جیون سمواد: آنسو پر پہریداری

اگر ہم آنسوؤں کا تجزیہ کریں تو پاتے ہیں کہ ان میں متعدد اسٹریس ہارمون بھی پائے جاتے ہیں۔ اس لئے رونے سے، دماغ ہلکا ہوتا ہے۔

Dec 03, 2019 03:39 PM IST | Updated on: Dec 03, 2019 03:39 PM IST
جیون سمواد: آنسو پر پہریداری

سچن تیندولکر نے جب سے آنسو کو نہیں چھپانے، کھل کر رونے کی بات کہی ہے، سماج میں اس پر سمواد ہو رہا ہے۔ سچن نے آنسوؤں کو کمزوری نہیں سمجھنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ لکھتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ آپ کے مقبول کالم ’ ڈئیر زندگی: جیون سمواد‘ میں ہم یہ بات تقریبا تین سال سے کرتے ہوئے اس پر دھیان دینے کی بات کر رہے ہیں۔ اصل میں ہم نے اپنے دماغ کو تناؤ سے دور رکھنے کی جگہ اس پر پہرے لگا دئیے ہیں۔ آنسو کو اپنے اندر روکے رکھنا، اندر گھٹتے رہنا دماغ پر پہریدارے بٹھانے جیسا ہی ہے۔

اگر ہم آنسوؤں کا تجزیہ کریں تو پاتے ہیں کہ ان میں متعدد اسٹریس ہارمون بھی پائے جاتے ہیں۔ اس لئے رونے سے، دماغ ہلکا ہوتا ہے۔ بارش کے بعد جس طرح ہوا صاف، میٹھی اور دھل جاتی ہے ویسے ہی آنسو بہنے کے بعد ہمارا دماغ ہو جاتا ہے۔ اس کا مرد۔ عورت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بھید سماج سے آیا ہے۔ اس لئے، آنسو تھمنے کا کوئی مطلب نہیں۔ یہ اپنے کو سزا دینے کا کام ہے۔

Loading...

آنسوؤں کو ہم نے فطری طور پر قبول کرنے کی جگہ تنگی سے لیا۔ اس لئے، اسے محض خواتین سے جوڑ دیا۔ آئے دن ہم سنتے رہتے ہیں ’ کیا لڑکیوں کی طرح روتے رہتے ہو۔ مرد روتے ہوئے اچھے نہیں لگتے۔ لڑکوں کو لڑکیوں کی طرح نہیں رونا چاہئے‘۔ ایسی باتیں اصل میں یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ہم اپنے دماغ، شعور کے تئیں سائنسی سوچ سے بہت دور ہیں۔

ایک چھوٹا سا تجربہ کیجئے۔ ایسے لوگوں کی فہرست بنائیے جو تھوڑے حساس ہیں۔ حساسیت سے بات کرتے ہیں۔ مشکل وقت، احساسات مجروح ہونے پر غصہ ہو جاتے ہیں۔ آسانی سے رو دیتے ہیں۔ اب ایسے لوگوں سے ملائیے جو ایسا نہیں کرتے۔ آپ پائیں گے کہ رونے والے لوگ زیادہ صحت مند، مزے دار اور بہتر انسان ہوتے ہیں۔

جب بھی ایسی تکلیف ہو جس سے دل دکھی ہو گیا ہو۔ اندر گھٹن بڑھ گئی ہو تو رونے سے پرہیز نہیں کرنا چاہئے۔ کسی ایسے دوست، سہیلی کا انتخاب کیجئے جس کے سامنے دل کے بندھن کھولنے میں شرمندگی نہ ہو۔ اگر آپ کے قریب کوئی ایسا نہیں ہے تو اسے تلاش کریں۔ یہ ہمارے انسان بنے رہنے کی سمت میں سب سے ضروری کام ہے۔

ہماری ایک دوست ہیں جن کی ہنسی گھر کے باہر تک سنائی دیتی ہے۔ سادہ بات چیت میں بھی ان کی ہنسی کی گونج دور تک رس گھولتی ہے۔ اپنی ہنسی کے لئے وہ خاصی مقبول ہیں۔ وہ جتنی خوش مزاج ہیں اتنی ہی جذباتی بھی۔ اگر ایسا کچھ بھی ہو جس سے ان کے دل کو ٹھیس پہنچی ہو تو وہ آنسو نہیں روک پاتیں۔

ان کے شوہر اس سے فکرمند رہتے تھے۔ ایک بار انہوں نے یہ بات مجھ سے بھی کہی۔ میں نے ان سے اتنی درخواست کی کہ وہ پریشان نہ ہوں، جتنا جلد وہ بھی ایسا کرنے لگیں گے وہ بھی ان کی طرح ہو جائیں گے۔ زندگی میں سکھ اور سکھ میں ایک جیسا رہنے کا ایک مشق یہ بھی ہے کہ سکھ میں سکھی ہو جائیے، دکھ میں دکھی۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس سے نجات حاصل کر لیجئے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...