقت ماں کے سامنے ایک مشکل دور تھا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ تھوڑے تھوڑے بحران میں ماں اپنے ساتھ بچوں کو زہر دے رہی ہیں۔ ذرا سا تناؤ بڑھتے ہی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ لے رہی ہیں۔

اس ماں نے پانچوں بچوں کو پالنے کا فیصلہ کیا کسی بھی قیمت پر۔ ان کے دماغ میں کبھی بھی زندگی سے پیچھا چھڑانے کا احساس نہیں آیا۔ بچے سرکاری اسکول میں پڑھ رہے تھے، رہنے کا انتظام بھی کسی طرح تھا۔ اہم سوال کھانے کا تھا۔ ماں نے نفسیاتی طور پر بیحد مشکل راستہ چنا۔ انہوں نے صبح شام کھانے کے لئے بنگلہ صاحب کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ وہاں ملنے والے کھانے سے بچے بڑے ہوئے۔ یہ سلسلہ تقریبا 15 سال تک چلا۔ کھانے کے اس طرح کے انتظام کے لئے ماں نے سماج سے کیا کچھ سنا نہیں ہو گا۔ اس کا تصور کرنا بہت مشکل نہیں ہے۔ لیکن انہوں نے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے راستہ کو نہیں چنا۔ جدوجہد کو منتخب کیا، خود سپردگی نہیں۔ زندہ رہنا چنا، خودکشی نہیں۔ ماں کے اس حوصلے، جدوجہد اور پیار کو سلام۔

یہ قصہ ہمیں ان پانچ بچوں میں سے ایک نے سنایا۔ وہ ڈئیر زندگی، جیون سمواد سے جڑی ایک قاری کی سہیلی ہیں۔ دونوں ایک ہی اسکول میں پڑھی ہیں۔ بچپن کی سہیلی ہیں۔

 تناؤ، ڈپریشن اور خودکشی کا زندگی کے بحران سے اتنا زیادہ تعلق نہیں ہے جتنا اس کے نفسیاتی ’ بحران‘ سے ہے۔ ہم مشکل سے لوہا لینے کا فن بھول رہے ہیں۔  ہم نے ہر چیز کو ’ اپنے‘ معاشی نظام سے جوڑ لیا ہے۔ یہ بہت ہی اہم پہلو ہے لیکن سب کچھ نہیں ہے۔ ہمارا سب کچھ صرف زندگی کی یقین ہے۔ اس کی حفاظت کریں، بقیہ اپنے آپ خوشگوار اور بہتر ہو جائے گا۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...