جیون سمواد: خود سے شرمندہ نہیں ہونا

ہم اپنے ’ کچھ‘ ہونے کو اپنے سے بھی زیادہ ضروری ماننے لگے ہیں۔ خود سے زیادہ قیمتی کسی بھی چیز کو ماننے پر زندگی کے لئے اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔

Oct 10, 2019 01:48 PM IST | Updated on: Oct 10, 2019 01:48 PM IST
جیون سمواد: خود سے شرمندہ نہیں ہونا

کچھ وقتوں پہلے مدھیہ پردیش کے اندور سے ایک خبر آئی۔ کثیر قومی کمپنی میں کام کرنے والے نوجوان نے نوکری جانے کے بعد خودکشی کو چنا۔ ان کے پاس ایک شاندار گھر، باپ کی ماں کو ملنے والی اچھی پنشن اور گاؤں میں زمین بھی تھی۔ وہ ملازمت جانے کو اپنے وقار سے اتنا زیادہ جوڑ کر دیکھ رہے تھے کہ اس کے بغیر اپنے وجود کا وہ تصور ہی نہیں کر سکے۔ ان دنوں نوجوانوں کے درمیان یہ پریشانی زیادہ دیکھی جا رہی ہے کہ وہ اپنے ’ اسٹیٹس‘ کو لے کر بہت زیادہ تناؤ میں رہتے ہیں۔ ان کے لئے ان کا اسٹیٹس زندگی سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتا جا رہا ہے۔

ہم اپنے ’ کچھ‘ ہونے کو اپنے سے بھی زیادہ ضروری ماننے لگے ہیں۔ خود سے زیادہ قیمتی کسی بھی چیز کو ماننے پر زندگی کے لئے اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔

یہاں جن کے بارے میں بات کی جا رہی ہے ان کے بارے میں دو باتیں واضح کرنی ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ ایک اچھی ملازمت میں تھے۔ ان کی نوکری اس لئے گئی کیونکہ کمپنی نے اپنی متعلقہ یونٹ بند کر دی تھی۔ دوسری، ان کے سامنے معاشی بحران نہیں تھا۔ کچھ دن جمع پونجی، وراثت میں ملی املاک کی بنیاد پر نکالے جا سکتے تھے۔ سب کچھ آسانی سے ہو سکتا تھا، اگر انہوں نے اسے اپنی انا سے جوڑا نہیں ہوتا۔
Loading...

آپ کو یہ بات عجیب لگ سکتی ہے کہ اسے انا کیوں کہا جا رہا ہے۔ یہ تو ہمدردی کا موضوع ہونا چاہئے۔ یقینی طور پر یہ ہمدردی کا موضوع بھی ہے، لیکن ایک یقینی حد تک۔

 ہم عہدہ اور دولت سے حاصل ہونے والے وقار کو لے کر زیادہ بیدار اور حساس ہو گئے ہیں۔ اسے ایسی چیزوں سے جوڑ کر دیکھتے رہتے ہیں کہ جن پر ہمارا کنٹرول بیحد محدود ہوتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسے تجربات کا سامنا کیا ہے جہاں ایسے سوال اکثر آ جایا کرتے تھے۔ لوگ کیا کہیں گے؟ یہ ہمارے دماغ کی سب سے بڑی بیماری ہے!  ارے، لوگوں کو سانس لینے کی فرصت نہیں ہے۔

دنیا اپنے میں مصروف ہے۔ جن کو فرق پڑتا ہے وہ آپ کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ہمارے ساتھ سب سے بڑا بحران یہی ہوتا ہے کہ ہم جن سے پیار کرتے ہیں، جن کے لئے جیتے ہیں ان کے علاوہ سب کی باتیں سنتے ہیں۔

 ملازمت جانے پر ، معاشی بحران سنگین ہونے پر ماں۔ باپ کہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کنبہ کہتا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ سب مل کر لڑیں گے۔ لیکن آپ اسے اپنے وقار سے جوڑے ہوئے ہیں۔

حالات کیسے بھی ہوں ہمیں ہار نہیں ماننی ہے۔ انسان کی سب سے بڑی ذمہ داری مخالف حالات سے مقابلہ کرنا ہے۔ کنبہ، دوست اور سماج سے مدد لینے کا مطلب چھوٹا ہونا نہیں ہے۔ جتنی جلدی ہم اسے سمجھ لیں گے، اتنی ہی جلدی سے خود کو بحران کے حالات سے نجات حاصل کر لیں گے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...