جیون سمواد: ذہنی نشو ونما

ہم دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت کو لے کر زیادہ سنجیدہ ہیں۔ ہمارے اندر کیا چل رہا ہے، اس بات کی طرف توجہ بہت کم جاتی ہے۔

Aug 27, 2019 01:22 PM IST | Updated on: Aug 27, 2019 01:22 PM IST
جیون سمواد: ذہنی نشو ونما

زندگی کیلئے جو ہم نے چنا، اس کے مطابق ہی خود کو تیار کرنا ہوگا۔ اپنی چاہت کو آرزو بناتے وقت  ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم اکثر دوسروں کو برداشت کرنے کی باتیں کرتے رہتے ہیں لیکن کسی کو سمجھنے اور برداشت کرنے سے کہیں زیادہ خود کو برداشت کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

ہم دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت کو لے کر زیادہ سنجیدہ ہیں۔  ہمارے اندر کیا چل رہا ہے، اس بات کی طرف توجہ بہت کم جاتی ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ زیادہ تر لوگ کہتے رہتے ہیں ، میں اب اسے برداشت  نہیں کرسکتا۔ میری برداشت کرنے کی بھی ایک حد ہے!۔ یہ حد کیا ہے ؟ اسے کیسے طے کیا جائے۔ ہم اس پر کبھی غور و فکر نہیں کرتے ہیں۔ ہمارا طرز زندگی کچھ  اس طرح کا ہو گیا ہے کہ ہم نے خود کو خود سے دور کردیا ہے۔  میں کیا ہوں، میں کیا کر رہا ہوں ۔ یہ سوالات ہمیں ہمیشہ محتاط بنائے رکھتے ہیں۔

ہمارے درمیان تناؤ کی کیا وجہ ہے؟ تناؤ ہوا میں  پیدا نہیں ہوتا ہے۔ وہ کسی نہ کسی کی جگہ لیتا ہے۔ وہ جگہ لیتا ہے، محبت ، پیار اور قربت کی۔  اس قربت کی جس کی کمی سے ہماری روح خشک ہو چلی ہو۔
Loading...

 سردیوں کے دنوں میں کھال خشک ہو جاتی ہے تو آپ کریم کا سہارا لیتے ہیں۔ دوسری تدبیریں اپناتے ہیں۔ گرمی کی لو سے بھی بچنے کے کئی طریقے ہیں۔ اس طرح آپ پائیں گے کہ آپ جسم کے لئے موسم کے مطابق ، اس کی ضرورت کے مطابق تدبیریں کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ ہمارا ذہن جو زندگی کی سب سے بڑی بنیاد ہے ، اس کے لئے کوئی ٹھوس تدبیر نہیں کرتے ہیں۔

ہم جب تک ذہن تک خیالات پہنچنے والی پائپ لائن کو ٹھیک نہیں کریں گے۔ ذہن کی نشو ونما ممکن نہیں۔ ذہن کی صفائی سطح پر کرنے سے ہی بات نہیں بننے والی۔  اس کیلئے گہرے اترنا ہوگا۔ بغیر ڈرے، جھجھکے! اکثر ہم اپنے ہی ذہن میں اترنے سے ڈرنے لگتے ہیں۔

ہمیں لگتا ہے کہیں ہماری کوئی غلطی، چوک ہمیں ہی نہ نظر آجائے، ارے! جب خصوصیات آپ کی اپنی ہیں۔ قصور کسی اور کے تھوڑے ہوئے۔ سب تمہارا ہی ہے۔ اپنے اندر گہرے اترنا ایک  مشق ہے۔ خود کو سمجھنے کا۔ اپنے آپ کو فراخ دل ، پیار کرنے اور بہتر بنانے کیلئے  اس سے بہتر کچھ بھی  نہیں ہے۔

شملہ سے آرتی شری واستو  "جیون سمواد" کے بچوں کے بارے میں ذرائع سے بیحد متاثر ہیں۔ جیسے ہی میں نے "بچے ہم سے ہیں ہمارے لئے نہیں" کے ذریعہ کو اپنایا۔ بچوں کو لیکر نظریہ ہی بدل گیا۔ ان کی پرورش، مدد کرنی ہے لیکن ان سے اپنے لئے بدلے میں کوئی اور امید نہیں رکھنا ہے۔

ہمیں ذمہ داری تو نبھانی ہوگی ، لیکن بدلے میں، خود بچوں پر توقع کا بوجھ نہیں لادنا ہے۔ روح پر یہ سب سے گہرا وزن ہوتا ہے۔ جوخود کو اس سے نکال لے گئے، بچا پائے ان کا ذہن  ہی سب سے زیادہ خوش ہے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...