جیون سمواد: سب کچھ کھونے کے بعد

کل ملا کر سماج کے طور پر ہماری نقل مکانی جاری رہی۔ ایک شہر سے دوسرے شہر۔ ہم اپنے گاؤں، مشترکہ خاندان سے دور ہوتے ہوئے اب کل ملا کر فلیٹ تک محدود گئے۔

Nov 06, 2019 05:41 PM IST | Updated on: Nov 06, 2019 05:44 PM IST
جیون سمواد: سب کچھ کھونے کے بعد

ایسا کیا ہے جسے کھونے کا غم اتنا گہرا ہو کہ زندگی داؤں پر لگا دی جائے۔ سب کے اپنے۔ اپنے نظرئیے، بحران ہو سکتے ہیں۔ ان سب کے بیچ یہ طئے ہونا ضروری ہے کہ ’ سب کچھ‘ کیا ہے۔ اس کی حد کیا ہے۔ یہ کہاں جا کر ٹھہرے گا۔ بالآخر سب سے خاص کیا ہے۔ جس کے لئے کسی بھی دکھ کو برداشت کرنے کی صلاحیت ہمیں حاصل کرنی ہوتی ہے۔ ہمارا سماج دنیا کے دوسرے ملکوں کے مقابلے کہیں زیادہ جڑاؤ والا رہا ہے۔ ہمارے یہاں معاشرتی ، سکھ دکھ میں ایک دوسرے کے ساتھ سبھی اختلافات بھلا کر کھڑے ہونے کی انوکھی طاقت رہی ہے۔ کھیتی پر مبنی سماج ہونے کے ناطے ایسا آسانی سے ہوتا رہا کیونکہ گاؤں ایک دوسرے کے تعاون کے بغیر اپنے وجود کو نہیں بچا سکتے۔

پندرہ سے بیس برس پہلے جب ہم اپنے گاؤں سے دور شہروں کی طرف آنا شروع ہوئے تو یہ بحران سنگین نہیں تھا۔ کیونکہ ہم اپنی جڑوں سے دور نہیں تھے۔ ہمارے سماجی رشتے شہر کی طرف بڑھنے کے بعد بھی گہرے تھے۔ گاؤں ہماری معاشرت کے مرکز میں تھا۔ اس میں تبدیلی تب سے شروع ہوئی جب سے ہم شہر میں بسنے لگے۔ وہ نوجوان جو اب بزرگ ہونے جا رہے ہیں ، گاؤں کی معاشرت سے دور ہونے کی وجہ سے دھیرے دھیرے شہری ہوتے گئے۔ جو کسی شہر میں بچپن سے تھے وہ شہر ان کا گاؤں ہی تھا۔ وہ بہتر مواقع کی چاہ میں دوسرے شہروں کی طرف بڑھے۔

Loading...

کل ملا کر سماج کے طور پر ہماری نقل مکانی جاری رہی۔ ایک شہر سے دوسرے شہر۔ ہم اپنے گاؤں، مشترکہ خاندان سے دور ہوتے ہوئے اب کل ملا کر فلیٹ تک محدود گئے۔

ہمارے بحران جتنے زیادہ نجی ہوتے جائیں گے، ہم اتنے ہی پھنستے جائیں گے۔ ایک دوسرے کے تئیں، پیار اور ہمدردی، ساتھ کھڑے ہونے کا ہنر ہی بالآخر ہمیں بچا پائے گا۔

ہمیں اپنے اندرون میں ساتھ رہنے کا احساس رکھنا ہو گا۔ اکیلا پن، تناؤ اور خودکشی کی طرف جانے کا سب سے بڑا سبب ہمارے اندر اس احساس کا گہرائی سے بیٹھتے جانا ہے کہ میں ’ اکیلا‘ پڑ گیا ہوں۔ اب کسی کو میری ضرورت نہیں۔ نوکری جانے، رشتے ٹوٹنے کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ ختم ہو گیا۔

زندگی خود میں سب سے بڑا امکان ہے۔ دنیا کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جیتے وہی جو ہارے نہیں۔ ہم اپنے ذہن کو مشکل کے لئے کیسے تیار کرتے ہیں، زندگی کی سمت اس سے ہی طئے ہوتی ہے۔ ہمارے اپنے سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ لینے سے ہی ہمارا ذہن تیار ہوتا ہے۔

اگر ہم اسے ہمیشہ کامیابی کے رتھ پر تیار رہنے کی ٹریننگ دیتے رہیں گے تو وہ کبھی ایسی چیزوں کے لئے تیار نہیں ہو پائے گا جس کا سامنا کبھی بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

جب کوئی سمجھائے، سب کچھ کھونے کے بعد کیا کرو گے۔ زندگی مشکل ہو گئی ہے، اسے یاد دلائیں کہ آپ نے کہاں سے شروع کیا تھا۔ اپنی زندگی کے تئیں عقیدت ہمیں زندگی کے تناؤ، گھماؤدار موڑ سے آسانی سے نکال سکتی ہے۔ یاد رہے، سب کچھ کھونے کے بعد بھی بہت کچھ بچا رہتا ہے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

 

Loading...