جیون سمواد: اکیلے ہم اکیلے تم

ہمارے پاس ایک سے بڑھ کر ایک اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے پلان ہیں۔ سوشل میڈیا ہے۔ رشتے بنانے والے عظیم ’ ایپ‘ ہیں۔ جتنے طرح کے رشتے ہو سکتے ہیں اتنے ہی طرح کے ایپ اور ویب سائٹ ہیں۔ اس کے بعد بھی ہماری کھوج کہاں اٹکی ہے۔

Sep 19, 2019 12:55 PM IST | Updated on: Sep 19, 2019 12:56 PM IST
جیون سمواد: اکیلے ہم اکیلے تم

جیون سمواد: اگر آپ کو کوئی ایسا شخص مل جائے جو اپنے موبائل کو چھوڑ کر کسی انسان، فطرت کی طرف دیکھ رہا ہو۔ کسی سے بات کرتے وقت اپنے موبائل کو ایک بار بھی نہ دیکھے۔ تو سمجھ لیجئے کہ اس میں ضرور ہی کچھ خاص ہے۔ وہ سادہ نہیں ہو سکتا۔

یہ بات پڑھنے اور سننے میں تھوڑی شرارت بھری لگ سکتی ہے لیکن یہ ہمارے دور کا سچ ہے۔ ہم کبھی بھی اکیلے نہیں ہیں۔ ہم ہر وقت اپنے اسمارٹ فون کے ساتھ ہیں۔ شوہر اور بیوی اکیلے ہو کر بھی اکیلے نہیں۔ دو دوست، کنبے کے لوگ کہنے کو ساتھ بیٹھے ہیں، لیکن ان کا دل اور دماغ ان کے فون میں لگا ہوا ہے۔ میں بڑی تعداد میں ایسے لوگوں سے واقف ہوں جو غسل خانہ میں جاتے وقت بھی خود کو موبائل سے دور نہیں رکھ پاتے۔ ہمیشہ کچھ نہ کچھ اس میں تلاش کرتے رہتے ہیں۔

Loading...

کچھ وقت پہلے ایک گروپ نے مجھے سمواد کے لئے مدعو کیا۔ یہ کثیر قومی کمپنی سے وابستہ تھا۔ اس گروپ میں مختلف کمپنیوں میں کام کرنے والے مرد اور خواتین تھیں۔ یہ اپنی اپنی کمپنی کے سینئر عہدوں پر تھے۔ یہ سبھی کیفے کافی ڈے کے بانی وی جی سدھارتھ کی خودکشی پر میرے نقطہ نظر سے غیر متفق تھے۔ اس لئے، ہم اسی موضوع پر بات کر رہے تھے۔ اسی دوران میں نے ایک سوال کے جواب میں پوچھا کہ آپ کیا کھوجتے ہیں۔ جو آپ کے پاس ہوتا ہے۔ اور وہ جو آپ کے پاس نہیں ہے۔ گروپ کی سب سے بڑی آفیسر نے کہا ’ وہ جو میرے پاس نہیں ہے۔ میرے پاس کافی پیسے ہیں تو میں پیسے نہیں کھوجتی‘۔ پھر کیا کھوجتی ہیں آپ۔ میں نے پوچھا۔ ’ وہ جو دولت سے نہیں مل سکتا۔ پیار اور اپناپن جو آسانی سے ملتے ہی نہیں‘۔

ہم یہ سب کہاں کھوجتے ہیں۔ پہلے ہم یہ سب سماج میں تلاش کرتے تھے۔ اب ہمارے پاس لاکھ دکھوں کی ایک دوا، اسمارٹ فون ہے۔ انسان کی تلاش اس کے سہارے ہی کر رہے ہیں۔ جو اس کی پہنچ میں نہیں ہے، ظاہر ہے ہماری فہرست میں نہیں آئیں گے۔

اس معنیٰ میں دنیا چھوٹی ہوتی جا رہی ہے۔ جو گوگل اور اسمارٹ فون کی پہنچ میں نہیں ہے ، وہ ہماری دنیا سے ہی باہر ہوتا جاتا ہے۔ ہمارے پاس ایک سے بڑھ کر ایک اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے پلان ہیں۔ سوشل میڈیا ہے۔ رشتے بنانے والے عظیم ’ ایپ‘ ہیں۔ جتنے طرح کے رشتے ہو سکتے ہیں اتنے ہی طرح کے ایپ اور ویب سائٹ ہیں۔ اس کے بعد بھی ہماری کھوج کہاں اٹکی ہے۔ تھکی ہاری آنکھوں سے ہم کیا دیکھ رہے ہیں؟ ایسا کیا ہے جو اسمارٹ فون میں ہے، باقی دنیا میں نہیں۔

اسمارٹ فون نے دماغ کو خوبصورتی سے پڑھ لیا ہے۔ وہ ہماری دکھاوے کی چاہت اور دل کے راز کو سمجھ گیا ہے۔ اسے پتہ چل گیا ہے کہ ہم ہر چیز کی ’ سیلفی‘ چاہتے ہیں، روح نہیں۔

ہم دوستوں کے ساتھ سے زیادہ ان کی شاندار سیلفی چاہنے لگے ہیں۔ ان پر کمنٹ اور لائک بیحد ضروری ہو گئے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ہم رشتوں کی قربت طئے کرتے ہیں۔ کہیں گھومنے جاتے ہوئے ہم فطرت کو محسوس کرنے، ہوا اور مناظر کو اپنے اندر بھرنے، وقت گزارنے سے زیادہ اس کی تصویروں کے لئے پاگل ہو جاتے ہیں۔ اسمارٹ فون نے ہمارے اچھے دکھنے اور خوبصورتی کے احساس کو ترجیح دی ہے۔کل ملا کر اس نے ایک شاندار سیلفی کے لئے سارا ماحول تیار کر لیا ہے۔ جب سارا زور دکھنے پر ہی ہے تو ہم اسمارٹ فون سے کیسے دور رہ سکتے ہیں۔ تکنیک اس بات تک پہنچ گئی ہے کہ آپ کیسے سوچتے ہیں۔ اس لئے، وہ اپنی پوری طاقت سے ہم پر حاوی ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپنے اندرون کو ٹٹولئے، کھنگالئے، سوچئے جب آپ مصروف نہیں ہوتے ہیں تو کیا کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک جواب مجھے پتہ ہے، آپ اپنے فون کے ساتھ مصروف ہیں۔ مجھے خوشی ہو گی اگر میں صحیح نہیں ہوں۔ آپ کے ردعمل کے انتظار میں۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

 

 

Loading...