جیون سمواد: زندگی کی سب سے قیمتی چیز

ہماری سب سے بڑی مشکل یہی ہے کہ ہم سب سے قیمتی چیز کو سنبھال پانے میں اہل نہیں ہیں۔ ہم سب قیمتی چیزوں کے جمع کرنے میں جٹے ہوئے شخص سے زیادہ کچھ اور نہیں ہیں۔

Nov 14, 2019 05:48 PM IST | Updated on: Nov 14, 2019 06:01 PM IST
جیون سمواد: زندگی کی سب سے قیمتی چیز

آج چھوٹی سی کہانی سے شروع کرتے ہیں۔ گاؤں میں ایک فقیر رہا کرتے تھے۔ لوگوں کو سمجھانے کا ان کا طریقہ تھوڑا الگ تھا۔ وہ ہر وقت ایک کنوئیں کی دیکھ بھال میں لگے رہتے تھے۔ ہر کوئی کہتا، اس کنوئیں میں آخر کیا ہے۔ وہ کہتے، وقت آنے پر بتاؤں گا۔ ایک دن ایک نوجوان بضد ہو گیا۔ آخر اس کنوئیں میں کیا ہے۔ فقیر نے کہا کنوئیں میں بھگوان ہے۔ اس نے کہا میں نہیں مانتا۔ فقیر نے اسے کنوئیں میں جا کر جھانکنے کے لئے کہا۔ اس نے جھانکتے ہوئے کہا، لیکن یہ تو میں ہی ہوں۔ فقیر نے کہا، صحیح کہا، اب تم جان گئے بھگوان کہاں ہے۔ تمہیں یہ بھی سمجھ میں آ گیا ہو گا، سب سے قیمتی کیا ہے۔

اس نوجوان کو یہ بات کتنی سمجھ میں آئی، نہیں معلوم۔ لیکن ہم سب یہ سمجھنے سے بہت دور ہیں کہ سب سے قیمتی کیا ہے؟ ہماری سب سے بڑی مشکل یہی ہے کہ ہم سب سے قیمتی چیز کو سنبھال پانے میں اہل نہیں ہیں۔ ہم سب قیمتی چیزوں کے جمع کرنے میں جٹے ہوئے شخص سے زیادہ کچھ اور نہیں ہیں۔ ہمیں لگتا ہے، خوشی باہر کی چیزوں پر انحصار کرتی ہے۔

اس لئے، ہم باہر۔ باہر ٹہلتے ہوئے من کی طرف سے اپنا منھ موڑتے رہتے ہیں۔ سب سے قیمتی کیا ہے؟ وہ جو ہمیں لگتا ہے۔ وہ، جسے دنیا قیمتی کہتی ہے۔ ایسے لوگ جسے قیمتی کہتے ہیں۔ جنہیں ہم بڑا مانتے ہیں۔

Loading...

قیمتی ہونے کی دلیل بہت نجی، الجھی ہوئی ہے۔ مجھے میرے گاؤں کا پرانا، کچا پکا گھر قیمتی لگ سکتا ہے۔ تو دوسری طرف میرے اہل خانہ شہر میں اپنے گھر کو سب سے زیادہ قیمتی مان سکتے ہیں۔ دنیا سے پوچھیں گے تو شاید وہ بھی قدر کی بنیاد پر ہی قیمت طئے کرے گا۔ اس لئے کسی بھی چیز کے قیمتی ہونے کا اندازہ لگانے کا کوئی بھی ایک ضابطہ مناسب نظر نہیں آتا۔ ہم جس تیزی سے بھاگ رہے ہیں وہاں سب سے انمول اب دل کا پرسکون ہونا ہے۔ ایسا کیا ہے جس کے پاس ٹھہر کر تھوڑا سا سکون مل جائے۔

میرے خیال میں ہم نے چارلس ڈارون کے ’ سب سے مضبوط ہی بچیں گے‘ والے اصول کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے کے ساتھ ہی کلیت میں نہیں سمجھنے کی بھی غلطی کی ہے۔

سب سے مضبوط کس سطح پر ہوں گے؟ یہ سوال تو کبھی اٹھایا ہی نہیں گیا۔ بس یہی مان لیا گیا کہ خود کو مشین کی طرح تیز بنانا ہے۔ یہ اصول تب تک ناقص ہے جب تک مضبوط ہونے میں من شامل نہیں ہو گا۔ صرف ہندوستان ہی نہیں، جاپان، امریکہ اور برطانیہ بھی ان ملکوں میں شامل ہو گئے ہیں جہاں من کی کمزوری سب سے بڑی تشویش بن رہی ہے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...