جیون سمواد: آنکھوں میں امید کے چراغ

روشنی کے تہوار کو کیسے بازار نے دھیرے دھیرے پٹاخوں کے شور میں بدل دیا۔ ممکن ہے، کچھ برسوں بعد دیوالی صرف پٹاخوں اور خریداری سے ہی منائی جائے۔

Oct 29, 2019 01:50 PM IST | Updated on: Oct 29, 2019 01:51 PM IST
جیون سمواد: آنکھوں میں امید کے چراغ

دیوالی کی روشنی کو جانے مت دیجئے۔ آنکھوں میں امید کے چراغ جلا لیجئے۔ روشنی کو اندر تک بھر لیجئے۔ زندگی کے آنگن میں پھینکے جا رہے اندھیرے کو مٹانے میں آسانی ہو گی۔ اندھیرا آئے گا ہی، بس اتنا دھیان رکھنا ہے کہ اجالوں کے موتی روح سے زیادہ دور نہ ہوں۔ دیوالی پر پسرے پٹاخوں کے شور، آلودگی کے بیچ مجھے سگریٹ پینے والوں کی یاد آ جاتی ہے۔ لیکن عجیب لت ہے۔ پہلے دھواں اندر کھینچئے، بعد میں باہر نکالئے۔ دیوالی پر آلودگی کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ پہلے ہم خود چاروں طرف آلودگی کا شور اور سانسوں میں زہر گھول دیں، اس کے بعد اس پر غوروفکر کرنے میں جٹ جاتے ہیں۔ ہم ان جانوروں، جنگلاتی زندگیوں کے بارے میں ایک دم آنکھیں موند لیتے ہیں جو ہماری ماحولیات کا لازمی جزو ہیں۔ اس دوران بہت زیادہ پریشانی میں رہتے ہیں۔

اپنی روایت اور عقیدت کے درمیان دیوالی امید کے جاری عمل کا تہوار، بھروسہ ہے۔ بھروسے کا تہوار ہے۔ روشنی کے تہوار کو کیسے بازار نے دھیرے دھیرے پٹاخوں کے شور میں بدل دیا۔ ممکن ہے، کچھ برسوں بعد دیوالی صرف پٹاخوں اور خریداری سے ہی منائی جائے۔

Loading...

روشنی اور اس میں شامل امید دھیرے دھیرے ختم ہوتی جائے، اس لئے ہمیں اپنے سماج اور لوگوں کے درمیان لوٹنا ہو گا۔ بازار، زندگی کی کڑوی سچائی ہے۔ لیکن ہمیں توازن کو نہیں بھولنا چاہئے۔ امریکہ اور انگلینڈ میں بازار کی تاریخ کہیں پرانی ہے۔ لیکن انہوں نے اپنی ماحولیات کو ہمارے مقابلہ میں کہیں زیادہ سنجیدگی سے سنبھالے رکھا ہے۔ پچھلے دنوں ممبئی کے آرے میں جس چالاکی کے ساتھ جنگل کاٹ دئیے گئے وہ ہماری بندوبست کی سچی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس دیوالی پر ہم نے بہت چھوٹا سا تجربہ کیا۔ کنبے کی شکل میں ہم نے طئے کیا کہ ہم کوئی خریداری نہیں کریں گے۔ کیونکہ یہ ایک بغیر وجہ کی رسم بنتی جا رہی ہے۔ بھیڑ چال سے دور کئے بغیر خود کو بھیڑ ہونے سے روکنا ممکن نہیں۔ دنیا کے حساب سے چلنے کا مطلب خود کو فوٹو کاپی میں بدلتے جانا نہیں ہے۔

دھیان دیجئے، کیسے دھیرے دھیرے ہماری زندگی سے تالاب، ندی اور جنگل غائب کر دئیے گئے۔ یہ سب ہماری زندگی میں سکھ کے نام پر مٹائے گئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آج اسی سکھ کے لئے ہم سب سے زیادہ بے چین ہیں۔ پانی اور صاف ہوا کو ہم نے سب سے کم اہمیت دی۔ اب دونوں ہم سے دور ہیں۔ صاف ہوا اور پانی کے لئے ہم موٹی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ جبکہ کچھ وقت پہلے کی بات ہے، یہ دونوں بالکل مفت میں دستیاب تھے۔

سماج کا ایک بڑا حصہ دھیرے دھیرے ماحولیات سے خود کو دور کرتا جا رہا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ ترقی کے لئے یہ ضروری چیز ہے۔ اس کا کوئی متبادل نہیں۔

دیوالی، اپنے تہواروں کے بنیادی پیغام کو سمجھے بغیر ہم صرف بازار کے حساب سے زندگی کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔ یہ طرز زندگی ہمیں اس لطف اور سکون کی طرف نہیں لے جا سکتی جس کی آرزو ہمارے دل میں بسی ہے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

 

Loading...