جیون سمواد: ٹوٹے ہوئے رشتوں کے اس ’ پار‘..۔

زندگی بالآخر امکان ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی وجہ سے دو لوگ کسی رشتے میں بندھ نہ پائے ہوں لیکن اس کے معنیٰ یہ نہیں کہ وہ کسی نئے رشتے میں بھی ایسے ہی ثابت ہوں۔

Nov 11, 2019 04:26 PM IST | Updated on: Nov 11, 2019 04:26 PM IST
جیون سمواد: ٹوٹے ہوئے رشتوں کے اس ’ پار‘..۔

ہم سب اپنے تجربے کی  دنیا میں ہی جیتے ہیں۔  جس کا تجربہ جیسا رہا وہ اپنے کو اس کے مطابق بناتا گیا۔ اپنے تجربے کے پار جا کر دنیا کو جینے، سمجھنے اور پیار کرنے کا ہنر کم لوگوں کے پاس ہے۔ اسے زندگی کے تئیں گہری عقیدت، پیار سے ہی بننا ممکن ہے۔ اس سمواد کو ٹوٹے ہوئے رشتوں، بہت کوشش کے بعد بھی چیزوں کو نہیں سجھانے کے خصوصی پس منظر میں لیا جانا چاہئے۔

زندگی میں ترغیب کے پھولوں کی خوشبو ہم دوسروں کو خوب بانٹتے رہتے ہیں، لیکن اپنی زندگی سے اسے انجانے ہی دور رکھتے ہیں۔ زندگی رکنے کا نام نہیں، تجربہ کے ساحل پر اسے یرغمال نہیں بنانا ہے۔

جئے پور سے جیون سمواد کی مستقل قاری روچرا ترپاٹھی نے لکھا ہے ’’ میری پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں ماں۔ باپ کو میں نے جھگڑتے ہی پایا۔ اس سے دل میں شادی کے تئیں ایک طرح کی بے رغبتی ہوتی گئی۔ اس کے بعد بڑی بہن کی ازدواجی زندگی میں بھی کئی مشکلات دیکھی۔ جب تک وکاس ( ان کے والد) سے ملنا نہیں ہوا، زندگی اندیشے کے بیچ ڈوبتی رہی‘‘۔ روچرا کا کہنا ہے کہ ’’ دوسرے رشتوں سے سبق لینی چاہئے لیکن ان کی بنیاد پر اپنے لئے کوئی ضابطہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ہر کوئی آزاد ہے، اس لئے اس کے رویہ کو دوسرے سے نہیں جوڑا جا سکتا‘‘۔

Loading...

اس تجربے کو سماج سے جوڑنے پر آپ دیکھیں گے کہ بڑی تعداد میں ہم نے اپنی زندگی دوسروں کے تجربے کے سہارے منجدھار میں چھوڑ رکھی ہے۔ دوسروں کے ٹوٹے دلوں، رشتوں کی بنیاد پر آپ اپنے لئے کچھ حد تک سبق تو لے سکتے ہیں لیکن ان کو زندگی کی بنیاد نہیں بنائی جا سکتی۔

زندگی بالآخر امکان ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی وجہ سے دو لوگ کسی رشتے میں بندھ نہ پائے ہوں لیکن اس کے معنیٰ یہ نہیں کہ وہ کسی نئے رشتے میں بھی ایسے ہی ثابت ہوں۔

زندگی کے رشتوں کو ان سلجھے بھنور سے بچانا ہے۔ جو ہو گیا اس سے باہر آنے میں وقت تو لگے گا۔ لیکن کتنا، کب تک۔ زندگی پری پیڈ سم کی طرح ہے۔ اس میں کچھ چیزوں کو چھوڑ کر ہر منٹ کا حساب ہے۔ اس لئے، ان سلجھے رشتوں کو وقت رہتے سلجھائیے، اگر ایماندارانہ کوشش بھی اثر نہ دکھا سکے تو اس سے باہر آ جائیے۔

زندگی کے ساحل پر اس پار جو ہوا تو ہوا۔ اس پار اندیشے کو لے کر مت ٹہلئے۔ ایک رشتہ ٹوٹا کوئی بات نہیں۔ دوسرے میں دھوکہ ملا، کوئی بات نہیں۔ بہت ممکن ہے کہ آپ کل جمع پانچ لوگوں سے ہی گھرے رہے ہوں۔ کم لوگوں کے بیچ رہنے سے ہماری دنیا چھوٹی ہی رہے گی۔ اپنی دنیا کو بڑا کر لینے سے اس کے کردار اپنے پاس بڑھ جائیں گے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...