جیون سمواد: دماغ کس کے بس میں ہے

رشتوں میں دوری اکثر کچھ کہنے، سننے کی جگہ دماغ میں ’ بنائے گئے‘ مفروضہ کی بنیاد پر بڑھتی جاتی ہے۔ اسے وہ لوگ’ بناتے‘ ہیں جو ہمارے دماغ کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Nov 20, 2019 05:48 PM IST | Updated on: Nov 20, 2019 05:49 PM IST
جیون سمواد: دماغ کس کے بس میں ہے

ہمارا دماغ کس کے کنٹرول میں رہتا ہے۔ اس بات کا جواب یہی ملتا ہے ’ میرے بس میں‘۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم کیوں کسی کے کچھ کہنے، بتانے اور سمجھانے پر اتنے بے قابو ہو جاتے کہ ہمارے دماغ کی نسوں میں ابال آنے لگتا ہے۔ دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ دل مرجھا جاتا ہے۔ ایک اطلاع، کسی کی کہی ہوئی بات اگر ہمیں اتنا متاثر کر دیتی ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ دماغ ہمارے قابو میں نہیں ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ دماغ تو ہمارا ہے، لیکن اسے کنٹرول کوئی دوسرا کر رہا ہے۔ وہ دوسرا کون ہے جو ہم سے اپنی مرضی کا کام کروا لیتا ہے۔ جب چاہے ہمیں دکھی کر لیتا ہے۔ ایسا کرنے والا جو کوئی بھی ہے ہمیں اس کے بارے میں سب کچھ پتہ ہونا چاہئے۔

Loading...

لیکن اگر ہم نے اپنے دماغ کی ساری کنجیاں کسی دوسرے کو تھما دی ہیں تو ان کا استعمال وہ اپنی سہولت، خواہش سے ہی کرے گا نہ کہ ہمارے مطابق۔ اسی لئے اس بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ ہمارا دماغ ہمارے کنٹرول میں ہے ورنہ ان کے کنٹرول میں جو اسے اتنا متاثر کر دیتے ہیں اس پر سے ہمارا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے۔

ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ گھر۔ کنبے سے لے کر نوکری اور کاروبار تک رشتوں میں دوری اکثر کچھ کہنے، سننے کی جگہ دماغ میں ’ بنائے گئے‘ مفروضہ کی بنیاد پر بڑھتی جاتی ہے۔ اسے وہ لوگ’ بناتے‘ ہیں جو ہمارے دماغ کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے میں سمجھنا ضروری ہے کہ دماغ کا کنٹرول کس کے پاس ہے۔

ہمیں کوئی اپنے دماغ کے حساب سے کیسے چلا سکتا ہے۔ اس بات کا احساس ہمیں بہت ساری الجھنوں سے بچا سکتا ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال لیتے ہیں۔ آپ کو کوئی کہتا ہے کہ آپ کے بارے میں اس نے ایسا کچھ سنا جو اچھا نہیں ہے تو آپ کی پوری توانائی اسی بات میں لگ جاتی ہے کہ کسی طرح جانا جائے کہ آخر کہا کیا گیا تھا۔ ایسا کرتے وقت اپنا دماغ اطلاع دینے والے کے پاس گروی رکھ دیتے ہیں۔کتنے ہی دن تک آپ اس کی بتائی گئی اطلاع سے دکھی ہوتے رہتے ہیں۔ غصہ ہوتے رہتے ہیں۔ جب کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا نہ ہوا ہو۔ آپ کے متعلقہ شخص سے تناؤ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی باتیں اکثر کہہ دی جاتی ہیں۔ آپ کا پورا دھیان، توانائی سب چیزوں سے ہٹ کر صرف ان باتوں میں لگ جاتی ہے جن میں آپ کو توہین کا احساس نظر آتا ہے۔ اسے ہی دماغ کا کنٹرول دوسرے کے ہاتھ میں رکھنا کہتے ہیں۔

 اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔ کوئی ہمیں بتاتا ہے کہ آپ کی بڑی تعریف ہو رہی تھی۔ اس طرف ہمارا دماغ کم جاتا ہے۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ ہم منفی باتوں کو آسانی سے قبول کر لیتے ہیں۔ یہی دماغ کا سب سے گھماؤدار موڑ ہے۔ ہم  جتنا مشق کریں گے مثبت ہونے کا، اتنا ہی اس موڑ سے زندگی کی طرف مڑ پائیں گے۔ دماغ کو مضبوط بنانا ہے۔ اسے دوسروں کی باتیں سننے سمجھنے کے لائق تو کرنا ہے لیکن اتنا کمزور نہیں بنانا ہے کہ ہم بات بات میں دکھی ہونے لگیں۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...