جیون سمواد: بچے کے سوچنے کے طریقے پر دھیان دینے کی ضرورت

ہم بچے کے امتحان میں آنے والے نمبر کا دھیان رکھتے ہیں۔ اسکول میں وہ کن چیزوں میں ہمارا نام روشن کر رہا ہے اس بات کا خوب خیال رکھتے ہیں۔ بس، ہم اس بات کا خیال رکھنا بھول جاتے ہیں کہ ہمیں بچے کے دل کا خیال رکھنا ہے۔

Sep 23, 2019 02:08 PM IST | Updated on: Sep 23, 2019 02:13 PM IST
جیون سمواد: بچے کے سوچنے کے طریقے پر دھیان دینے کی ضرورت

زندگی میں سب سے ضروری چیز کیا ہے۔ اس کے کئی جواب ہو سکتے ہیں۔ سب کی اپنی اپنی دلیلیں سمیت اس میں میں صرف اتنا جوڑتا ہوں کہ بچپن سے اپنے دل کو سنبھالنا سب سے اہم کام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں سب سے زیادہ بچے کاخیال رکھنے کی عادت بنانی چاہئے۔ ہم بچے کا خیال نہیں رکھتے۔ اس بات سے آپ پریشان ہو سکتے ہیں لیکن یہی سچ ہے۔ ہم میں سے بہت سارے لوگ اپنے بچوں کا خیال اس طرح سے نہیں رکھ پاتے جس طرح رکھنا چاہئے۔

ہم بچے کے امتحان میں آنے والے نمبر کا دھیان رکھتے ہیں۔ اسکول میں وہ کن چیزوں میں ہمارا نام روشن کر رہا ہے اس بات کا خوب خیال رکھتے ہیں۔ بس، ہم اس بات کا خیال رکھنا بھول جاتے ہیں کہ ہمیں بچے کے دل کا خیال رکھنا ہے۔ ٹھیک ویسے جیسے ہم ای ایم آئی کا دھیان رکھتے ہیں۔ قسط نہ چھوٹ جائے۔ کریڈٹ رینکنگ نیچے نہ آ جائے۔ من سپند چیز کو سنبھالتے ہیں۔ اتنے ہی پیار سے بچے کا بھی دھیان رکھنا ہے۔

Loading...

بچہ کیا سوچ رہا ہے۔ کیسے سوچ رہا ہے۔ اس کے سوچنے کے طریقے کا دھیان رکھنا ہے۔ وہ ہماری بات کو کیسے لیتا ہے۔ اس پر اپنا ردعمل کیسے ظاہر کرتا ہے۔ اسے انکساری سے سمجھنا ہے۔

باپ بننے کے بعد ہی ہم بچپن کو اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔ ہمیں جو اچھا نہیں لگتا تھا، ہم بچے پر وہی تو نہیں تھوپ رہے ہیں۔ اپنے ساتھ والی کہانی بچے کے ساتھ نہیں دہرانی ہے۔ یہی بچے کے تئیں سب سے بڑا پیار ہے۔

ڈئیر زندگی، جیون سمواد کی مستقل قارئین میں سے ایک نوئیڈا کی سلبھا دوبے نے اپنا تجربہ ہم سے شئیر کیا ہے۔

وہ لکھتی ہیں’’ میں نے محسوس کیا ، میری بیٹی اچانک چپ چاپ رہنے لگی تھی۔ اچھے اسکول اور سوسائٹی کے بعد بھی اس میں خوشی کا احساس بہت کم تھا۔ میں کم نمبر لانے کے لئے اسے آئے دن ڈانٹتی رہتی۔ مجھے لگتا کہ یہ ٹھیک ہے۔ کیونکہ میری ماں تو اس سے بھی زیادہ سختی سے میرے ساتھ پیش آتی تھیں۔ لیکن میں بھول گئی کہ میری ماں کے پاس موبائل نہیں تھا جو آج ہم دونوں کے پاس ہے۔ دنیا بہت بدل چکی ہے۔ بیٹی کے دل میں گہری ناامیدی گھر کرتی جا رہی تھی۔ میں جیون سمواد کو مسلسل پڑھ رہی تھی۔ لیکن اسے قبول نہیں کر پاتی تھی۔ اسی دوران بیٹی کی طبیعت خراب ہو گئی۔ تبھی ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر نے وہی سب سمجھایا جو آپ لکھ رہے ہیں۔ میں نے اپنی بیٹی کا دھیان رکھنا شروع کیا۔ اس کی کامیابی کا نہیں۔ کچھ ہی دنوں میں سب ٹھیک ہو گیا۔ میری بیٹی کہیں زیادہ خوش ہے۔ میں بھی‘‘۔

ہمیں یہ بات دل میں باندھ لینی ہے۔ کامیاب بچے کی چاہت میں اس سے قربت کم نہیں ہونی چاہئے۔ دکھی بچہ آگے جا کر صرف دکھی ہو گا۔ جبکہ پیار پانے والا سکھی بچہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ اس لئے بچے کے دل کو ٹوٹنے سے بچانا ہے ہر قیمت پر۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...