جیون سمواد: آپ مجھے نہیں جانتے

اصل میں ہم جتنے ’ چھوٹے‘ ہوتے ہیں ہمارا تکبر اتنا ہی بڑا ہوتا ہے۔ جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے جاتے ہیں، تکبر چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔ اس بڑے۔ چھوٹے کا عمر سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔

Nov 13, 2019 06:17 PM IST | Updated on: Nov 13, 2019 06:38 PM IST
جیون سمواد: آپ مجھے نہیں جانتے

اپنے کچھ ہونے کا احساس ہمارے اندر اتنا گہرا ہے کہ ذرا سی ٹھیس لگتے ہی دماغ میں اتھل پتھل مچ جاتی ہے۔ اسے اتنا بھی نہیں پتہ کہ میں کون ہوں۔ گھروں کی چوکیداری کرنے والے حفاظتی اہلکار، ائیرپورٹ پر رات دن سیکورٹی جانچ میں جٹے ہمارے ہی لوگوں کو دماغ کی اس اتھل پتھل سے ہونے والی بے چینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی کسی کو نہیں جانتا تو اس میں کس کا قصور ہے۔ اس کا جو نہیں جانتا، اس کا جسے نہیں جانا جا رہا؟

اصل میں ہم جتنے ’ چھوٹے‘ ہوتے ہیں ہمارا تکبر اتنا ہی بڑا ہوتا ہے۔ جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے جاتے ہیں، تکبر چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔ اس بڑے۔ چھوٹے کا عمر سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ یہ آپ کے ضمیر کی یاترا اور اس کے پھلنے۔ پھولنے کے طور طریقوں پر منحصر کرتا ہے۔

جئے پور لٹریچر فیسٹیول ہندوستان میں اپنی طرح کا ایک منفرد میلہ ہے۔ اس میں دنیا بھر سے مشہور لوگ جمع ہوتے ہیں۔ نوبل انعام یافتگان سے لے کر سیاست تک جو جتنا بڑا ہوتا ہے، یہاں وہ اتنی ہی انکساری سے پیش آتا ہے۔ اس کے برعکس چھوٹے۔ چھوٹے لوگ چال میں ٹھسک لئے ٹہلتے رہتے ہیں۔ وہاں کا تجربہ بتاتا ہے کہ اگر آپ کو احساس نہیں ہے کہ آپ ’ بڑے‘ نہیں ہو رہے ہیں تو آپ مسلسل چھوٹے ہوتے جائیں گے۔ اپنے بڑے ہونے کی پہلی جھلک ہی یہ ہے کہ ابھی کتنا کچھ باقی ہے، سیکھنے اور حاصل کرنے کے لئے۔

Loading...

دوسروں کے محلوں کو چھوڑئیے، اپنی اپنی کالونی میں ہی ہمیں ایسے لوگ ملتے رہتے ہیں جو اس بات سے پریشان نظر آتے ہیں کہ انہیں پہچانا نہیں جا رہا۔ انہیں کون سمجھائے کہ ان کے عظیم کارناموں کی اب تک کسی کو جانکاری نہیں مل سکی ہے۔

اپنے کو دوسروں سے بہتر سمجھنا، اتنا ہی غیر مناسب ہے جیسے دوسرے سے خود کو کمتر سمجھنا۔ زندگی میں توازن کا احساس کیسا ہو اس کی سب سے بڑی مثال خود پر کنٹرول سے سمجھی جا سکتی ہے۔ ہمارا دماغ اپنے آپ میں تحقیق کا موضوع  ہے۔ جتنا زیادہ خود کو جانیں گے، دوسروں کو جاننا اتنا ہی آسان ہوتا جائے گا۔

اپنے ہی دماغ سے ہم کئی بار بہت زیادہ انجان رہتے ہیں۔ اتنے زیادہ کہ اس کے اندر کیا ’ چل‘ رہا ہے اس بات کی ہمیں خبر نہیں ہوتی۔ اس لئے، ساری مصروفیت کے بعد بھی ہفتے میں ایک دن، اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو مہینے میں ایک دن ایسا ضرور نکالا جائے جب اپنے ہی دماغ کا پورا حساب کتاب کیا جائے۔ اپنے دماغ کو جاننا اور سمجھنا دنیا کے کسی بھی دوسرے کام کے مقابلے سب سے زیادہ ضروری کام ہے۔ اس لئے جتنا ممکن ہو اس سے ملتے جلتے رہیں۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...