جیون سمواد: دکھ سے شرمندہ نہیں ہونا

دکھ کو سکھ کے پردے کے پیچھے رکھنے سے وہ گہرا ہی ہوگا۔ اس سے نجات کے لئے اسے سامنے رکھنا ہو گا۔ دکھ سے شرمندہ نہیں ہونا ہے۔

Nov 05, 2019 04:01 PM IST | Updated on: Nov 05, 2019 04:06 PM IST
جیون سمواد: دکھ سے شرمندہ نہیں ہونا

ہم دکھ سے دکھی ہوتے ہیں، شرمندہ ہوتے ہیں۔ دکھی ہونا آسان ہے۔ شرمندہ ہونا غیر فطری۔ اکیلے پن کی طرف بڑھتے سماج میں ہم اب دکھ سے شرمندگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے دکھ بڑے ہوتے جا رہے ہیں۔ دل پر وزن بڑھنے کے ساتھ وہ روح پر بھی بوجھ بڑھاتے جا رہے ہیں۔ ہمیں دکھ کو چھپانے کی ضرورت نہیں۔ اس کی وجہ سے ہی ہم نقلی خوشی کی طرف بڑھتے ہیں۔ دکھی ہیں تو دکھئے، رہئے لیکن اسے نقلی خوشی میں مت بدلئے۔ اس پر بات کر کے اسے دور کیجئے۔

دکھ کو سکھ کے پردے کے پیچھے رکھنے سے وہ گہرا ہی ہوگا۔ اس سے نجات کے لئے اسے سامنے رکھنا ہو گا۔ دکھ سے شرمندہ نہیں ہونا ہے۔ سکھ۔ دکھ راکٹ سائنس نہیں ہیں۔ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ گاؤں میں ایک بات بڑی اچھی ہوتی تھی، ہر چیز کا وقت طئے تھا۔ سکھ ہے تو اس میں سکھی ہونے کا، دکھ ہے تو اس میں دکھی ہونے کا۔ ہماری زندگی میں اجتماعیت اسی لئے ضروری ہے تاکہ اس سے مل کر ہنسا، رویا جا سکے۔ اکیلے۔ اکیلے گھٹتے رہنے کی بیماری شہری ہے۔ گاؤں کی روایت میں مل کر رہنے کا رواج مجھے سب سے خوبصورت بات لگتی ہے۔

چولہا سب کا اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ہی جلے گا لیکن ہم ایک دوسرے کا اتنا خیال تو رکھ ہی سکتے ہیں کہ آج سب کے یہاں چولہا جلا۔ ہم جو اس طرح اکیلے ہوئے جا رہے ہیں اس کی بنیاد میں ہمارا جڑوں سے کٹنا ہی تو ہے۔ ہم سب نے کنبہ کی شکل میں بنایا ایک ضابطہ توڑا ہے۔ ہم سب کے یہاں سکھ دکھ میں شامل ہوتے تھے۔ رونے کے لئے کندھے تھے تو ہنسنے کے لئے سب کا ساتھ تھا۔ رونے سے کوئی منع نہیں کرتا تھا۔ دہاڑیں مار کر رونے کا رواج ہندوستان میں پرانا ہے۔

Loading...

بچپن میں یہ سب عجیب لگتا تھا لیکن آج محسوس کرتا ہوں کہ یہ زندگی طاقت دینے والی تھی۔ آپ نے محسوس کیا ہو گا، سر پر چوٹ لگنے کی صورت میں ڈاکٹر سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ سر میں کہیں خون تو نہیں جم گیا، کیونکہ یہ دماغ کے لئے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔

ہمیں یہ بھی کرنا ہے۔ دکھی ہونے پر جم کر رو لینا ہے۔ یہ سوچ کر ٹھہرنا نہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ لوگ کچھ نہیں کہتے۔ جن کو آپ سے محبت ہے وہ آکر سنبھال لیتے ہیں۔ کچھ کہتے نہیں۔ اس لئے جب رونے کا من ہو رو لینا۔ اس سے دکھ من میں جمے گا نہیں۔ جم کر ’ کائی‘ نہیں بنے گا۔

من کو شرمندہ ہونے سے بچائیے۔ غلطی کو قبول کیجئے۔ آگے بڑھ جائیے۔ اٹکے مت رہئے۔ اگر سامنے والا مسلسل سمواد کے بعد بھی آپ کی بات سننے کو تیار نہیں تو خود کو اس سے آزاد کر لیجئے۔ اس کے دکھ کی آگ میں اپنے دل کو جلاتے مت رہئے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

 

Loading...