جیون سمواد: پہلے خود کو سمجھانا

خاموشی کا مطلب چپ رہنا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب ہے کہ جتنا ضروری ہے اس سے بھی کم دو الفاظ ۔

Jul 18, 2019 01:44 PM IST | Updated on: Jul 22, 2019 05:24 PM IST
جیون سمواد: پہلے خود کو سمجھانا

اکثر موقع ملتے ہی ہم دوسروں کو کچھ سمجھانے لگتے ہیں۔ یہ عادت تو تقریبا سبھی میں پائی جاتی ہے۔ کسی میں کچھ کم تو کسی میں کچھ تھوڑی زیادہ۔ ایسے شخص سے ہم سب کبھی ملے ہیں جو ایسی کوشش نہیں کرتا، ایسا کہہ پانا کم از کم میرے لئے تو ممکن نہیں۔ خاموشی کی ہماری زندگی میں جتنی زیادہ اہمیت ہے، اتنا ہی زیادہ ہم اسے نظرانداز کرتے ہیں۔ خاموشی کا مطلب چپ رہنا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب ہے کہ جتنا ضروری ہے اس سے بھی کم دوالفاظ۔

ڈئیر زندگی‘ جیون سمواد کے قاری ڈاکٹر سدھانت ترویدی کچھ  دیر پہلے لکھنئو سے دہلی آئے۔ ہماری ملاقات ہوئی۔ زندگی میں پہلی بار میں کسی ایسے شخص سے مل رہا تھا جس نے اس ملاقات میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں کہا جس کی ضرورت نہ ہو۔

Loading...

سب کچھ ٹھیک ٹھاک۔ وہ کچھ بھی سمجھانے جیسا کرتے ہی نہیں۔ ڈاکٹر ہونے کے بعد بھی ایسا لگتا ہے کہ مانئے انہوں نے خاموشی کو گہرائی سے اپنی زندگی میں اتار لیا ہے۔ یہ ایک گہرے مشق اور طرز زندگی سے زندگی میں اترا ہوا عنصر ہے۔

ان سے ملاقات کے بعد میرا یہ یقین مزید پختہ ہوا کہ ہر کسی کو سمجھانے کے تئیں ہمارے رویہ میں کتنی زیادہ اصلاح کی گنجائش ہے۔ ہم دوسروں کو جو دینے کی کوشش کرتے ہیں سب سے زیادہ وہی ہے جو ہمارا تجربہ ہے۔ ہر کسی کا اپنا ایک تجربہ ہے۔ ہم سب اپنے اپنے تجربات کی چادر میں لپٹے ہوئے لوگ ہیں۔ ایک دوسرے کو’ سمجھانے‘ میں جٹے ہوئے! خود سے بے خبر!۔

آئیے، آج سے چھوٹا مشق کرتے ہیں۔ کسی کو کچھ مت سمجھائیں۔ پوچھے گئے سوال کا جواب دیجئے۔ شک وشبہ کا جس قدر جلدی ہو سکے، نمٹارا کیجئے۔ لیکن اپنی طرف سے تجاویز دینے بند کیجئے۔  یہ بہت مشکل لگتا ہے، کیونکہ اس میں ہم نے خود کو مختلف طرح کی ذمہ داریوں سے باندھ لیا ہے۔

ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے بغیر اس زمین کا گزارا بہت مشکل ہے۔ خود کو بہت سنجیدگی سے لینے، مخصوص ماننے کے چکر میں ہم معمول کی زندگی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس وقت جس تیزی سے ڈپریشن بڑھ رہا ہے ، خود کشی کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کے پیچھے خود کو اتنا بڑا مان لینے کی عادت ہے کہ زندگی میں چھوٹے موٹے اتار چڑھاؤ کو بھی ہم بڑی مصیبت مان لیتے ہیں۔ اس لئے درحقیقت اس پوری کائنات میں ہمارا وجود کتنا ہے، اس کے لئے ٹھیک ٹھیک مثال ملنا بھی مشکل ہے۔

اس لئے ضروری ہے کہ خود کو سمجھنے اور سمجھانے پر سب سے زیادہ زور دیا جائے۔ زندگی بہت مختصر ہے اسے بہت گہرائی سے جینے کی ضرورت ہے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...