جیون سمواد: انسانیت کی بنیاد پر لوگوں کی مدد کریں

زندگی میں خوشگواری۔ ناخوشگواری کا ضابطہ انسانیت کے لئے اچھا نہیں ہے۔ یہ ریاضی کے لئے اچھا ہو سکتا ہے۔ کاروبار کے لئے اچھا ہو سکتا ہے۔ لیکن جہاں تک ایک اچھی زندگی کا سوال ہے، وہاں یہ خیال ہمارے دل کو الگ الگ خوشیوں سے باندھنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتا۔

Sep 24, 2019 01:28 PM IST | Updated on: Sep 24, 2019 01:36 PM IST
جیون سمواد: انسانیت کی بنیاد پر لوگوں کی مدد کریں

تھوڑے تردد سے انہوں نے کہا ’’ ایک شخص جن سے آپ کے رشتے ٹھیک نہیں ہیں، انہیں مدد کی ضرورت ہے۔ میں کر رہا ہوں۔ آپ کو کوئی پریشانی تو نہیں ہے‘‘۔ ہم ایسے سوالات کے لئے کہاں تیار رہتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا، ہاں مجھے پتہ ہے۔ آپ کو بتانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہم سب کے رشتے سبھی سے ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔ اس لئے آپ ان کی مدد کریں کیونکہ آپ کے ان سے رشتے ٹھیک ہیں۔ جب ان سے یہ کہا جا رہا تھا تو مجھے یہ بھی پتہ تھا کہ ان کے بیچ میں کچھ ’ کھٹ۔ پٹ‘ ہو چکی ہے۔

یہ کہنے والے دوست کا بڑکپن، زندگی کے تئیں  رحمدلی اور انسانیت میں یقین ہی ہے کہ وہ مدد کرتے وقت صرف یہ سوچتے ہیں کہ ایسا کرنا ہی ہم سب کا بنیادی فریضہ ہے۔

ڈئیر زندگی، جیون سمواد میں ہم مسلسل اس موضوع پر بات کر رہے ہیں کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جو ہمارے ضمیر پر حاوی ہو کر ہمیں انسان کی فطری خوبیوں سے دور کرتی ہیں۔

Loading...

ناخوشگوار ہونے کے لئے یہ بہت ضروری ہوتا ہے کہ آپ کبھی خوشگوار رہے ہوں۔ ہوا دھیرے۔ دھیرے چلتی ہے، سہانی، دل کو پیاری لگتی ہے۔ ہم ٹہلتے ہوئے سکھ محسوس کرتے ہیں۔

اسی درمیان وقت کے ایک موڑ پر الگ الگ وجوہات سے وہی ہوا ’ آندھی‘ میں بدل جاتی ہے۔ ہوا کو لے کر ہمارا پورا نظریہ ہی بدل جاتا ہے۔ جو ہوا کچھ دیر پہلے تک خوشگوار تھی، اب اس سے بچنے کے لئے کوشش کی جاتی ہے۔ رشتوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ رشتے جب تک ہمارے حساب سے چلتے ہیں خوشگوار لگتے ہیں۔ مختلف وجوہات سے جب وہ ہمارے حساب سے نہیں چلتے، ںاخوشگوار لگنے لگتے ہیں۔

زندگی میں خوشگواری۔ ناخوشگواری کا ضابطہ انسانیت کے لئے اچھا نہیں ہے۔ یہ ریاضی کے لئے اچھا ہو سکتا ہے۔ کاروبار کے لئے اچھا ہو سکتا ہے۔ لیکن جہاں تک ایک اچھی زندگی کا سوال ہے، وہاں یہ خیال ہمارے دل کو الگ الگ خوشیوں سے باندھنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتا۔

جب میں آپ سے یہ سب ساجھا کر رہا ہوں تو مجھے یہ کہنے میں تردد نہیں ہے کہ یہاں تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔ زندگی کے تئیں جدید اور سائنسی نظریہ کو رچے بغیر یہ سب باتیں کتابی لگ سکتی ہیں۔ لیکن جیسے ہی آپ دل سے ان چیزوں کو قبول کرتے جاتے ہیں، آپ کا دل ہلکا ہونے لگتا ہے۔

ہمیں اپنے دل کو دوسرے کے مطابق نہیں بنانا ہے۔ ہمیں اسے مطمئن زندگی کے لئے اپنے مطابق بنانا ہے۔ ذہنی بیماریوں کی سب سے بڑی جڑ انسان کے دل میں پڑنے والی گانٹھیں ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ دل کو کھوکھلا کرتی چلی جاتی ہیں۔

آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں بلڈ پریشر، ہائپر ٹینشن ، بھاری سر درد اور تناؤ کے لئے۔ ڈاکٹر آپ سے بات کرنے کی بجائے ایسی دوائیاں لکھتا ہے جن سے ان چیزوں کا کنٹرول ممکن ہو۔ وہ تشخیص نہیں کرتا صرف مسئلہ کو کچھ وقت کے لئے روک دیتا ہے۔ کیونکہ آپ اس کے لئے بار بار آنے والے مریض ہیں۔ اس کے کاروبار کا حصہ ہیں۔

ان سبھی چیزوں کی جڑ ہمارا دل ہے۔ جیسے زیادہ بوجھ اٹھانے سے بدن پر خراب اثر پڑتا ہے، ویسے ہی دل پر زیادہ بوجھ ڈالنے سے اس کا نظم وضبط ٹوٹ جاتا ہے۔ اسے تکلیف ہوتی ہے۔ اس لئے دل کا بھی ویسے ہی خیال رکھنا چاہئے جیسے جسم کا رکھا جاتا ہے۔

خوشگواری۔ ناخوشگواری کو چلے آ رہے خیال کی بنیاد پر مت سمجھئے۔ اسے صرف اپنی دل کی نرمی، اس کی خوبصورتی اور صحت سے جوڑ کر دیکھئے۔ یہ مشق ہمیں ذہنی صحت کی نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

 

 

 

 

Loading...